کوہستان ویڈیو سکینڈل، لڑکیاں زندہ یا قتل کر دی گئیں؟سپریم کورٹ کا سیشن جج کو دو ہفتے میں رپورٹ جمع کرانیکا حکم

کوہستان ویڈیو سکینڈل، لڑکیاں زندہ یا قتل کر دی گئیں؟سپریم کورٹ کا سیشن جج کو ...
کوہستان ویڈیو سکینڈل، لڑکیاں زندہ یا قتل کر دی گئیں؟سپریم کورٹ کا سیشن جج کو دو ہفتے میں رپورٹ جمع کرانیکا حکم

  

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں کوہستان ڈانس ویڈیو سکینڈل کے حوالے سے کیس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں ہیں، جسٹس شیر عالم پر مشتمل دو رنکی بینچ نے کیس کی سماعت کی، عدالت نے ڈی پی اور کوہستان اور سیشن جج کوہستان کو حکم دیا ہے کہ چاروں لڑکیوں کے قتل یا زندہ ہونے سے متعلق رپورٹ دو ہفتوں کے اندر سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے، سپریم کورٹ میں افضل کوہستان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان تین بھائیوں کو قتل کر دیا گیا ہے اور جائیداد پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور ان کو گھر سے نکال دیا گیا ہے، کوئی بھی آدمی قاتلوں کے خلاف گواہی دینے کو تیار نہیں، ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے عدالت کو بتایا کہ 46افراد کی تفتیشی کی گئی ہے اس حوالے رپورٹ جمع کروا دی گئی ہے اس کیس سے متعلق کو کوئی نئے شواہد سامنے نہیں آئے.

مبینہ طور پر قتل ہونے والی لڑکی آمنہ اختر سرفراز کے چچا حبیب الرحمان نے عدالت کو بتایا کہ میری بھتیجی آمنہ زندہ ہے اس کو قتل نہیں کیا گیا اور وہ مانسہرہ میں تحصیل پارس کے گاؤں کرٹے میں رہتی ہے میں حلفاً کہہ رہا ہوں کہ زندہ ہے اس کو کسی نے قتل نہیں کیا، سماجی کارکن فرزانہ باری نے عدالت کو بتایا کہ اس ویڈیو میں چارئی کہاں تھیں آمنہ، شیری جان، بیگم جان اور بازغا ہیں، لیکن بازغا ویڈیو میں نہیں آرہی ان کو قتل کر دیا گیا ہے جو لڑکیاں ان کے نام سے زندہ ثابت کی جارہی ہیں، ان کو عدالت میں بلایا جائے تو سب پتہ چل جائے گا جس پر جبیب الرحمان کے وکیل غلام مصطفیٰ نے کہا کہ ان کے قبیلے کی روایات ایسی ہیں کہ وہ لڑکیوں کو گھر باہر بھیجنے کو اپنی بے عزتی تصور کرنے ہیں.

جسٹس اعجاز افضل نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اس خاندان کی دوسری لڑکیاں اس بات کی تصدیق کریں کہ یہ وہ لڑکیاں زندہ ہیں یا نہیں، عدالت نے ڈی پی اور اور سیشن جج کوہستان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس حوالے سے دو ہفتوں کے اندر اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائیں۔

مزید :

اسلام آباد -