محاذ آرائی ختم اورسیاسی استحکام پیدا کرو!

محاذ آرائی ختم اورسیاسی استحکام پیدا کرو!
 محاذ آرائی ختم اورسیاسی استحکام پیدا کرو!

  

مُلک اور ملکی سیاست تو اب ایک چکر میں گھومنے لگ گئی ہے۔ سیاسی جماعتوں کا جائزہ لیا جائے تو تنظیمی طور پر سب کی حالت پتلی ہے، جو جماعت ذرا بہتر منظم نظر آتی ہے، اس کی اتنی پذیرائی نہیں اور جو جماعتیں مُلک گیر ہیں۔ ان کی تنظیم معیاری نہیں، برسر اقتدار تحریک انصاف کی تنظیم سازی مکمل نہیں اور یہ بھی بار بار تبدیل ہوتی رہی۔

وفاق کی زنجیر بے نظیر کے والد کی جماعت بھی نامکمل تنظیم کے ساتھ چل رہی ہے اور اس کا نیٹ ورک ہی مکمل نہیں، اب بلاول نے کہیں کہیں خالی عہدے پُر کرنا شروع کئے ہیں اور بعض حق داروں کے لئے گنجائش پیدا کی ہے۔اس جماعت کا پبلک ریلیشنز اور اطلاعات کا شعبہ ہمیشہ سے کمزور رہا، ماضی میں بھی جو لوگ کام کرتے تھے وہ اپنی بصیرت اور تعلق استعمال کر لیتے تاہم صحیح کام کے لئے صحیح فرد والی بات نہیں تھی، لاہور سے تعلق رکھنے والے نوید چودھری اپنے ذاتی محاسن کی وجہ سے میڈیا سے تعلق نبھا لیتے اور چودھری منور انجم محترمہ بے نظیر بھٹو کے ترجمان کی حیثیت سے بھاگ دوڑ کرتے تھے ان کے سوا جو بھی آیا اس نے صحافت کو اپنی سیڑھی بنایا اور پارٹی کی نسبت ذاتی تاثر کو مضبوط کیا اور فائدے بھی اٹھائے، جب سے بلاول بھٹو زرداری عملی سیاست میں آئے تب سے اس جماعت میں ایک کشمکش جاری تھی کہ کون کس عہدے کے لئے مناسب ہے اور یہ سلسلہ باپ بیٹے میں سے کسی ایک کی خوشنودی پر منحصر رہا،

اس میں بھی والد صاحب بزرگی کا فائدہ اٹھاتے اور نامزدگی کر دیتے تھے۔اِسی دوران بعض نامزدگیاں بلاول بھی کر دیتے اور ان کا معیار یہی ہوتا کہ محترمہ(شہید) کے نزدیک کون بہتر تھا، چنانچہ اب پھر اِکا دُکا تقرریاں ایسے ہی ہو رہی ہیں۔ نوید چودھری تو شاید کسی عہدے کے خواہش مند نہیں یا پھر ان کے لئے مرکزی سیکرٹری اطلاعایت کی باری نہیں آئی، تاہم اب بلاول بھٹو زرداری کی نگاہ واپس پلٹ کر چودھری منور انجم پر بھی آ گئی ہے، جو پرانے جیالے ہیں، ان کو مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات بنا دیا گیا ہے، صحافیوں میں زیادہ حضرات نے پسند کیا اور ان کو حوصلہ ہوا کہ اب شاید پیپلزپارٹی کے رہنماؤں سے بھی اچھی ملاقاتیں ہو ہی جائیں کہ منور انجم خوب آگاہ ہیں، جیسے نوید چودھری، دونوں ہی تعلقات اچھے رکھتے ہیں۔

مسلم لیگ(ن) بھی قومی جماعت اور چاروں صوبوں میں موجود ہے، اس کا شعبہ اطلاعات آج بھی انہی حضرات و افراد پر مشتمل ہے، جو سابقہ ہیں اور سرکاری عہدوں پر بھی فائز رہے۔ مریم اورنگزیب اِسی سلسلے کی نشانی ہیں اور اپنا حق بھی ادا کر رہی ہیں، تاہم وہ بھی مرکزی قیادت تک ہی محدود ہیں۔یوں بھی ان کو اسلام آباد ،راولپنڈی سے آنا ہوتا ہے اور قومی اسمبلی کی رکن کی حیثیت سے بھی فرائض انجام دینا پڑتے ہیں۔

برسر اقتدار جماعت کا یہ شعبہ بھی مختلف حضرات کے پاس سے ہوتا ہوا، اب معلوم نہیں کس کے پاس ہے۔ تاہم فواد چودھری مرکزی وزیر اطلاعات بن جانے کے بعد سب کام خود ہی کر رہے ہیں، صوبائی سطح پر جو مہربان وزیر ہیں وہ ایک مخصوص طرزِ عمل کے حامل ہیں اور بات وہیں رہتی ہے، جبکہ جماعت اسلامی کا شعبہ اطلاعات آج بھی مضبوط و مربوط ہے اور تعلقات نبھانے کے ساتھ ساتھ اشاعت کا کام بھی کر رہا ہے۔

قارئین کرام! ایک بہتر دور تھا، جب نوابزادہ نصر اللہ خان، پیر علی مردان شاہ پیر پگارو، خورشید محمود قصوری اور نوید چودھری جیسے حضرات محافل بھی برپا کرتے اور طویل نشستیں ہوتیں،جہاں تبادلہ خیال ہوتا اور ملکی و قومی امور پر بات ہوتی اور کوئی نتیجہ نکلتا اب وہ سلسلے بھی نہیں رہے۔ یہ حضرات بھی اپنی اپنی ضرورت کے مطابق رابطے کرتے ہیں ورنہ ’’مینوں کیہہ‘‘ والی بات ہے۔ یوں یہاں مجموعی طور پر سیاسی کلچر متاثر ہوا ہے اور زمانہ یا دور میں تبدیلیوں کے ساتھ سیاسی اور اطلاعاتی کلچر میں بھی تبدیلی آ گئی ہے۔

آج بات کچھ اور سوچی کہ ذہن نے ادھر پلٹا کھا لیا،کیونکہ محاذ آرائی کے اس گرم سے گرم ماحول میں قاعدے کلیے کی بات نہیں ہو رہی۔ صد شکر کہ قومی اسمبلی میں پرویز خٹک نے بات کی تو قائد حزبِ اختلاف محمد شہباز شریف نے تائید کر دی کہ مُلک اور مُلک کے مسائل جمہوری انداز میں حل کرنے اور نظام کو چلانے کے لئے ضروری ہے کہ اخلاق کا دامن تھاما جائے اور باقاعدہ ضابطہ اخلاق بنایا جائے، حالانکہ یہ پہلے سے موجود اور سبھی جانتے بھی ہیں۔ اگر پھر بھی نیا ضابطہ بنانا چاہتے ہیں تو بسم اللہ ایوان سے منظوری حاصل کر کے مشاورت سے ایسا کر گزریں تاکہ محاذ آرائی کی بجائے کوئی کام بھی ہو جائے۔

آج کل ضابطہ اخلاق کے ساتھ ساتھ پُرامن سیاسی ماحول کا بھی ذکر ہے اور خواہش یہ کی جاتی ہے کہ سیاسی استحکام ہو کہ گڈ گورننس(اچھی یا بہتر حکمرانی) اسی طرح ممکن ہے۔ آج کے دور میں ملکی استحکام تو اپنی جگہ خود جماعتوں میں نہیں ہے کہ ہر جماعت کئی کئی ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے اور خود اپنی طاقت کمزور کئے ہوئے ہے،حالانکہ مضبوط اور بہتر تنظیم ہی سیاسی جماعت کا اثاثہ ہوتی ہے،اس حوالے سے ماضی میں بھی یہی کہا جاتا تھا کہ تنظیم بہتر ہونی چاہئے،لیکن عملاً صورتِ حال مختلف رہی، اب تو عہدوں کی بھوک جلدی سے جماعت سے علیحدگی اور نئی جماعت تشکیل کرا دیتی ہے، چنانچہ ایک ایک جماعت کئی کئی جماعتوں میں منقسم ہو چکیں، نام بدلنے کا تکلف بھی نہیں فرمایا جاتا اور کئی لوگ فٹ بال بن کر رہ گئے ہیں، بہتر عمل تو یہی ہے کہ ماحول کو مثبت اور پُرامن بنا لیا جائے اور مسائل حل ہوں، اس توقع کے ساتھ آج اتنے پر اکتفا کرتے ہیں کہ ایسا ہو گا اور بہتری آئے گی۔

مزید : رائے /کالم