ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں درآمد کا بلی ٹائر انسانی جانوں کیلئے خطرہ ہیں : تیار کنند گان

ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں درآمد کا بلی ٹائر انسانی جانوں کیلئے خطرہ ہیں : تیار ...

کراچی(این این آئی)مقامی ٹائر انڈسٹری کے حلقوں نے ملک میں فروخت کئے جانے والے کابلی ٹائروں کو انسانی زندگیوں کیلئے باعث خطرہ قرار دیا ہے ۔ مقامی مینوفیکچررز نے کہاہے کہ یہ پرانے ٹائر مارکیٹ میں بڑی تعداد میں فروخت کئے جارہے ہیں اور اس کا ایک بڑا ذریعہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ ان کی روک تھام کیلئے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے امپورٹ ڈیٹا کی جانچ پڑتال کو سخت بنائے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ افغانستان سے امپورٹ کئے جانے والے ٹائر وہاں کی آبادی اور مارکیٹ کی درست ترجمانی کرتے ہیں یا نہیں۔ افغان ٹرانزٹ کے ذریعے ٹائر اسمگل کرکے کراچی اور دیگر ملک کے حصوں میں منتقل کردیے جاتے ہیں، اسی طرح ملک میں ونٹر ٹائر بھی فروخت کئے جاتے ہیں۔ یہ ٹائر سرد ملکوں میں صرف اس وقت استعمال کئے جاتے ہیں جب درجہ حرارت منفی ڈگری تک ہوجاتا ہے ۔اس طرح گرم علاقوں میں یہ ٹائر موت کا سبب بن سکتے ہیں۔ذرائع نے کہا کہ جب تک مارکیٹ میں فروخت کئے جانے والے ان ٹائروں کی د کانوں کو بند نہیں کیا جاتا اور مالکان کو جیلوں میں بند نہیں کیا جاتا یہ عمل جاری رہے گا اور حکومت کو آمدنی میں نقصان ہوتا رہے گا۔

مزید : کامرس