پسماندہ علاقوں میں علاجِ دِل کے ہسپتال

پسماندہ علاقوں میں علاجِ دِل کے ہسپتال

پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا ہے کہ عام آدمی کے لئے ہیلتھ سسٹم خوب تر بنائیں گے، ائر ایمبولینس شروع کرنے کا جائزہ لے رہے ہیں،پسماندہ علاقوں میں بھی دِل کے جدید ہسپتال ہونے چاہئیں، پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ماڈل کو دور دراز پسماندہ علاقوں تک لے جائیں گے۔ انہوں نے لاہور کے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں جدید ترین کارڈیک ایم آر آئی مشین کا افتتاح کیا جو30کروڑ روپے کی لاگت سے نصب کی گئی ہے۔انہوں نے سی ٹی انجیو مشین کا بھی افتتاح کیا، ان کا کہنا تھا ہسپتالوں میں معیاری سہولتوں تک مریضوں کی رسائی ہمارا مشن ہے، میری خواہش ہے کہ دور دراز علاقوں میں بھی صحت کی معیاری سہولتیں چوبیس گھنٹے میسر ہوں۔

مقامِ مسرت و اطمینان ہے کہ وزیراعلیٰ دور دراز علاقوں تک صحت کی جدید سہولتیں فراہم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، ہماری دُعا ہے کہ وہ اپنی اِس تمنا کو جتنی جلد ممکن ہو عملی جامہ پہنائیں،جہاں جہاں دِل کے امراض کے مزید ہسپتال قائم کرنا ممکن ہو، ضرور کریں، اور جتنی جلد یہ نیک کام کر سکیں اُن کے نام�ۂ اعمال میں یہ نیکی لکھ دی جائے گی،لیکن اپنی اِس خواہش کی تکمیل سے پہلے اُنہیں اپنی وزیر صحت سے ضرور معلوم کر لینا چاہئے کہ پنجاب کے چھتیس اضلاع میں میسر طبی سہولتوں کا کیا عالم ہے اور کہاں کہاں دِل کے جدید ہسپتالوں کے قیام کی گنجائش ہے، ایسا نہ ہو کہ اُنہیں جب زمینی حقیقتوں کا ادراک ہو تو اُن کی یہ خواہش دِل ہی میں رہ جائے،ویسے بھی اصول یہ ہے کہ پہلے جو کام ہونا چاہئے اس کا آغاز بھی پہلے کیا جائے، مثال کے طور پر جس علاقے میں بنیادی ہیلتھ یونٹ بھی نہیں ہے، اور جہاں معمولی معمولی بیماریوں کے علاج بھی مقامی طور پر میسر نہیں اور ان علاقوں کے لوگوں کو یا تو عطائیوں سے رجوع کرنا پڑتا ہے یا اگر وہ بھی میسر نہ ہوں تو ٹونے ٹوٹکے کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ یہاں دل کے امراض کا علاج شروع کرنے سے پہلے عام بیماریوں کے علاج کی سہولت ہونی چاہئے جو کم اخراجات سے بھی مہیا کی جاسکتی ہے۔

جب وزیراعلیٰ کا تقرر ہو ر ہا تھا تو اُن کے پروفائل میں خصوصی طور پر یہ تذکرہ آیا تھا کہ اُن کا تعلق ایک پسماندہ علاقے سے ہے، جہاں بجلی بھی نہیں ہے،اِس لئے وہ پسماندگی کے عذاب کو اچھی طرح سمجھتے ہیں، اب وہ وزیراعلیٰ بن چکے ہیں تو اُن سے توقع ہے کہ وہ پسماندہ علاقوں کی ترقی کو ضرور ترجیح دیں گے اور جہاں جہاں جس حد تک ممکن ہے پسماندگی کے خاتمے پر بھی توجہ دیں گے، لیکن ترجیحات کا تعین بہرحال بنیادی بات ہے،جس علاقے میں بجلی بھی نہ ہو وہاں ظاہر ہے کوئی ایسی سہولت پہنچانے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، جو صرف ایسی مشینوں کے ذریعے دی جا سکتی ہے، جو بجلی سے چلتی ہیں، مثال کے طور پر جمعرات کے روز وزیراعلیٰ نے دِل کے امراض کے ہسپتال میں جس کارڈیک ایم آر آئی مشین کا افتتاح کیا اس کی قیمت 30کروڑ روپے ہے، اسے چلانے کے لئے بجلی بھی بنیادی ضرورت ہے، چلئے اس کا متبادل بندوبست بھی کیا جا سکتا ہے،لیکن اس مشین کو چلانے کے لئے تجربہ کار ڈاکٹر اور ٹیکنیشن درکار ہوں گے، پھر اس مشین سے کسی مریض کے مرض کا جو نتیجہ نکلے گا اس کے مابعد علاج وغیرہ کے لئے بھی ماہر ڈاکٹروں کی ضرورت ہے،دِل کے امراض کے علاج کا شعبہ تو بہت ہی ریاضت مانگتا ہے اور عام ڈاکٹروں کو اس شعبے میں تخصیص کے لئے کئی کئی سال کی تعلیم و تربیت درکار ہوتی ہے، شاید وزیراعلیٰ کے علم میں ہو کہ انہوں نے دِل کے جس ہسپتال کا دورہ کیا ہے وہاں پوری تعداد میں ڈاکٹر بھی دستیاب نہیں، اور جو مریض اِس ہسپتال میں علاج کے لئے رجوع کرتے ہیں اُنہیں اسی بنا پر لمبی لمبی تاریخیں دی جاتی ہیں کہ ڈاکٹروں کے پاس فرصت ہے نہ ہسپتال میں اتنی گنجائش،ہسپتال میں جو جدید ایمرجنسی وارڈ بنایا گیا ہے اس کے لئے بھی مخیر اور متمول حضرات نے تعاون کیا ہے اِس لئے اصل ضرورت یہ نہیں کہ کسی پسماندہ علاقے میں اِس طرح کے ایک دوسرے ہسپتال کی تعمیر کی بلند پایہ سوچ رکھی جائے،بلکہ سوچ یہ ہونی چاہئے اور ترجیحات کا بھی تقاضا ہے کہ جو انسٹیٹیوٹ پہلے بن چکا ہے اِسے پوری جدید سہولتوں سے مزین کیا جائے،آپ ذرا تصور فرمایئے کہ جو جدید مشین لاہور کے ہسپتال میں اب لگ رہی ہے وہ کسی پسماندہ علاقے میں لگانے کا تصور کس طرح کیا جا سکتا ہے۔ اول تو اس کے لئے فنڈز ہی دستیاب نہیں ہوں گے اور فرض کریں فنڈز مل بھی جائیں تو دِل کے جس ہسپتال کے لئے لاہور میں ڈاکٹر دستیاب نہیں ہیں ایسے ماہر ڈاکٹر کسی پسماندہ علاقے میں کہاں دستیاب ہوں گے؟ اور کتنے ڈاکٹر وہاں جاکر رہنا اور کام کرنا پسند کریں گے، وزیراعلیٰ تجربہ کرنا چاہتے ہیں تو اپنے ضلع کے کسی ہسپتال میں کرکے دیکھ لیں۔

