احتجاج، اقلیت، علماء اور پاکستان

احتجاج، اقلیت، علماء اور پاکستان
احتجاج، اقلیت، علماء اور پاکستان

  

جوزف، اسحاق اور جان پنجاب میں میرے آپ کے ارد گرد بستے ہیں۔ سریش کمار، راج کمار، وجے کمار، دلیپ اور اجیت یہ سب سندھ کی دھرتی کے باسی ہیں۔ پارسی، ہندو، مسیحی اورسکھ پاکستان کے باشندے ہیں۔ پاکستان کی گلیوں میں چلتے پھرتے ہیں۔ دفتروں میں ملازمتیں کرتے ہیں۔کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 29 لاکھ افراد غیر مسلم ہیں، جو مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس اخباری رپورٹ کی بنیاد نادرا کا ریکارڈ ہے، ان غیر مسلموں میں چودہ لاکھ ہندو، 12 لاکھ سے زائدمسیحی، چھ ہزار سکھ ، چار ہزار پارسی ہیں اور پندرہ سو بدھ مت کے پیروکار ہیں۔ مزید یہ کہ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں عیسائی مشنریوں کے بے شمار سکول موجود ہیں۔

بہاولپور، لاہور، مری، ساہیوال، کراچی، ٹوبہ ٹیک سنگھ، اسلام آباد، ملتان، راولپنڈی، سیالکوٹ، جہلم میں یہ سکول برسوں سے موجود ہیں، ان سکولوں میں مسلمان طلبہ و طالبات بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ کیا ان لاکھوں غیر مسلم افراد کے خلاف توہین رسالت کے الزامات ہیں؟ نہیں، ہر گز نہیں؟۔۔۔کچھ عرصہ قبل ایک دوست نے فیس بک پر ایک تصویر چسپاں کی۔منظر مغربی ملک کا تھا جہاں گنجان جگہ پر ایک گاڑی سڑک کنارے کھڑی تھی اور نوجوان گاڑی میں سے اسلامی کتب نکال کر تقسیم کر رہاتھا۔ تصویر پرعنوان تھا: "کیا پاکستان میں اس طرح کی آزادی ممکن ہے؟میں نے جواب میں لکھا: کیا پاکستان میں مری مال روڈ پرواقع چرچ کے سامنے عیسائی افرادمذہبی کتابوں کا سٹال نہیں لگاتے؟ کیا پاکستانی اخباروں میں انجیل وزبور خط و کتابت کورس کے اشتہار نہیں لگتے؟ میں نے لاہور کی سڑکوں پر ایسی گاڑیوں کو دیکھا ہے جن کے بیک ونڈ سکرین پرلکھا تھا: ’’آئی ایم پراؤڈ ٹوبی اے کرسچئین‘‘ (مجھے مسیحی ہونے پر فخر ہے)۔

کیا یہ مذہبی آزادی نہیں؟" اقلیتوں کو پاکستان میں شہری حقوق حاصل ہیں۔ پاکستان کے مسلم شہری ان سے اچھا سلوک روا رکھتے ہیں۔ جرم مسلمان شہری کرے یا غیر مسلم ، سزا سے کسی کو استثنا حاصل نہیں،اگر کہیں اقلیتوں کی حق تلفی ہو رہی ہے تو اس میں علماء کا کیا قصور ہے؟ حق تلفی تو آئے روز لاکھوں کمزور مسلمان شہریوں کی بھی ہوتی ہے۔ کبھی پٹواری کے ہاتھوں، کبھی تحصیل دار کے ہاتھوں، کبھی پولیس کے ہاتھوں،کبھی کسی بجلی کمپنی کے ہاتھوں؟ کیا علماء اس کے ذمہ دار ہیں؟ نہیں، ہرگز نہیں؟کسی نے کہاآسیہ بریت کیس پر ہونے والے دھرنے اور احتجاج سے 3 دن میں اربوں کا نقصان ہوگیا۔ عین ممکن ہے، اتنا نقصان ہوا ہو، اب ذرا 126 دن کے دھرنے کے نقصان کا اندازہ کریں۔ ایک شناسا نے اپنی داستان بیان کی۔ انھوں نے غذائی جنس کا ایک ٹرک راولپنڈی فروخت کیا۔

ٹرک جنوبی پنجاب کے شہر سے روانہ ہوا۔آدھی رات کو بروکر (ایجنٹ) نے موبائل پر اطلاع دی کہ دھرنا شروع ہو گیا ہے۔راولپنڈی اسلام آباد میں حالات خراب ہیں۔ راستے بند کئے جا رہے ہیں، اگر مال کا کوئی نقصان ہوا، تو ہم ذمہ دار نہیں۔ حالات ٹھیک ہوں گے تو مال اترے گا۔

ان صاحب نے ٹرک ڈرائیور کو فون کیا۔ لاہور کے قریب سے واپس بلوایا۔آنے جانے کا کرایہ ادا کیا۔ 30 ٹن وزن ٹرک میں صرف کرائے کی مد میں ان کو ایک لاکھ روپے کا نقصان ہوا، اس طرح کے نقصانات کا ازالہ کون کرے گا؟ وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے سبب ملک کی معیشت کو مجموعی طور پر سات کھرب روپے کا نقصان ہوا۔ تاجروں اور صنعتکاروں نے تحریک انصاف کے سربراہ کے سول نافرمانی، ہنڈی اور حوالے کے ذریعے رقم کی ترسیل کے بیانات کو ناقابل عمل اورغیر سنجیدہ قرار دیا۔ اس دھرنے کے شرکاء نے ایک موقع پر عدالتی حکم کے باوجود شاہراہ دستور خالی کرنے سے انکار کر دیا۔

سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے نتیجے میں جب مذہبی جماعتوں نے پر امن احتجاج کیا تو ایک طبقے نے احتجاج کی مخالفت میں بھاشن دینے شروع کر دئیے۔ ان کو معلوم ہونا چایئے کہ احتجاج تو جمہوریت کا حصہ ہیں۔ پاکستان میں سیاسی جماعتیں، مذہبی جماعتیں، پیرا میڈیکل سٹاف، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشنیں، صنعتی ملازمین، کلرکس ایسوسی ایشنز، میڈیا یونینز، مزدود یونینز، طلبہ تنظیمیں وغیرہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے احتجاج کی راہ اپناتی رہیں۔ پاکستان کی تاریخ احتجاجی تحریکوں سے بھری ہوئی ہے۔ 1953ء میں تحریک ختم نبوت کا احتجاج بہت مؤثر تھا،چند قائدین کو پھانسی کی سزا سنائی گئی، لیکن پھانسی پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا احتجاج 1969ء میں ایوب خان کے دور اقتدار کے خاتمے کی نویدبنا۔ 1974ء میں تحریک ختم نبوت کے ذریعے قادیانیت کی سرکوبی کی گئی۔

1977ء میں پاکستان قومی اتحاد کی کوششوں سے برپا ہونے والا احتجاج نہ صرف ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار کے خاتمے کا سبب بنا ، بلکہ بعدازاں وہ پھانسی پر جھول گئے۔ پھانسی کی سزا پر پی پی کی طرف سے ’’عدالتی قتل‘‘ کی اصطلاح سامنے آئی، 2011ء میں پی پی نے سپریم کورٹ میں فیصلے کے خلاف پٹیشن دائر کی)۔ جولائی 1980ء میں جنرل ضیاء الحق کے زکوٰۃ و عشر آرڈیننس کے خلاف مفتی جعفرحسن کی قیادت میں اہل تشیع نے اسلام آباد میں احتجاج کیا اور زکوٰۃ کی ادائیگی سے استثنا حاصل کر لیا۔17 اگست 1989ء کو نوازشریف کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں نے جنرل ضیاء الحق کی پہلی برسی کے لئے فیصل مسجد کے احاطے کا رخ کیا۔

نومبر 1992ء میں قائد حزب اختلاف بینظیر بھٹو کی قیادت میں انتخابات کی دھاندلی کے خلاف لانگ مارچ ہوا۔ نواز شریف حکومت ختم کر دی گئی ، لیکن مئی 1993ء میں بحال ہو گئی۔ جولائی 1993ء میں بینظیر بھٹو نے پھر اسلام آباد کی طرف مارچ کیا ، جس کے نتیجے میں نواز شریف اور غلام اسحاق خاں دونوں کو استعفا دینا پڑا۔ اکتوبر 1996ء میں جماعت اسلامی نے بینظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف احتجاج کیا اور صدر فاروق لغاری نے اس حکومت کو برخاست کر دیا۔قاضی حسین احمد نے 1999ء میں بھارتی وزیر اعظم اٹل واجپائی کی لاہور آمد پر احتجاج کیا۔ 2007ء میں پرویز مشرف کے دور میں ججوں کی بحالی تحریک شروع ہوئی۔ پھر نومبر 2007ء کی ایمرجنسی کے بعد اس کو مزید قوت ملی۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں نواز شریف کی قیادت میں لانگ مارچ نے بالآخر اس کو نتیجہ خیز بنایا۔ 2014ء میں اسلام آباد میں پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کا دھرنا بھی ملک میں احتجاج کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ 2017ء میں تحریک لبیک کے اسلام آباد میں دھرنے کے نتیجے میں وزیر کو مستعفی ہونا پڑا۔

مارچ 2015ء میں یوحنا آباد لاہورمیں چرچ دھماکوں کے بعدمشتعل افراد نے دو معصوم شہریوں بابر نعمان اور محمد نعیم کو حملہ آور ہونے کے شُبہ میں تشدد کرکے جلادیا تھا۔انہی دھماکوں کے نتیجے میں لاہور، کراچی، ملتان، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ سڑکیں بند کی گئیں ،اور املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ یوحنا آباد کا علاقہ دھماکوں کے بعد مسیحی افراد کے پرتشدد مظاہروں کا مرکز رہا تھا۔حالات پر قابو پانے کے لئے رینجرز کے دستے تعینات کرنا پڑے تھے۔ مظاہروں کے بعد حکومت پنجاب اور مسیحی برادری کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، جن میں یوحنا آباد میں پیش آنے والے واقعات کی تحقیقات کے لئے کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ان مذاکرات کی کامیابی کے بعد علاقے میں حالات میں بہتری آئی ہے۔دھرنے اور احتجاج کو مذاکرات سے حل کرنا دانش مندی ہے۔ہمیں سانحہ مشرقی پاکستان ، سانحہ 12 مئی کراچی اور سانحہ لال مسجد سے سیکھنا چاہئے۔احتجاج ہو، ہڑتال ہو یا دھرنا ، یہ سب پرامن ہونا چاہیے۔ آئین اور قانون کے دائرے میں ہونا چاہئے۔ توڑ پھوڑ ،تشدد، لوٹ مار اور جلاؤ گھیراؤ یہ سب درست نہیں، لیکن کیا کیجئے ، شرپسند اور ملک دشمن عناصر ایسے مواقع سے فائدہ ٹھاتے ہیں۔

ایسے موقع پر گلو بٹ جیسے کردار گلستان کو گورستان بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔دینی طبقے کے بارے میں پروپیگنڈہ کیا جاتاہے کہ وہ پاکستان سے محبت نہیں کرتے۔ اپنے گھر سے کون محبت نہیں کرتا؟ مساجد اور مدارس کے محافظ پاکستان کی حفاظت کے لئے بھی ہر دم تیار ہیں۔ وہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔یہ پاکستان اگرکسی عہدیدار ،وزیر اور افسرکا ہے تو مسجد کے نمازی اورمدرسے کے طالب علم کا بھی ہے،لیکن خاتم النبینّ نبی اکرمﷺ سے محبت کا لازوال ایمانی تقاضا ہے کہ اپنے ماں ، باپ، جان ، مال، اولاد اور ہر شے سے سب سے بڑھ کر آپ سے محبت کی جائے:

محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے

اسی میں ہو اگر خامی تو ایماں نامکمل ہے

مزید : رائے /کالم