شکست کے بعد تقریر کیلئے ہیلری اور بل کلنٹن نے ’پرپل‘ رنگ کے کپڑے کیوں پہنے؟ اصل حقیقت جان کر آپ بھی داد دینے پر مجبور ہوجائیں گے

شکست کے بعد تقریر کیلئے ہیلری اور بل کلنٹن نے ’پرپل‘ رنگ کے کپڑے کیوں پہنے؟ ...
شکست کے بعد تقریر کیلئے ہیلری اور بل کلنٹن نے ’پرپل‘ رنگ کے کپڑے کیوں پہنے؟ اصل حقیقت جان کر آپ بھی داد دینے پر مجبور ہوجائیں گے

  

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکی صدارتی انتخابات میں انتہائی غیر متوقع شکست نے ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہیلری کلنٹن کے حمایتیوں کو بری طرح ہلا کر رکھ دیا۔ اس موقع پر ان کے لاکھوں حمایتی جذبات سے مغلوب اور بے حد مایوس تھے لیکن گزشتہ روز جب وہ اعتراف شکست کے بعد تقریر کرنے آئیں تو امید کا نیا دیا جلاگئیں۔ ہیلری کلنٹن کی اس تقریر کو اس کے ایک ایک لفظ کے لئے مدتوں یاد رکھا جائے گا لیکن لوگوں کو ان کے الفاظ سے بھی زیادہ جس چیز نے متاثر کیا وہ ان کے لباس کا رنگ تھا۔ آپ کو بھی یہ جان کر حیرت ہو گی کہ گزشتہ روز جب ہیلری کلنٹن اپنی شکست کے بعد تقریر کے لئے آئیں تو انہوں نے جامنی رنگ کا لباس ایک بہت ہی خاص مقصد کے تحت پہن رکھا تھا۔

نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان سے متعلق وہ باتیں جو آپ جاننا چاہتے ہیں

اخبار دی مرر کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریپبلکن پارٹی کی پہچان سرخ رنگ ہے جبکہ ڈیموکرٹک پارٹی کی پہچان نیلا رنگ ہے، اور امریکہ کے نقشے پر مختلف ریاستوں کو بھی ان پارٹیوں کے رنگوں کی نسبت سے سرخ اور نیلی ریاستیں کہا جاتا ہے۔ گزشتہ روز جب ہیلری کلنٹن مین ہٹن میں اپنی تقریر کے لئے آئیں تو انہوں نے شکست کے باوجود ریپبلکن اور ڈیموکریٹک سب سے متحد ہوجانے کو کہا اور اس اتحاد کا پیغام اپنے لباس کی رنگت کی صورت میں بھی دیا۔ دراصل سرخ اور نیلے رنگ کو ملانے کی صورت میں جامنی رنگ حاصل ہوتا ہے اور یہی وجہ تھی کہ ہیلری کلنٹن نے دونوں اطراف سے تعلق رکھنے والوں کو متحد ہونے کا پیغام دینے کے لئے اس رنگ کا انتخاب کیا ،گویا سرخ ریپبلکن اور نیلے ڈیموکریٹک کو اکٹھا کر دیا۔ ان کے پیچھے کھڑے ان کے شوہر بل کلنٹن نے بھی جامنی رنگ کی ٹائی لگارکھی تھی جبکہ دیگر افراد کے لباس میں بھی یہ رنگ جھلکتا نظر آیا۔

اس موقع پر ہیلری کلنٹن نے خصوصی طور پر کہا ”ہم دیکھ چکے ہیں کہ ہماری قوم ہماری سوچ سے زیادہ تقسیم ہوچکی ہے لیکن مجھے اب بھی امریکہ پر یقین ہے اور میں ہمیشہ اس پر یقین رکھوں گی۔ اگر آپ بھی اس پر یقین رکھتے ہیں تو پھر میں یہ نتیجہ قبول کرناہوگا اور مستقبل کی طرف دیکھنا ہوگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ ہمارے صدر ہوں گے۔ ہمیں اپنا ذہن کھلا رکھنا ہے اور ان کو یہ موقع فراہم کرنا ہے کہ وہ ہماری رہنمائی کریں۔“

مزید :

بین الاقوامی -