ٹرمپ بھارت پر مہربان، پاکستان کیلئے سخت : مسلمانوں میں بے چینی

ٹرمپ بھارت پر مہربان، پاکستان کیلئے سخت : مسلمانوں میں بے چینی
ٹرمپ بھارت پر مہربان، پاکستان کیلئے سخت : مسلمانوں میں بے چینی

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی پر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ بھارت کیلئے اچھے لیکن پاکستان کے لئے مشکل صدر ثابت ہو سکتے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق ٹرمپ کی جیت سے امریکہ کے بھارت کی طرف جھکاﺅ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ امریکہ کی طرف سے پاکستان پر اسلامی عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کے الزامات اور پاکستان کی طرف سے مسلسل تردید کی وجہ سے واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات کچھ عرصہ سے متاثر ہیں۔ خاص طور پر پاکستان کے علاقے میں ڈرون حملے میں افغان طالبان کے لیڈر کی ہلاکت کے بعد اس کے علاوہ رواں سال سے روایتی حریف پاکستان اور بھارت کے تعلقات بھی کشیدہ ہیں۔ بھارت کشمیر میں فوجی اڈے پر حملے اور وہاں 19 فوجیوں کی ہلاکت کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیتا ہے۔

روزنامہ پاکستان کی تازہ ترین اور دلچسپ خبریں اپنے موبائل اور کمپیوٹر پر براہ راست حاصل کرنے کیلئے یہاں کلک کریں‎

دوسری طرف پاکستانیوں کی اکثریت ٹرمپ کو مسلمان مخالف سمجھتی ہے۔ تجزیہ نگار حسن عسکری رضوی کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ پاکستان سے منہ نہیں موڑے گا تاہم ٹرمپ پاکستان کیلئے ہلیری کلنٹن سے زیادہ سخت صدر ثابت ہونگے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے تاحال جنوبی ایشیا کیلئے اپنی پالیسی کی تفصیلات واضح نہیں کیں تاہم انہوں نے حال ہی میں مسئلہ کشمیر پر بھارت اور پاکستان میں مصالحت کرانے کی پیشکش کی ہے۔ پیپلزپارٹی کی رہنما اور امریکہ سابق پاکستانی سفیر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ ایک وائلڈ کارڈ ہیں۔ ٹرمپ کے مسلمان مخالف خیالات امریکہ پاکستان تعلقات پر اثر انداز ہوں گے۔ بھارت کی طرف جھکاﺅ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بھارتی تھنک ٹینک انڈیا فاﺅنڈیشن کے ڈائریکٹر ساوریا ڈوال کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جیت بھارت کیلئے مثبت پیش رفت ہے۔ تاہم ڈوال کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جیت بھارت کیلئے مثبت پیش رفت ہے۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

تاہم ڈوال کا کہنا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے تعلقات شخصیات پر مبنی نہیں بلکہ یہ مضبوط ارادوں پر مشتمل ہیں۔ دوسری طرف ٹرمپ کے مسلمانوں کے خلاف بیانات پر دنیا بھرمیں مسلمانوں میں ٹرمپ کی جیت پر بے چینی اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

مزید :

اسلام آباد -