پاکستان سے ڈی پورٹ ہونے کے بعد افغانستان نے ’شربت گلا‘ کیلئے ایسی درخواست کردی کہ پاکستانی حیران پریشان رہ جائیں

پاکستان سے ڈی پورٹ ہونے کے بعد افغانستان نے ’شربت گلا‘ کیلئے ایسی درخواست ...
پاکستان سے ڈی پورٹ ہونے کے بعد افغانستان نے ’شربت گلا‘ کیلئے ایسی درخواست کردی کہ پاکستانی حیران پریشان رہ جائیں

  

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان سے ڈی پورٹ ہونے کے بعد افغان حکام نے نیشنل جیوگرافک کیلئے ایک تصویر سے شہرت پانیوالی افغان مونالیزا”شربت گلا‘ کے ہیپاٹائٹس سی کے علاج کیلئے بھارت سے رابطہ کرنے کافیصلہ کرلیاہے اور قوی امکان ہے کہ بھارت انکار نہیں کرے گا تاہم بھارتی حکام باضابطہ درخواست کے منتظر ہیں۔

صدر منتخب ہوتے ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسا کام کر دیا کہ سب کو حیران کر دیا، مسلمانوں کے حق میں بڑا قدم اٹھا لیا

انڈیا ٹائمز کے مطابق غیرقانونی طورپر پاکستانی شناختی کارڈ بنانے کے الزام میں گرفتار ہونیوالی شربت گلاکو رواں ہفتے کے آغاز میں پاکستان سے ڈی پورٹ کیاگیاتھا جبکہ اس کے پاس افغانستان کا پاسپورٹ بھی تھا۔ گرفتاری کے بعد امیگریشن کورٹ سے شربت گلا کو دھوکہ دہی کی مجرم ٹھہرایاگیا اور پندرہ دن قید، ایک لاکھ روپے سے زائد جرمانہ اور سزا پوری ہونے کے بعد ڈی پورٹ کرنے کا حکم دیاگیا، سزاپوری ہونے کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے شربت گلاکو ڈی پورٹ نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس ضمن میں وفاق سے بھی رابطہ کیا لیکن افغان حکومت کی جانب سے مراعات کے اعلان کے بعد شربت گلانے خودہی پاکستان میں رہنے سے انکار کردیاجس کے بعد طورخم بارڈ رپر افغان حکام کے حوالے کردی گئی ۔ دوسری طرف گرفتاری کے بعد وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان بھی واضح کرچکے تھے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر شربت گلا کی رہائی کیلئے قانونی ماہرین سے مشاورت کررہے ہیں تاہم شناختی کارڈ بناکردینے میں ملوث نادرا اہلکاروں کو نہیں چھوڑیں گے ۔

وزیر دفاع اپنے ’دفاع‘ میں کامیاب، پی ٹی آئی خواجہ آصف کی وکٹ گرانے میں ناکام،این اے 110 میں دھاندلی سے متعلق اپیل خارج

رپورٹ کے مطابق ’افغان مونالیز‘ ہیپاٹائٹس کی شکار اور علاج کی ضرورت مند ہیں ، مبینہ طورپر ان کا خاوند اور بیٹے بھی اسی مرض کی وجہ سے موت کی وادی میں جاچکے ہیں۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ شربت گلااپنی گہری سبزآنکھوں کی وجہ سے شہرت رکھتی تھیں اور انہی ’شربتی آنکھوں‘ کی وجہ سے1985ءمیں نیشنل جیوگرافک کے کور پیج کی زینت بھی بن چکی ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -