پیپلزپارٹی۔۔۔سیاسی دوراہے پر!

پیپلزپارٹی۔۔۔سیاسی دوراہے پر!
 پیپلزپارٹی۔۔۔سیاسی دوراہے پر!

  

بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں جو پہلی تقریر کی تھی، وہ بڑی متوازن، مدلل اور سلجھی ہوئی تقریر تھی، اُس تقریر نے اُن کا امیج یکدم کہاں سے کہاں پہنچا دیا تھا، کہا جا رہا تھا کہ بلاول پاکستانی سیاست میں تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوں گے اور اُن کا سیاسی مستقبل روشن ہے،مگر یہ صورتِ حال زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکی۔

بلاول بھٹو زرداری نے پھر وہی روایتی بیان بازی شروع کر دی، وہی گھسے پٹے اعتراضات جو حکومت پر ہر اپوزیشن جماعت کر رہی ہے، وہی الزامات اور وہی باتیں، جو ہر حکومت مخالف کر رہا ہے۔اب یہ کہنا کہ موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی تو کوئی نہیں،البتہ قرضے مانگنے کو خارجہ پالیسی بنا لیا گیا ہے، قرضے مانگنا پاکستان کی سیاست میں کون سی انوکھی بات ہے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی حکومتیں دس برسوں کے دوران24ہزار ارب روپے کے قرضے چڑھا کر گئی ہیں۔ آخر یہ قرضے خودبخود تو نہیں ملے ہوں گے، مانگے ہی گئے ہوں گے ناں،اب موجودہ حکومت یا تو مُلک کو دیوالیہ قرار دلواتی یا پھر قرض لے کر معاملات کو چلانے کی کوشش کرتی۔

یہ تو بڑی اچھی خبر ہے کہ وزیراعظم عمران خان آئی ایم ایف پر مکمل انحصار کرنے کی بجائے دوست ممالک سے اچھا خاصا ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں، اب آئی ایم ایف اتنی کڑی شرائط نہیں لگا سکتا، کہ مُلک میں مہنگائی ناقابلِ برداشت ہو جائے۔ میرے خیال میں تو عمران خان کی اس کاوش کو سراہا جانا چاہئے۔اپوزیشن کو اُن کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگانے کی بجائے حکومت کی حمایت کرنی چاہئے، لیکن ایسا تو پاکستان میں ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ تو صرف بلاول بھٹو زرداری کی اسمبلی میں تقریر سے امید بندھی تھی، جنہوں نے کہا تھا کہ ہم اچھے کاموں میں وزیراعظم کا ساتھ دیں گے، تعمیری کردار ادا کریں گے، اُس وقت لگا تھا کہ پیپلزپارٹی اب اپنی طرزِ سیاست تبدیل کر لے گی، لیکن جونہی آصف علی زرداری نے اپنی آواز بدلی، لہجہ تبدیل کیا، بلاول بھٹو بھی بدل گئے اور پھر یہ تاثر قائم ہو گیا کہ پیپلزپارٹی میں سب کچھ صرف آصف علی زرداری ہیں بلاول کو خلا پُر کرنے کے لئے رکھا ہوا ہے۔

حالاتِ حاضرہ پر غور کیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ آصف علی زرداری جیسا تجربہ کار سیاست دان بھی خاصی کنفیوژن کا شکار ہے۔ ایک طرف دونوں جماعتوں کے حالات دیکھ کر یہ تاثر اُبھرتا ہے کہ دونوں بہت قریب آ سکتی ہیں،لیکن عملاً دیکھا جائے تو ابھی تک بعد شرقین موجود ہے۔ آصف علی زرداری اور نواز شریف مولانا فضل الرحمن کی اے پی سی میں شرکت کے لئے آمادہ نہ ہوئے اور دوسرا آج کل آصف علی زرداری پھر نواز شریف کو اپنے بیانات کے نشانے پر لئے ہوئے ہیں۔انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ نواز شریف کو تو سیاست آتی ہی نہیں،وہ ہمیشہ ڈیل کر کے اقتدار میں آئے۔ اگرچہ انہوں نے عمران خان کے بارے میں بھی یہی کہا تاہم نواز شریف کے ساتھ تو اُن کا اپوزیشن میں ایک فطری اتحاد بننا چاہئے،مگر وہ نہیں چاہتے۔ آج کل وہ اپنے جیل جانے اور اُس کے بعد مزید مشہور ہونے کی پیش گوئی کر رہے ہیں،چلیں یہ باتیں تو دِل کی بھڑاس نکالنے کے لئے ضروری ہیں۔

البتہ ایک ہی دن آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے یہ کس لئے کہا ہے کہ آئندہ حکومت پیپلزپارٹی کی ہو گی۔ایک ایسے وقت میں جب نئی حکومت کو قائم ہوئے تین ماہ بھی پورے نہیں ہوئے،انتخابات اور اس کے بعد اپنی حکومت بننے کی پیش گوئی کیونکر کی جا سکتی ہے، پانچ سال تک تو پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر جائے گا۔ تحریک انصاف تو یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ آئندہ سندھ میں بھی حکومت اُس کی ہو گی،کیا آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو آئندہ حکومت بنانے کی باتیں اس دعوے کا توڑ کرنے کے لئے کر رہے ہیں؟مسلم لیگ(ن) کی مشکلات تو بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔ اِس بات کا بھی امکان ہے کہ نواز شریف کی ضمانت منسوخ ہو جائے، ویسے بھی وہ غیر معمولی طور پر سیاست سے لاتعلق ہو چکے ہیں، مریم نواز بھی منظر سے غائب ہیں، شہباز شریف نیب کی حراست میں ہیں اور حمزہ شہباز پر بھی گرفتاری کے سائے منڈلا رہے ہیں اِس لئے مسلم لیگی رہنماؤں کا تحریک انصاف پر تنقید کرنا تو بنتا ہے،لیکن پیپلز پارٹی کیوں اضطراب کا شکار نظر آ رہی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کیوں اپنا صلح جوئی والا بیانیہ چھوڑ گئے ہیں، آصف علی زرداری کیوں ایسے بیانات دے رہے ہیں، جن سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، ایک منی لانڈرنگ کیس اگر پیپلزپارٹی کو اتنا پریشان کر سکتا ہے تو پھر اُس وقت کیا ہو گا، جب آصف علی زرداری ممکنہ طور پر گرفتار ہو جائیں گے۔

