سعودی عرب نے اسلامی دنیا کے بڑے ملک کا تیل اچانک روک لیا

سعودی عرب نے اسلامی دنیا کے بڑے ملک کا تیل اچانک روک لیا
سعودی عرب نے اسلامی دنیا کے بڑے ملک کا تیل اچانک روک لیا

  

قاہرہ(مانیٹرنگ ڈیسک)کچھ عرصہ قبل شام کی جنگ کے متعلق اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں ایک قرار داد منظور کی گئی جس کی سعودی عرب نے شدید مخالفت جبکہ مصر نے حمایت کی تھی۔ اس تضاد پر اب ان دونوں مسلمان ملکوں میں تنازع پیدا ہو گیا ہے اور سعودی عرب نے مصرپر دباﺅ بڑھانے کے لیے اسے تیل کی برآمد روک دی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق مصری وزارت تیل کے ترجمان حمدی عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ ”سعودی عرب کی تیل کمپنی ارامکو نے مصر کو تیل کی فراہمی روک دی ہے اور اپنے اس اقدام کی کوئی وجہ بھی بیان نہیں کی۔“

امریکی قوم انتخابات میں مصروف دوسری جانب روسی صدر پیوٹن نے بڑا قدم اُٹھالیا، ایسا کام کردیا کہ امریکہ کو زوردار جھٹکا دے دیا

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور مصر کے مابین رواں سال اپریل میں معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت سعودی عرب نے مصر کو ادائیگی کی آسان شرائط پر5سال کے لیے ماہانہ 7لاکھ ٹن تیل برآمد کرنا تھا۔ تاہم مصر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اکتوبر کی کھیپ روک لی ہے۔ سعودی حکومت اور ارامکو کی طرف سے اس معاملے پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف لڑنے اور ان کی حکومت گرانے کی کوشش کرنے والے باغیوں کی حمایت کر رہا ہے۔ اس کے برعکس مصر شام کی جنگ کے کسی سیاسی حل کے لیے دباﺅ ڈال رہا ہے جس سے ممکنہ طور پر بشارالاسد کی حکومت برقرار رہے گی۔ سکیورٹی کونسل نے بھی شام کے مسئلے کے سیاسی حل کی قرار داد منظور کی تھی جس پر سعودی عرب اور مصر میں تنازع پیدا ہو گیاہے۔

مزید :

بین الاقوامی -