نوکری کیلئے سعودی عرب گئے شہری کو کفیل نے جنسی غلام بنا لیا اور پھر۔۔۔ ایسا واقعہ کہ سن کر ہی انسان کانپ اٹھے

نوکری کیلئے سعودی عرب گئے شہری کو کفیل نے جنسی غلام بنا لیا اور پھر۔۔۔ ایسا ...
نوکری کیلئے سعودی عرب گئے شہری کو کفیل نے جنسی غلام بنا لیا اور پھر۔۔۔ ایسا واقعہ کہ سن کر ہی انسان کانپ اٹھے

  

کولکتہ (مانیٹرنگ ڈیسک) اچھی نوکری کی تلاش میں بہت سے لوگ بیرون ممالک کا رخ کرتے ہیں لیکن چند افراد ہی پردیس میں اچھا کام تلاش کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور بہت سے لوگ یا تو واپس آ جاتے ہیں یا پھر ان کے ساتھ کچھ ایسے واقعات پیش آ جاتے ہیں جو دوسروں کیلئے بھی باعث عبرت ہوتے ہیں۔

نوجوان لڑکی نے اپنا جسم انٹرنیٹ پر فروخت کیلئے پیش کردیا لیکن وجہ ایسی کہ جان کر غصہ کرنے کی بجائے آپ کا دل مدد کرنے کو کرے گا

ایسا ہی ایک واقعہ بھارتی شہری کے کیساتھ بھی پیش آیا جو گاڑیوں کے شعبے میں انجینئرنگ کے بعد اچھی نوکری کی تلاش کیلئے سعودی عرب گیا لیکن اسے مبینہ طور پر ایک سعودی شہری کے اونٹوں کے فارم پر کام کرنے کیلئے غلام بنا کر بیچ دیا گیا۔ بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق جیانت بسواس کے اہلخانہ نے اپنے لخت جگر کی واپسی کیلئے وزارت خارجہ سے رابطہ کیا ہے تاہم اب تک ان کی کوئی شنوائی نہیں ہو سکی۔

جایانت کی بڑی بہن گوری بسواس کا کہنا ہے کہ ”ہم بھارتی حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ میرے بھائی کو واپس لانے کیلئے اقدامات کرے۔ ہم بے بس ہو چکے ہیں۔“

گوری نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ”ایجنٹس نے میرے بھائی کو وزٹ ویزا پر ریاض جانے والی پرواز پر سوار کیا۔ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ تین سے چار مہینے بعد کام کیلئے ویزہ اور نوکری بھی دلوائیں گے۔ ان کی یقین دہانی پر جایانت 15 مئی کو ریاض پہنچا اور پھر اسے اونٹوں کے فارم پر کام کرنے کیلئے ایک سعودی شہری کو بیچ دیا گیا۔“

گوری نے دعویٰ کیا کہ ” اسے مزدوروں کی طرح کام کرنے پر مجبور کیا گیا ہے اور دن میں صرف ایک بار ہی کھانا دیا جاتا ہے۔ جیانت کو خریدنے والے شخص نے اسے جنسی ہوس نشانہ  بنایا ۔ جیانت نے ایک بار اپنے ’مالک‘ کے گھر سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا اور ا اسے شدید تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔“

گوری نے بتایا کہ بعد ازاں وہ کسی طرح وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا اور ریاض میں واقع بھارتی سفارتخانے سے مدد طلب کی جنہوں نے اس کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد اسے ایک این جی او بھیج دیا ہے۔

گوری نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ”جیانت کے فرار پر مشتعل اس کے ’مالک‘ نے جیانت کے خلاف 10,000 ہزار ریال چوری کا مقدمہ درج کرا دیا جس پر اسے جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ جیل سے ہی اس نے کسی طرح ہم سے رابطہ کیا اور یوں ہمیں اس کی حالت میں بارے میں پتہ چلا۔ ہم نے ایجنٹس کیساتھ رابطہ کیا تو انہوں نے جیانت کی رہائی کیلئے 35,000 روپے طلب کئے جو ہم نے دیدیئے اور میرے بھائی کو 27 اکتوبر کو جیل سے رہا کر دیا گیا۔“

’مردوں کی اس ایک چیز کو خواتین مال و دولت سے بھی زیادہ اہمیت دیتی ہیں‘ جدید تحقیق میں ایسا انکشاف سامنے آگیا جو کبھی کسی مرد نے سوچا نہ تھا

اگرچہ جیانت جیل سے رہا ہو چکا ہے لیکن اس کے اہل خانہ کو اس کی واپسی سے متعلق کوئی علم نہیں ہے۔ اس کے والد رویندرا ناتھ بسواس نے وزارت خارجہ سے مدد کی اپیل کیلئے لکھا ہے۔ گوری نے بتایا کہ ”ہم نے وزیر خارجہ سشما سوراج کو مدد کیلئے لکھا ہے لیکن تاحال شنوائی نہیں ہوئی، ہم چاہتے ہیں کہ وزارت خارجہ سخت ایکشن لے۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -