محکمہ تعلیم پنجاب نےاساتذہ کے تقرر و تبادلوں پردو سال بعداٹھائی جانے والی  پابندی ایک ہفتے بعد پھر لگا دی

محکمہ تعلیم پنجاب نےاساتذہ کے تقرر و تبادلوں پردو سال بعداٹھائی جانے والی  ...
محکمہ تعلیم پنجاب نےاساتذہ کے تقرر و تبادلوں پردو سال بعداٹھائی جانے والی  پابندی ایک ہفتے بعد پھر لگا دی

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)محکمہ تعلیم پنجاب کی غلط اور ناقص حکمت عملی نے صوبے بھر کے اساتذہ کو تشویش میں مبتلا کر دیا ،محکمہ تعلیم نے 

 اساتذہ کے تقرر و تبادلوں پردو سال بعداٹھائی جانے والی  پابندی ایک ہفتے بعد پھر لگا دی۔

نجی ٹی وی کے مطابق پنجاب بھر میں اساتذہگزشتہ دو سال سے انتظامیہ کی غفلت کے باعث تبادلوں کے لیے دھکے کھ رہے ہیں اوران میں ایک بڑی تعداد خواتین اساتذہ کی بھی ہے۔رواں برس کے آغاز میں جب محکمہ تعلیم نے میرٹ پر پورا اترنے والے امیدواروں کو تعینات نہ کیا تو ان اساتذہ نے احتجاج کیا تھا جس پرلاہورہائی کورٹ نے محکمہ تعلیم پنجاب کو میرٹ پر پورا اترنے والے امیدواروں کو بطور ایجوکیٹر بھرتی کرنے کا حکم دیا تھا تاہم فروری میں پھر پنجاب کے محکمہ تعلیم نے ایجوکیٹرز کی بھرتیوں کے معاملے میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کر دی تھی۔تحریک انصاف نے پنجاب میں حکومت سنبھالنے کے فوری بعد اساتذہ کے تقرر و تبادلوں پردو سال سے عائد پابندی اٹھانے کا حکم جاری کیا تو صوبے بھر میں اساتذہ کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے تھے تاہم اساتذہ کے چہروں پر دو سال بعد آنے والی خوشیوں کو کسی کی نظر لگ گئی ہے اور محکہ تعلیم کے افسران کی ناقص حکمت عملی کے تحت دو سال بعد اٹھائے جانے والی پابندی ایک بار پھر عائد کر تے ہوئے مراسلہ جاری کر دیا ہے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور