میڈیا کی حد کیا ہے؟

میڈیا کی حد کیا ہے؟
میڈیا کی حد کیا ہے؟

  

تحریر:  آمنہ ظفر

پاکستان میں میڈیا آزاد ہے مگر مادر پدر۔۔۔ اسکی نہ کوئی حدود مقرر ہورہی ہیں نہ معاشرے پر اسکے مثبت اثرات مرتب ہورہے ہیں۔سرل المیڈا کی خبر نے پاک فوج اور سول حکومت کے درمیان جو تناؤ پیدا کیا ہے اسکا فائدہ دشمن ملکوں نے خوب اٹھایا ہے ۔ان کے اس عمل سے جمہوریت کو شدید دھچکا لگنے کی قیاس آرائیاں بھی کی جارہی ہیں اور میڈیا کی بے لگامی کا بھی سوال اٹھایا جارہا ہے۔اس بات سے اندازہ کرلین کہ سرل المیڈا کو بھی اس خبر کی حساسیت کا علم تھا ،اسی وجہ سے وہ ملک چھوڑ کر چلا گیا۔پاکستان کے سوا کسی ایسے ملک میں جنگی حالات تو کیا عام معمول کے حالات میں بھی ایسی قومی حساس خبروں کو نہیں اچھالا جاتا۔ہر ملک میں میڈیا اپنی حد میں رہتا ہے ۔چین،روس،انڈیا،سعودیہ،ترکی خود برطانیہ فرانس اور امریکہ و اسرائیل میں بھی میڈیا قومی اور حساس حدود کی کھینچی ہوئی لکیر تک نہیں پہنچتا۔مگر پاکستان میں میڈیا پورس کا ہاتھ بن کر قومی سلامتی کو روندنے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ میڈیا کو ملک کی سلامتی اور ترقی کے ضمن میں صف اوّل کاکام کرنا چاہئے۔

جرنلزم کی طالبہ ہونے کے ناطے مجھے یہ بات بہت بری طر ح پریشان کرتی ہے کہ ہمیں میڈیا کی جو تعلیم دی جاتی ہے اسکے برعکس عملی زندگی میں ایک صحافی کچھ اور گل کھلارہا ہوتا ہے۔اسکی بے حسی اور غیر ذمہ داری دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ کیاہم کو بھی آنے والے کل میں یہی کچھ کرنا ہوگا۔

اساتذہ ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ میڈیا کسی بھی ملک کی آنکھ کان اور آکسیجن ہے۔ میڈیا آزاداور ضابطہ اخلاق کا پابند ہوتو یہ اپنی قوم کو مکمل آگاہی فراہم کرتا ہے،اسی وجہ سے میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون بھی مانا جاتا ہے ۔ صحافی کا کام غیر جانبداری سے خبروں کی سچائی اور حقائق کو ایک معیار کے ساتھ چھاپنا ہوتا ہے تاکہ لوگوں کو اپنی رائے بنانے میں آسانی ہو۔ جس طرح کمان سے نکلا ہوا تیر واپس نہیں آسکتااسی طرح قلم اورزبان سے نکلے ہوئے لفظ بھی واپس نہیں آسکتے۔ اور جو صحافی خبر کی سچائی اور اسکی اہمیت پر کوئی کمی برداشت نہیں کرتا ، اس کو عوام کے سامنے لانے سے پہلے اس کی مکمل تحقیقات اورشواہد جمع کرنا چاہئیں ۔چونکہ صحافی کا نقطہ نظر عام آدمی سے بالکل مختلف ہوتا ہے لہذااُسکی ذمہ داری میں شامل ہے کہ وہ میڈیا کے ضابطۂ اخلاق جو وقتاًفوقتاًمختلف ایسوی ایشن بناتی رہتی ہیں انکی پیروی کرے اور اپنے ذاتی مفاد کو ملکی مفاد پر ترجیح دے ۔کیونکہ صحافی بھی اس ملک کا حصہ ہوتے ہیں اور انہیں چاہیے کہ ملکی سلامتی کے معاملات میں سمجھوتابرداشت نہ کریں۔ لیکن ہمارے ہاں ایک نیا تصورعروج پارہاہے۔

"Doctors without borders Journalist without borders

یعنی پوری دنیا کے ڈاکٹر اورجرنلسٹ جو چاہے مرضی کرسکتے ہیں۔انکی حدود کا کوئی تعین نہیں ہے۔ کسی بھی ملک کی آزادی اُس کو اِس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ضابطہ اخلاق پر عمل پیرانہ ہوں ۔پھر ایک ایسا ملک جہاں کسی کی لاش کو نہیں دکھایا جاسکتا ،خون کے قطروں کو نہیں دکھایا جا سکتا اور نہ ہی سنگین صورتِ حال دکھانے کی اجازت ہے جس سے لوگوں کی زندگیوں پر برُے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔وہاں گورنمنٹ اور حساس اداروں کے درمیان ہونیوالی میٹنگ جو قومی معاملات کے امور زیربحث لارہی ہو یا ا ن خاص ڈاکومنٹس جن کا تعلق کسی حساس معاملے سے ہو دکھانے کی اجازت نہیں ہوتی لیکن میڈیا ان ایشوز کو اچھالے گا تو اس ملک کی تقدیر پھوٹ سکتی اور دشمنوں کے ہاتھ مضبوط ہوسکتے ہیں ۔یہ الگ بات ہے کہ وہ خاص ڈاکومنٹس گورنمنٹ اپنی مرضی سے ایک مقررہ مدت کے بعد لیک کردے تو ان کو شائع کردیا جائے جیسا کہ امریکہ میں ہوتا ہے۔ یہ تو گویا ایسی بات ہے کہ اس طرح اگر کسی صحافی کو ایٹم بم بنانے کا طریقہ کار کا پتہ چل جائے تو وہ اس کو بھی شائع کرنے کے حق پر بضد ہوجائے۔حالانکہ اسکی صحافتی ذمہ داری ہر گز اس بات کی اجازت نہیں دیتی۔اپنا سکوپ بنانے کے لئے وہ اپنی قومی سلامتی کا سودا کرتا ہے اور اسکا فائدہ بین الاقوامی میڈیا یا پھر ہمارے دشمنوں کو ہوتاہے ۔ اپنے ملکی مفاد کو پہچاننا اور اس پر ڈٹ جانا ہی صحافی کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔اس لیے صحافتی تنظیموں اور خود میڈیا مالکان کو چاہیے کہ صحافیوں کو جرنلزم کے ضابطہ اخلاق کی تربیت دیں اور عملی زندگی میں بھی اس بات کی اجازت نہ دیں کہ وہ قومی سلامتی کے حساس موضوعات کو اچھالنے کی کوشش کریں ۔

(بلاگر آمنہ ظفر پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات میں فائنل ائر کی طالبہ ہیں)

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -