امریکہ کے وسط مدتی انتخا بات

امریکہ کے وسط مدتی انتخا بات
 امریکہ کے وسط مدتی انتخا بات

  

امریکہ میں ایوان نمائندگان کی کل 435اور سینیٹ کی کل100نشستوں میں سے 35 نشستوں، جبکہ 36ریاستوں میں گورنرز کے انتخابات کا مرحلہ مکمل ہوا ۔ انتخابی نتا ئج کے مطابق امریکہ کے ایوان زیریں یعنی ’’ایوان نمائندگان‘‘ میں ڈیمو کریٹک پارٹی نے 223،جبکہ ری پبلکن پارٹی نے 197نشستیں حاصل کیں۔ان وسط مدتی انتخابات کے بعد سینٹ میں ڈیمو کریٹک پارٹی کی 44 اور ری پبلکن پارٹی کی 51 نشستیں ہو گئی ہیں۔

’’ایوان نمائندگان‘‘ میں ٹرمپ مخالف ڈیمو کریٹک پارٹی کی فتح کو واضح طور پر ٹرمپ کی ناکامی سے تعبیر کیا جا رہا ہے، مگر سینٹ میں ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کو ہی اکثریت حاصل ہوئی، بلکہ ری پبلکن پارٹی نے ایسی نشستوں سے بھی کامیابی حاصل کی جن پر ڈیمو کریٹک پارٹی کا پلہ بھاری دکھائی دے رہا تھا۔امریکی ریاستوں انڈیانا اور میزوری میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے اہم امیدوار بھاری مارجن سے شکست کھا گئے۔ فلوریڈا اور شمالی ڈکوٹاکی نشستوں کو بھی ’’ڈیمو کریٹک پارٹی‘‘ کے لئے آسان قرار دیا جا رہا تھا،

مگر یہاں پر بھی ری پبلکن پارٹی کو ہی سینٹ کی نشستیں حاصل ہوئیں،جبکہ ریاستوں کے گورنرز کے انتخابات کے لئے ڈیمو کریٹک پارٹی نے ایسی ریاستوں سے کامیابی حاصل کی جن پر انتخابات سے پہلے ری پبلکن پارٹی کا پلہ بھاری نظر آ رہا تھا۔ الیناس،مین،مشی گن، کنساس جیسی ریاستیں جو اس سے پہلے ری پبلکن پا رٹی کے پاس تھیں اب ان میں ڈیمو کر یٹک پارٹی نے کامیابی حاصل کی،جبکہ اوہائیو اور فلوریڈا جیسی ریاستیں جہاں بہت سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی تھی ان ریاستوں میں ’’ری پبلکن پارٹی‘‘ نے کامیابی حاصل کی۔ڈیمو کریٹک پارٹی نے نیو یارک، پنسلوینیا اور کیلی فورنیاجیسی بڑی ریاستوں میں اپنی کامیا بی برقرار رکھی جبکہ ٹیکساس میں ری پبلکن پارٹی نے اپنی کامیابی کو برقرار رکھا۔

ان انتخابات کے بعد ’’ ایوان نمائندگان‘‘ میں ٹرمپ کو اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی تاریخ میں پہلے بھی کئی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ وسط مدتی انتخابات میں عہدے پر موجود صدر کی جماعت شکست کھا جاتی ہے۔ حالیہ وسط مدتی انتخابات نے امریکی سیاست کے بارے میں بعض مفروضوں کو ایک مرتبہ پھر غلط ثابت کر دیا ہے جیسے ڈیمو کریٹ پارٹی انتخابات میں ووٹوں کے حصول کے لئے یہ تاثر دیتی ہے کہ یہ پا رٹی اپنی پالیسیوں کی تشکیل میں محنت کش ، عام امریکیوں، سیاہ فام آبادی، عورتوں اور محروم طبقات کو خصوصی اہمیت دیتی ہے۔یہ تاثر کہ ڈیمو کریٹس عام ، غریب اور متوسط طبقے کے امریکیوں کی جماعت ہے بھی حقائق کے منافی ہے،بلکہ ان انتخابات میں امریکی سینٹ کی 35 نشستوں، ایوان نما ئندگان اور ریاستی گورنروں کے انتخابات میں فنڈنگ کے حوالے سے جو اعداد و شمار ہمارے سامنے آئے ہیں اِن کے مطابق ڈیمو کر یٹس کو سرمایہ دار اور بالائی متوسط طبقے کی پروفیشنل کلاس سے بھی بھرپور فنڈز حاصل ہوئے۔

ان انتخابات میں ڈیمو کریٹ پارٹی کو الیکٹرونکس، مواصلات، قانون، تعلیم و صحت کے شعبوں، انشورنس پالیسیوں کے مالکان اور رئیل اسٹیٹ کے نمائندوں کی واضح حما یت کے علاوہ گولڈ مین سیچرز، یو بی ایس، جی پی مارگن، سٹی گروپ، لی مین برادرز اور گوگلز جیسی کارپوریٹ کمپنیوں کی بھی بھرپور مالی معاونت حاصل رہی۔کار پو ریٹ سیکٹر نہ صر ف امریکی انتخابات، بلکہ اس کے نتیجے میں وجو د میں آنے والی حکو متی پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔سا بق امریکی صدر بل کلنٹن اپنی کتاب My Lifeمیں لکھتے ہیں کہ اپنی شدید خواہش کے باوجود وہ پبلک مقامات میں مکمل طور پر سگریٹ نوشی پر اس لئے پابندی عائد نہ کروا سکے، کیونکہ اکثر سگریٹ بنانے والی بڑی کمپنیوں نے ان کی جما عت کو انتخا با ت میں بھاری فنڈز دےئے تھے۔

یہ چھوٹی سی مثال ثابت کر نے کے لئے کا فی ہے کہ بظاہر عوام کے وو ٹوں سے منتخب ہو نے والا امریکی صدر اپنی پالیسیوں کی تشکیل میں کیسے کارپوریٹ سیکٹرز کے سامنے بے بسی کی تصویر ہوتا ہے،جبکہ سینیٹزز، ایوان نمائندگان کے ارکان اور ریاستوں کے گورنروں کو بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی انتخابی مہم کے اخراجات اٹھانے والے سرمایہ داروں کے مفا دات کے خلاف کوئی بھی انتظامی اور قانونی اقدام نہیں اٹھا سکتے۔ امریکہ میں 2010ء میں Super PAC (Political Action Committee) نامی ایسا قانون بھی بنایا گیا کہ جس کے مطا بق کار پوریٹ سیکٹرز بالواسطہ طور پر کسی بھی سیاسی جما عت کے لئے کسی مقررہ حد کے بغیر فنڈنگ کر سکتے ہیں۔ یوں امریکی انتخا با ت کی عملی حیثیت ایک نیلامی کی سی ہو کر رہ گئی ہے جس میں امیدواروں پر بڑ ے بڑے سرمایہ د ار بولی لگا تے ہیں اور جس امیدوار پر زیادہ قیمت لگائی جا تی ہے وہ انتخابات جیت جاتا ہے۔

1933ء سے1945ء تک ڈیمو کریٹ پارٹی کے امریکی صدرروز ویلٹ نے نیو ڈیل کے نام سے ایسے اقدامات اٹھائے جن کا مقصد امریکہ میں غریب اور محروم طبقات کو کسی حد تک ریلیف دینا تھا۔ ڈیمو کریٹ پا رٹی آج بھی اس نیو ڈیل پروگرام کاذکر فخرسے کرتی ہے اور اسے عام امریکیوں کے سامنے ایک مثال کے طور پر پیش کرتی ہے کہ یہ جما عت عام امریکیوں کے مفا دات کا خیا ل رکھتی ہے، مگر 1970ء کی دہا ئی میں جب امریکی سرمایہ داری نظام مشکلا ت کا شکا ر ہوا تو ڈیمو کریٹ پارٹی نے عام امریکیوں کی جماعت ہونے کا لبا دہ اتار کر واضح طور پر دائیں با زو پر مبنی معا شی پالیسیوں کی حما یت شروع کر دی جو اب تک جاری ہے۔جب 2012ء میں اوباما دوسری مر تبہ صدر منتخب ہو ئے تو 80 بڑی امریکی کمپنیوں (جنہوں نے انتخابات میں ڈیمو کر یٹ پا رٹی پر سرمایہ لگا یا تھا) نے اوباما کو خط لکھ کر یہ مطا لبہ کیا کہ ٹیکس نظا م میں اصلا حا ت لا ئی جائیں، یعنی ان بڑ ی کمپنیوں پر ٹیکس میں کمی کر کے عام امریکیوں پر ان کا مزید بوجھ لا د دیا جا ئے۔اسی مطالبہ کے با عث اوبا ما نے وا ضح طور پر یہ عند یہ بھی دیا کہ انہیں بڑی سر ما یہ دار کمپنیوں پر ٹیکسوں میں کمی کر نے کے لئے صحت کے لئے مختص 320بلین ڈالرز کی رقم کی کٹو تی کر نا ہو گی۔ یہ ایک مثا ل ثا بت کر نے کے لئے کافی ہے کہ ری پبلکن پا رٹی کی طرح ڈیمو کریٹ پا رٹی کے لئے بھی کارپوریٹ سیکٹر کے مفا دات مقدم ہیں۔ امریکہ کی دونوں سیا سی جماعتیں (ڈیمو کریٹ اور ری پبلکن) امریکہ کے استحصالی نظام کی رکھوالی اور کارپوریٹ سیکٹر کی نما ئندہ جماعتیں ہیں۔ ان دونوں کا مفاد اِسی میں ہے کہ وہ اِس نظام کو برقرار رکھیں جس سے وہ خود اور اِن کے حامی سرمایہ دار مستفید ہو رہے ہیں۔

صورت حال کو تبدیل کرنے کی سکت یا اُمید صرف اُسی سیاسی جماعت سے رکھی جا سکتی ہے جو استحصالی نظام کے خلاف تاریخی جدوجہد سے تشکیل پذیر ہوئی ہو اور بدقسمتی سے امریکہ کی دونوں سیاسی جماعتیں اس عنصر سے محروم ہیں کیونکہ یہ دونوں امریکی حکمران طبقات کی اپنی جماعتیں ہیں۔ اس لئے اس تا ثر میں کوئی حقیقت نہیں کہ حالیہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ڈیمو کریٹک پارٹی ایو ان نما ئندگان میں ٹرمپ کے خلاف کوئی مو ثر اپوزیشن کر پائے گی۔

مزید : رائے /کالم