ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج تیسرے روز بھی جاری،ایک اور بچی دم توڑ گئی،ہلاکتیں دو ہوگئیں

ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج تیسرے روز بھی جاری،ایک اور بچی دم توڑ گئی،ہلاکتیں دو ...
 ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج تیسرے روز بھی جاری،ایک اور بچی دم توڑ گئی،ہلاکتیں دو ہوگئیں

  

لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک)ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج تیسرے روز بھی جاری ہے جس کے باعث ایک اور بچی دم توڑ گئی،مجموعی ہلاکتوں کی تعداد دو ہو گئی ۔

میڈ یا رپورٹس کے مطابق ینگ ڈاکٹرز کاتیسرے روز بھی احتجاج جاری ہے جس کے باعث ایک اور بچی دم توڑ گئی اورمجموعی ہلاکتیں دو ہوگئیں جبکہ ادھر مال روڈ بلاک ہونے سے عوام کو شدید پریشانی کا سامنا ہیں۔بچی کے ماموں کے مطابق دوسالہ ثناءکو جسم پر چائے گرنے کے سبب چار دن پہلے میو ہسپتال کے برن یونٹ لایا گیاتھالیکن ہڑتال کے باعث ڈاکٹروں نے بچی پر توجہ نہ دی جس کے سبب دو سالہ ثنا کے زخم کینسر میں تبدیل ہو گئے ۔بچی کی طبیعت زیادہ خراب ہونے پر اہل خانہ نے ڈاکٹروں سے منت سماجت کی تو جواب ملا کہ مال روڈ چلے جائیں تمام ڈاکٹرز وہاں سڑک پر موجود ہیں۔بلآخر بچی ڈاکٹروں کی ہڑتال کی بھینٹ چڑھ گئی۔

چک جھمرہ میں مبینہ بجلی چوروں کی فائرنگ سے میٹر ریڈر زخمی

گزشتہ روز بھی محمد صادق نامی شخص دل کا دورہ پڑنے کے سبب دم توڑ گیا تھااس وقت بھی ڈاکٹرز نے بڑی بے حسی کا مظاہر ہ کیا تھا۔ مشیر صحت پنجاب سلمان رفیق نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز کو نوٹس دے دیئے گئے وہ معافی مانگ کر واپس آجائیں،دو تین دن میں مسئلہ حل کرلیا جائیگا، اگر ڈاکٹرز پھر بھی واپس نہیں آئے تو انہیں فارغ کرکے نئے ڈاکٹرز کو بھرتی کیا جائیگا۔اموات کے معاملے پر بھی تحقیق کر رہے ہیں۔ مذہبی سکالر مفتی زبیر نے کہا ہے کہ ڈاکٹرز کے احتجاج کا طریقہ کار ٹھیک نہیں ہے،لوگوں کی جانوں کے ضیاءکو روکا جائے،جبکہ حکومت کو بھی تمام معاملے پر لچک دکھاکر معاملے کو جلد از جلد حل کرنا چاہئے۔

مزید :

لاہور -