آصف علی زرداری خود بار بار کہہ رہے ہیں کہ انہیں گرفتار کرنے کی تیاری ہو رہی ہے۔ کیسز کو اُسی رخ پر لے جایا جا رہا ہے جو اُن کی گرفتاری پر منتج ہو گا۔ مَیں تو یہ سوچ رہا ہوں بالفرض آصف علی زرداری گرفتار کر لئے جاتے ہیں، تو بلاول بھٹو زرداری کا ردعمل کیا ہو گا، کیا وہ حمزہ شہباز کی طرح غصے میں آ جائیں گے اور پنجاب اسمبلی جیسا واقعہ قومی یا سندھ اسمبلی میں کروا بیٹھیں گے۔یہ سوال اِس لئے بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ اگر پیپلزپارٹی پر یہ مشکل آئی تو بلاول بھٹو زرداری ہی قائد ہوں گے۔اب وہ زمانہ تو نہیں جب آصف علی زرداری جیل میں تھے تو بے نظیر بھٹو شہید پارٹی چلا رہی تھیں وہ تو ایک بڑی لیڈر تھیں اور انہوں نے حالات کا مردانہ وار مقابلہ کیا تھا،حالانکہ اُس وقت بچے بھی چھوٹے تھے، جنہیں وہ انگلی پکڑ کر لانڈھی جیل میں اُن کے والد سے ملوانے لے جاتی تھیں۔اگرچہ ابھی یہ مفروضہ ہے کہ آصف علی زرداری گرفتار ہو سکتے ہیں،لیکن جو شواہد سامنے آ چکے ہیں اور جے آئی ٹی جن نکات پر کام کر رہی ہے، وہ سب آصف علی زرداری کے گرد گھومتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اب آصف علی زرداری نے ازخود اپنی ممکنہ گرفتاری کے بیانیے کو اپنا رکھا ہے، نواز شریف اور شہباز شریف کے کیس سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اب شور شرابے یا دنگا فساد سے ریلیف حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اب تو صرف قانون کا راستہ ہی بچتا ہے۔ ماض�ئ قریب میں یہ حقیقت بھی سامنے آ چکی ہے کہ جتنا زیادہ قانونی تقاضوں سے جان چھڑا کر معاملے کو سیاسی رنگ دیا جاتا ہے، اتنا ہی نقصان ہوتا ہے۔

حالات ایسے ہیں کہ اب کوئی بھی فیصلہ سیاسی بنیاد پر نہیں ہو سکتا، منی لانڈرنگ کا کیس تو اٹھایا ہی سپریم کورٹ نے ہے، اب آصف علی زرداری کسی ڈیل کے تحت تو اس کیس سے نہیں نکل سکتے۔ البتہ اگر ان کے ہاتھ صاف ہیں تو انہیں کوئی پکڑ نہیں سکتا۔ ضرورت اِس بات کی ہے کہ سیاست اور کرپشن کے معاملے کو ایک دوسرے سے علیحدہ رکھا جائے۔پیپلزپارٹی کے لئے سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ وہ سندھ میں بہتری لائے۔ سندھ کو ایک مثالی صوبہ بنانے پر پوری توجہ صرف کرے۔ سابقہ دس برسوں میں سندھ کے اندر بے انتہا کرپشن ہوئی ہے۔ اس حوالے سے جے آئی ٹی کے سامنے اَن گنت شواہد آ چک ہیں۔

اس سے پہلے کراچی میں زمینوں پر قبضے، پانی چوری،فنڈز میں خورد برد کے ہوشربا حقائق خود سپریم کورٹ کے ذریعے نمایاں ہو چکے ہیں یہ کام صرف بلاول بھٹو زرداری کر سکتے ہیں کہ سندھ میں گورننس کے معیار کو تبدیل کر دیں، کیونکہ ان کے پاس وژن بھی ہے اور وہ کام کرنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔ وہ اگر ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو گویا وہ پورے مُلک کو یہ پیغام دینے کے قابل ہو جائیں گے کہ پیپلزپارٹی اُن کی قیادت میں تبدیل ہو چکی ہے اور اُس کا مقصد صرف عوام کی خدمت ہے۔ گویا آصف علی زرداری نے جو یہ کہا ہے کہ اُن کی گرفتاری سے پارٹی مزید مقبول ہو گی۔ تو یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اُن کی ممکنہ عدم موجودگی میں پارٹی کی قیادت کرتے ہوئے اُسے صحیح معنوں میں وہی پیپلزپارٹی بنا دیں جو عوام کے دِلوں پر راج کر چکی ہے۔

مزید : رائے /کالم