ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد روسی صدر پیوٹن نے سب سے پہلا کام کیا کیا؟ جان کر آپ بھی امریکیوں پر ہنسنے پر مجبور ہوجائیں گے

ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد روسی صدر پیوٹن نے سب سے پہلا کام کیا کیا؟ ...
ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد روسی صدر پیوٹن نے سب سے پہلا کام کیا کیا؟ جان کر آپ بھی امریکیوں پر ہنسنے پر مجبور ہوجائیں گے

  

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے پر امریکہ سمیت پوری دنیا صدمے کی حالت میں ہے لیکن بھارت اور روس دو ایسے ملک ہیں جنہیں ٹرمپ کے جیتنے کی بے حد خوشی ہے، یہاں تک کہ روسی صدر نے تو اس خوشی میں شاندار پارٹی بھی کر ڈالی۔ بھارت شاید امریکہ سے بہتر تعلقات استوار ہونے کی امید میں خوشی منا رہا ہے اور روس کے متعلق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسے ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت میں امریکہ کو تباہ کرنے اور اپنا شیرازہ بکھرنے کا بدلہ لینے کا موقع ہاتھ آ گیا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح کے بعد ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں دیگر ممالک کے سفراءکو مدعو کیا گیا تھا۔

ٹرمپ کی فتح پر اسرائیل سے ایسا بیان آگیاکہ مسلمانوں کو غصہ دلادیا

رپورٹ کے مطابق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ولادی میر پیوٹن کا کہنا تھا کہ ”صدارتی انتخابات کا نتیجہ آنے پر ہم امریکی عوام اور ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ہم انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے نعرے سنتے آئے ہیں جن میں انہوں نے امریکہ اور روس کے مابین تعلقات کو بحال کرنے کی بات کی تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور روس کے تعلقات جس قدر خراب ہو چکے ہیں انہیں بحال کرناآسان نہیں ہو گا۔“

اس کے بعد ولادی میرپیوٹن اوباما انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں موجود تلخی میں ہماری کوئی غلطی نہیں ہے۔ہم اب بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کو تیار ہیں۔اس سے امریکہ اور روس کے عوام کی فلاح و بہبود میں بہت مدد ملے گی اور عالمی سیاسی منظرنامے پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔“

مزید :

بین الاقوامی -