لیگی ایم این اے کے خلاف 6افراد کے قتل کا مقدمہ ری اوپن ،کیا دہشت گردی کے جرم میں صلح ہوسکتی ہے ،ہائی کورٹ کا فریقین سے استفسار

لیگی ایم این اے کے خلاف 6افراد کے قتل کا مقدمہ ری اوپن ،کیا دہشت گردی کے جرم ...
لیگی ایم این اے کے خلاف 6افراد کے قتل کا مقدمہ ری اوپن ،کیا دہشت گردی کے جرم میں صلح ہوسکتی ہے ،ہائی کورٹ کا فریقین سے استفسار

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہور ہائیکورٹ کے دورکنی بنچ نے 2کانسٹیبلزسمیت6 افراد کے قتل میں ملوث مسلم لیگ (ن)کے ایم این اے عابد رضا سمیت 4ملزموں کی بریت سے متعلق اپیلوں پر محکمہ پراسکیوشن اور وکلا سے اس نکتہ پر معاونت طلب کی ہے کہ کیا دہشت گردی کے جرم میں راضی نامہ کی بنیاد پر ملزموں کو بری کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔جسٹس عبدالسمیع خان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے ایم این اے عابد رضا، شریک ملزمان غلام رسول، محمد غضنفر اور نجیب اللہ کی 2کانسٹیبلوں سمیت 6 افراد کے قتل میں بریت سے متعلق اپیلوں پر سماعت کی، عابد رضا سمیت تمام ملزمان سادہ اور پولیس یونیفارم میں ملبوس سرکاری اور ذاتی سکیورٹی میں دو رکنی بنچ کے روبرو پیش ہوئے، ملزموں کی طرف سے اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ اور منیر حسین بھٹی ایڈووکیٹ پیش نہ ہوئے جس پر دو رکنی بنچ نے اپیلوں پر مزید کارروائی 16 نومبر تک ملتوی کر دی، جسٹس عبدالسمیع خان نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ نے اس کیس کو دوبارہ سماعت کے لئے لاہور ہائیکورٹ کو بھجوایا ہے، سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق اس کیس کا جلدی فیصلہ کرنا ہے، فاضل جج نے محکمہ پراسکیوشن اور وکلا کو ہدایت کی کہ اس نکتے پر عدالت کی معاونت کی جائے کہ کیا دہشت گردی کے جرم میں فریقین کے درمیان راضی نامہ کی بنیاد پر ملزمان کی بریت ہو سکتی ہے یا نہیں، عدالت نے محکمہ پراسکیوشن کو یہ بھی ہدایت کی کہ ٹرائل کورٹ نے کس ملزم کو کس جرم میں کتنی سزا سنائی، اس پر رپورٹ بھی ا?ئندہ سماعت پر پیش کی جائے، محکمہ پراسکیوشن کے مطابق ملزموں کے خلاف دو پولیس اہلکاروں میاں نصیر اور مظفرعلی سمیت چار شہریوں منورحسین،غلام حبیبب، جاوید اقبال اوراشتیاق کے قتل کا مقدمہ درج ہوا جس میں گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے عابد رضا سمیت دیگر ساتھیوں کو موت کی سزا سنائی، سزائے موت کیخلاف اپیل لاہور ہائیکورٹ میں دائر ہوئی تو عدالت عالیہ نے مقتولین کے ورثاءکے ساتھ راضی نامہ کی بنیاد پر تمام مجرموں کو بری کر دیا، 2013ءکے انتخابات سے قبل یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا تو سپریم کورٹ نے مجرموں کی بریت منسوخ کرتے ہوئے کیس واپس لاہور ہائیکورٹ کو ریمانڈ کر دیا اور ہدایت کی کہ بریت کے معاملے کی ازسرنو سماعت کی جائے کیونکہ قانون کے مطابق دہشت گردی کے مقدمات میں راضی نامہ قابل قبول نہیں ہے، پراسکیوشن کی طرف سے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں کہ دہشت گردی کے مقدمات میں راضی نامہ نہیں ہو سکتا، مجرموں کی بریت منسوخ کر کے ان کی سزائے موت بحال کی جائے۔

مزید :

لاہور -