سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد بھارتی پنجاب اور ہریانہ میں پانی کی تقسیم کا معاملہ شدت اختیار کر گیا،کیپٹن امریندر سنگھ سمیت کانگریس کے تمام اراکین اسمبلی مستعفی ہو گئے

سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد بھارتی پنجاب اور ہریانہ میں پانی کی تقسیم کا ...
سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد بھارتی پنجاب اور ہریانہ میں پانی کی تقسیم کا معاملہ شدت اختیار کر گیا،کیپٹن امریندر سنگھ سمیت کانگریس کے تمام اراکین اسمبلی مستعفی ہو گئے

  

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی پنجاب اور ہریانہ میں پانی کی تقسیم کا معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے ،ہندوستانی سپریم کورٹ کی جانب سے ایس وائی ایل معاملہ پر پنجاب کے خلاف فیصلہ دینے کے خلاف بھارتی سیاست میں بھونچال آ گیا ہے ،پنجاب کانگریس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد لوک سبھا کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تو ریاست میں کانگریس کے تمام ممبران اسمبلی نے بھی اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے استعفیٰ اسمبلی سپیکر کو بجھوا دیئے ہیں ۔

مزید پڑھیں:بھارتی ہائی کمشنر کی دفتر خارجہ طلبی،جنگ بندی کی خلاف ورزی پر احتجاج

بھارتی نجی چینل ’’انڈیا ٹی وی ‘‘ کے مطابق ہندوستانی سپریم کورٹ کی جانب سے پانی کے معاملے پر پنجاب کے خلاف فیصلہ آنے پر ریاست میں سیاسی بھونچال آ گیا ،سپریم کورٹ سے فیصلہ سننے کے فوری بعد کانگریس پنجاب کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے لوک سبھا کی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تو ان کے ساتھ ریاست میں کانگریس کے تمام ممبران اسمبلی نے بھی استعفیٰ دے دیا ،کیپٹن امریندر سنگھ اور کانگریس کے تمام ممبران اسمبلی نے اپنے استعفے سپیکر پنجاب اسمبلی کو بجھو ادیئے ہیں جبکہ کانگریس کے تمام ممبران اسمبلی کل سپیکر سے ملاقات بھی کریں گے ۔دوسری طرف ریاستی حکومت نے کانگریس کے اراکین کے مستعفی ہونے پر پنجاب کے تمام اضلاع کے ڈی سی اور پولیس انتظامیہ کو ایس وائی ایل تنازع پر پنجاب کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ کے بعد ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے ۔

کانگریس کے لیڈر رونیت سنگھ بٹو نے کہا کہ پنجاب کے جو وکیل گئے ہیں، وہ ہریانہ کے مفاد کی بات کر رہے تھے، ہم کسی سے بات چیت نہیں کریں گے، پنجاب کا پانی کسی کو نہیں جانے دیں گے، ہمارے لئے اس سے اوپر کچھ نہیں ہے۔ادھر آئی این ایل ڈی کے لیڈر دگ وجے چوٹالہ نے کہا کہ ہریانہ کے لئے آج حقیقی معنوں میں دیوالی ہے، ہم اس فیصلہ سے کافی خوش ہیں۔ اس درمیان ایس وائی ایل پر سپریم کورٹ کے فیصلہ سے قبل ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال کھٹر نے چیف سکریٹری ، داخلہ سکریٹری اور تمام محکموں کے اعلی افسران کی ایک میٹنگ بلائی ، جس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد ممکنہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ٰخیال رہے کہ سپریم کورٹ نے ستلج جمنا رابطہ (ایس وائی ایل) نہر تنازع کے معاملے میں پنجاب حکومت کو زبردست جھٹکا دیتے ہوئے پانی کی تقسیم معاہدے کو منسوخ کرنے سے متعلق ایکٹ کو غیر قانونی قرار دیاہے۔ جسٹس انل اکر دوے کی صدارت پانچ رکنی آئینی بنچ نے ایس وائی ایل نہر تنازع میں صدارتی ریفرینس  پر اپنا اہم فیصلہ سنایا۔

مزید پڑھیں:کشمیر سے بھارتی فوج نکلنے تک بھارت سے دوستی نہیں ہو سکتی : سراج الحق

آئینی بنچ نے پانی کی تقسیم کے متعلق’’پنجاب معاہدہ تنسیخ ایکٹ 2004ء‘‘ کو غیر آئینی قرار دیا۔عدالت عظمی نے کہا کہ ہریانہ اور دیگر پڑوسی ریاستوں کے ساتھ پانی کی تقسیم کا معاہدہ منسوخ کرنے کا مقصد پنجاب حکومت کی طرف سے بنایا گیا قانون غیر آئینی ہے،عدالت نے واضح کیا کہ متعلقہ نہر کی تعمیر مکمل کی جائے گی۔ عدالت نے گذشتہ 12 مئی کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ جسٹس دوے 18 نومبر کو ریٹائر ہونے والے ہیں۔عدالت نے کہا کہ پنجاب حکومت دیگر ریاستوں کے ساتھ کئے گئے معاہدے کو یک طرفہ طریقے سے ختم نہیں کر سکتی۔ اس وقت امریندر سنگھ حکومت کے دور میں 2004 میں پنجاب اسمبلی نے ٹرمنیشن آف ایگریمنٹ ایکٹ منظور کیا تھا، اس نہر کو لے کر پنجاب اور ہریانہ کے درمیان تنازع ہے۔ پنجاب اور ہریانہ کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاملے میں مرکزی حکومت نے خود کو غیر جانبدار رکھا ہوا ہے، مرکز کی دلیل تھی کہ ریاستوں کو اپنے تنازعات کو خود حل کرنا چاہئے۔ معاملے میں ہریانہ حکومت کے علاوہ راجستھان، دہلی اور مقبوضہ جموں و کشمیر حکومت نے بھی اپنا موقف رکھا تھا، کیونکہ اس نہر کے پانی کو لے کر ان تمام ریاستوں میں معاہدہ ہوا تھا۔واضح رہے کہ بھارتی پنجاب اسمبلی ایس وائی ایل نہر کے لئے لی کی گئی زمین کو کسانوں کو لوٹانے کا قانون منظور کر چکی ہے جس کے خلاف ہریانہ حکومت نے عدالت عظمی میں فریاد کی تھی، جس پر عدالت نے صورت حال جوں کی توں برقرار رکھنے کا حکم دیا تھا۔

مزید :

بین الاقوامی -