صحت کے شعبے میں اگر وزیراعلیٰ سہولتیں فراہم کرنے میں واقعی پُرجوش ہیں تو دانشمندی کا تقاضا ہے کہ وہ یہ سہولتیں درجہ بدرجہ فراہم کرنے کا منصوبہ بنائیں، جن علاقوں میں معمولی معمولی بیماریوں کے علاج کا انتظام نہیں پہلے تو وہاں بنیادی ہیلتھ یونٹ بنائیں، جہاں کوالیفائیڈ ڈاکٹر بھی موجود ہوں اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ بنیادی ہیلتھ یونٹوں میں ڈاکٹر نہیں، جہاں کسی ڈاکٹر کی ڈیوٹی ہے وہ وہاں جاتا نہیں،اِس لئے کہ اس ڈاکٹر کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ وہ اگر اپنی زندگی کے بہترین25سال لگا کر ڈاکٹر بنا ہے تو اِس لئے نہیں بنا کہ کسی دور دراز سہولتوں سے محروم پسماندہ علاقے میں مریضوں کی خدمت کرتا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ دور دراز علاقوں میں ڈاکٹر نہیں جاتے، جس ڈاکٹر کا تبادلہ لاہور یا کسی دوسرے بڑے شہر سے کسی دیہی علاقے کے چھوٹے ہسپتال میں کر دیا جاتا ہے اس کی پہلی ترجیح یہی ہوتی ہے کہ تبادلہ منسوخ کرایا جائے اور جب تک ایسا نہیں ہوتا وہ چھٹی پر رہتا ہے۔اگر حاضری لگتی رہے تو بہتر ورنہ باتنخوا رخصت بھی لی جا سکتی ہے۔

پسماندہ علاقوں میں جہاں جنرل ہسپتال بھی نہیں ہیں اور اگر ہیں تو نہ وہاں ڈاکٹر ہیں نہ دوسرا عملہ، وہاں دِل کے امراض کے ڈاکٹر کیسے دستیاب ہوں گے اور اگر ہوں گے بھی تو اس کام میں کتنا عرصہ لگے گا، اِس لئے بہتر ہے وزیراعلیٰ صاحب پی آئی سی کے سربراہ کو بُلا کر پہلے یہ معلوم کر لیں کہ انہیں اپنے ہسپتال کے لئے مزید کتنی سہولتیں درکار ہیں اور وہاں کتنے ڈاکٹروں کی کمی ہے،جب یہ کمی پوری ہو جائے تو پھر کسی دوسرے علاقے میں دِل کا ہسپتال بنانے کا سوچا جائے، موجودہ حالات میں تو یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی علاقے میں پرائمری سکول نہ ہو اور وہاں یونیورسٹی بنانے کے ارادے باندھ لئے جائیں۔ وزیراعلیٰ کے عزائم بلند ہیں،لیکن عزائم کی اس بلندی کی کامیابی دستیاب وسائل سے مشروط ہے۔لاہور کے جن ہسپتالوں میں ایک ایک بستر پر دو دو مریض پڑے ہیں اگر جناب وزیراعلیٰ وہاں کا ایک چکر بھی لگا لیں تو اُن کا احسان ہو گا، شرط یہ ہے کہ وہ پہلے سے خبردار کئے بغیر جائیں ورنہ وہاں آپ کو بستر خالی بھی مل سکتے ہیں اور ایسا لگے گا سہولتیں تو وافر ہیں کوئی علاج کروانے والا ہی نہیں۔

مزید : رائے /اداریہ