بابا وانگا جس نے 9/11 اور داعش کے بارے میں کئی سو سال پہلے ہی پیشنگوئی کردی تھی، اس کی ایک پیشنگوئی ایسی بھی ہے جسے جان کر نئے امریکی صدر ٹرمپ کے پیروں تلے واقعی زمین نکل جائے گی

بابا وانگا جس نے 9/11 اور داعش کے بارے میں کئی سو سال پہلے ہی پیشنگوئی کردی تھی، ...
بابا وانگا جس نے 9/11 اور داعش کے بارے میں کئی سو سال پہلے ہی پیشنگوئی کردی تھی، اس کی ایک پیشنگوئی ایسی بھی ہے جسے جان کر نئے امریکی صدر ٹرمپ کے پیروں تلے واقعی زمین نکل جائے گی

  

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈونلڈ ٹرمپ کو عام لوگوں سے لے کر ماہر سیاسی تجزیہ کاروں تک ہر کوئی خطرے کی علامت قرار دے چکا ہے لیکن آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ بلغاریہ سے تعلق رکھنے والی مشہور زمانہ کاہنہ بابا وانگا بھی یہ خوفناک پیشنگوئی کرگئی ہیں کہ 2016ءمیں آنے والا امریکی صدر صرف مغربی دنیا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے انتہائی منحوس اور بڑی تباہی کی علامت ثابت ہوگا۔

ٹائمز آف انڈیا کی روپرٹ کے مطابق بابا وانگا نے سینکڑوں دیگر پیشنگوئیوں کی طرح یہ پیشنگوئی بھی کررکھی تھی کہ ایک سیاہ فام شخص امریکہ کا صدر بنے گا اور یہ امریکہ کا آخری دور ہوگا کیونکہ اس کے بعد ایک ایسا شخص تخت سنبھالے گا کہ جس کے دور میں سپر پاور امریکہ کا شیرازہ بکھر جائے گا، اور اس کی تباہی پوری مغربی دنیا کو بھی درہم برہم کرکے رکھ دے گی۔ بابا وانگا کی پیشگوئی میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے اسی حکمران کے دور میں شدت پسند جنگجوﺅں کے لشکر یورپ پر چڑھ دوڑیں گے اور اس براعظم کی اینٹ سے اینٹ بجاتے ہوئے اسے صفحہ ہستی سے مٹادیں گے۔ بابا وانگا نے اپنی پیشنگوئی میں لکھا ہے کہ اس تاریک دور میں جو بھی زندہ ہوگا اس تباہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔

مزید پڑھیں:نوکری کیلئے سعودی عرب گئے شہری کو کفیل نے جنسی غلام بنا لیا اور پھر۔۔۔ ایسا واقعہ کہ سن کر ہی انسان کانپ اٹھے

واضح رہے کہ بابا وانگا کی درجنوں پیشنگوئیاں سچ ثابت ہوچکی ہیں، جن میں باراک اوباما کا منصب صدارت سنبھالنا اور 9/11 کی دہشتگردی جیسے واقعات شامل ہیں۔ اگرچہ جدید دور میںا یسی پیشگوئیوں کو قابل اعتبار نہیں سمجھا جاتا لیکن اس حقیقت نے سب کو پریشان کردیا ہے کہ سیاہ فام افریقی شخص، یعنی باراک اوباما، امریکہ کا صدر بنا۔ پیشگوئی کے مطابق اب وہ سیاہ فام رخصت ہورہا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ جیسا شخص سپر پاور کا صدر بھی بن گیا ہے۔ اس منظر نامے پر نظر ڈالیں تو باقی باتیں بھی بعید نظر نہیں آتیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -