میں اپنے تمام اثاثے فروخت کر کے حج پر چلاگیا مجھے امید تھی کہ اللہ تعالی میرے لئے آمدن کے نئے ذرائع پیدا کر دے گا

میں اپنے تمام اثاثے فروخت کر کے حج پر چلاگیا مجھے امید تھی کہ اللہ تعالی میرے ...

انٹرویو:ممتاز شفیع

یہ 1976ء کی بات ہے، ذوالفقار علی بھٹو اس ملک کے سب سے بااختیار وزیراعظم تھے۔ یوں کہہ لیجئے کہ بھٹو صاحب کے دورِ اقتدار کا عروج تھا۔ اپنے دورِ اقتدار کے آغاز میں ہی انہوں نے نجی تعلیمی اداروں کو سرکاری تحویل میں لے لیا تھا چنانچہ تعلیم کے شعبے میں ایک ایسا بحران پیدا ہوا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کئے جاتے ہیں۔ بھٹو مرحوم کے اس اقدام کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا تھا کہ انہوں نے چونکا دینے والے فیصلے کرکے اپنے سرکاری اور عوامی مخالفین کو مرعوب اور متاثر کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ بھی کہا جاتا تھا کہ بھٹو صاحب سیاسی انتقام کے لئے قومیانے کی پالیسی پر عمل کررہے تھے، چنانچہ اسی جذبے اور مقصد کے تحت انہوں نے نجی صنعتوں کو بھی سرکاری تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے تحت میری دو فلور ملوں اور ایک فیکٹری پر قبضہ کر لیا گیا۔ یہ واضح کرنے کی ضرورت نہیں کہ بھٹو دور میں صنعتوں کو سرکاری تحویل میں لینے کا فیصلہ بنیادی طور پر سخت ناانصافی پر مبنی تھا اور اس انتہائی غلط فیصلے کی وجہ سے ملکی صنعتوں کی تباہی اور بربادی ہی ہوئی۔ ہماری صنعتی ترقی کی رفتار نہ صرف کم ہوئی، بلکہ صنعتی پیداوار مذاق بن کر رہ گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری قومی معیشت کو زبردست دھچکا پہنچا۔ بے روزگاری میں تیزی سے اضافہ ہوا اور سرمایہ کاروں میں بہت زیادہ بد دلی اور مایوسی پھیل گئی۔ صنعتوں کو قومیانے کے فیصلے سے مَیں بھی سخت دلبرداشتہ ہوا۔ اپنے صنعتی اداروں سے محروم ہونے کے بعد کچھ عرصے تک تو میں یونہی پھرتا رہا تاہم مَیں مایوس نہ ہوا، مجھے اللہ پر پورا بھروسہ تھا کہ کوئی نہ کوئی راستہ ضرورملے گا۔ پھر یہ ہوا کہ بھٹو کا تختہ الٹ دیا گیا، جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگانے کے بعد سرکاری تحویل میں لی جانے والی صنعتوں کو مالکان کو واپس دینے کا فیصلہ کیا تو مجھے بھی میری ملیں اور فیکٹری مل گئی۔ مَیں نے ہر مشکل وقت میں اللہ پر ہی بھروسہ کیا ہے۔

ایک بار بیٹھے بیٹھے حج کرنے کا خیال دل میں آیا تو مَیں نے فوری طور پر حج کے لئے جانے کا فیصلہ کر لیا اور وہ بھی اس طرح کہ مَیں نے اپنے تمام اثاثے فروخت کر دیئے اور حاصل ہونے والی رقم جیب میں ڈال کر اپنی بیگم سے کہا کہ ’’بھلیے لوکے! چل اسیں دوویں حج کر آیئے‘‘(اے نیک بخت! چلو، ہم دونوں حج کر آئیں) میری بیگم بہت حیران ہوئی۔عزیز رشتہ دار اور دوست احباب بھی حیرت زدہ تھے کہ اپنے لئے آمدن کے نئے ذرائع پیدا کرنے کی بجائے بیگم کے ساتھ حج کرنے جا رہا ہے۔ دراصل مَیں نے کافی غور و فکر کے بعد خود کو یہ کہہ کر سمجھایا تھا کہ محمد بشیر! تم یہی سمجھ لو کہ ایک مرتبہ پھر کلکتہ کے فسادات کی وجہ سے جمع پونجی لٹا بیٹھے ہو، لیکن اس مرتبہ لٹے پٹے مہاجر کی حیثیت سے لاہور کا رخ نہیں کر رہے ہو، بلکہ خانہ کعبہ حاضری دے رہے ہو۔ مجھے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ اس مرتبہ بھی مجھے نوازے گا۔ مَیں ایک بار پھر پہلے کی طرح اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جاؤں گا اور مجھے روپے پیسے کے معاملے میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ دیکھئے، میرا یقین رنگ لایا اور پھر تھوڑے ہی عرصے بعد مَیں فیکٹری اور فلور ملوں کا مالک بن گیا‘‘۔۔۔حاجی محمد بشیر جب اپنی زندگی کے اہم موڑ کی تفصیل بیان کر رہے تھے تو ان کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی تھی۔ وہ ذرا جوش اور جذبے کے ساتھ اپنی زندگی کی جدوجہد کے بارے میں بتا رہے تھے۔ پچھلے چالیس پچاس برسوں سے جو لوگ سرمایہ کاری اور صنعتوں کے شعبے سے وابستہ ہیں، وہ حاجی محمد بشیر کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ ان کا نام سنتے ہی ذہن میں ایک ایسے شخص کا تصور اُبھرتا ہے، جو جہد مسلسل کرتے ہوئے ایمانداری اور خدا ترسی کے اصولوں پر عمل پیرا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اسی لئے نوازا ہے کہ وہ جھوٹ سے سخت نفرت کرتا ہے۔ محنت، محنت اور محنت کے ساتھ دیانتداری کو لازم و ملزوم قرار دیتا ہے اور خدا کی مخلوق کی خدمت کے جذبے سے ہمیشہ سرشار رہتا ہے۔

حاجی محمد بشیر سے خصوصی انٹرویو کے لئے جب ہم ان کے دفتر واقع شاہ جمال گئے تو ان کے دفتر میں معمول کے مطابق کام ہو رہا تھا۔ دفتر کی فضا میں عجیب طرح کا سکون اور راحت کا احساس نمایاں تھا۔ حاجی بشیر صاحب اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھے اپنی زندگی کی ان یادوں کو تازہ کر رہے تھے جن میں جدوجہد ، اعتماد، محنت، خلوص اور لگن کا ہر قدم پر ثبوت ملتا تھا۔ دھیمے لہجے میں ٹھہر ٹھہر کر گفتگو کرتے ہوئے حاجی بشیر صاحب نے ہمیں اپنے بارے میں بتایا کہ لاہور ان کا آبائی شہر ہے۔ وہ 1929ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم شیرانوالہ گیٹ کے ایک پرائمری سکول سے حاصل کی، انہوں نے فخریہ انداز میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مَیں نے پرائمری سکول کی تعلیم کے دوران ہی سکالرشپ حاصل کی۔ سارے سکول میں ، مَیں واحد لڑکا تھا جسے سکالرشپ ملا تھا، اس زمانے میں لاہور میں ایچی سن سکول کے سوا کوئی بڑا اور معیاری سکول نہیں ہوتا تھا،چنانچہ مَیں نے پرائمری کے بعد شیرانوالہ گیٹ ہی کے ہائی سکول میں مزید تعلیم حاصل کی۔ 1945ء میں، مَیں نے میٹرک کا امتحان پاس کر لیا تو مزید تعلیم حاصل نہ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ 1941ء میں میرے والد صاحب فوت ہو گئے تھے۔ اس وقت مَیں چھٹی جماعت کا طالب علم تھا۔ میرے والد صاحب چمڑے کا کاروبار کرتے تھے۔ میرے بڑے بھائی والد صاحب کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ والد صاحب کے انتقال کے چار سال بعد مَیں نے میٹرک کا امتحان پاس کر لیا تو میرے بزرگوں خصوصاً بڑے بھائی صاحب نے یہ فیصلہ کیا کہ مجھے مزید تعلیم حاصل کرنے کی بجائے اپنے کاروبار پر توجہ دینی چاہیے۔ اس زمانے میں میٹرک تک تعلیم کو بھی مناسب سمجھا جاتا تھا۔ اس کے بعد ایک اور اہم فیصلہ یہ ہوا کہ ہم لوگ لاہور سے کلکتہ منتقل ہو جائیں گے کیونکہ وہاں لیدرٹینریز کی بہت زیادہ گنجائش تھی چنانچہ 1945ء میں ہم نے لاہور میں اپنے تمام اثاثے فروخت کر دیئے۔ اپنا آبائی مکان ہی نہیں دکان بھی بیچ دی اور کلکتہ چلے گئے۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ 1946ء میں یعنی وہاں شفٹ ہوئے ہمیں ایک سال بمشکل ہوا تھا کہ کلکتہ میں خوفناک فسادات شروع ہو گئے۔ فسادات اچانک شروع ہوئے اور تیزی سے پھیل گئے۔ ان فسادات میں ہم لوگ تو محفوظ رہے لیکن ہمیں جان بچانے کے لئے وہاں سے سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آنا پڑا۔ ہم لوگ خالی ہاتھ لاہور آ گئے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ زندہ سلامت ہیں۔

یہ پاکستان بننے سے دو تین ماہ پہلے کی بات ہے۔ہماری قسمت دیکھئے کہ ہمیں پاکستان بننے سے پہلے ہی مہاجر بلکہ لٹے پٹے مہاجر کی حیثیت سے واپس ہجرت کرنا پڑی۔ وہاں ہم نے ایک سال کے دوران ایک عدد ٹینری بنا لی تھی۔ ہندو اس کاروبار میں شرکت نہیں کرتے، کیونکہ ہندو گاؤ ماتا کی پوجا کرتے ہیں اور زیادہ کھالیں گائے ہی کی ہوتی تھیں۔ کلکتہ میں مسلمانوں کی صرف دو ٹینریز تھیں۔ ایک ہماری اور دوسری حاجی سردار محمد کی تھی۔ باقی تمام ٹینریز کے مالکان کا تعلق چین سے تھا۔ ہم نے وہاں ایس ایم لطیف اینڈ کمپنی کے نام سے باقاعدہ فرم بنائی اور ہماری ٹینری بھی اسی نام سے تھی۔ میرے بڑ ے بھائی کا نام محمد لطیف ہے جبکہ والد صاحب کا نام حاجی کرم دین تھا۔ جب ہمارا کاروبار ذرا چل نکلا تو اس کے فوراً بعد کلکتہ میں فسادات شروع ہو گئے اور ہمیں فوراً واپسی کا پروگرام بنانا پڑا۔ ہمارے پاس نقد رقم برائے نام تھی کیونکہ سب کچھ تو ٹینری میں لگا دیا تھا۔ ہم نے کوشش کی کہ کوئی کاروباری پارٹی ہماری ٹینری خرید لے، مگر بات نہ بنی پھر ہم نے اپنے ملازمین کو پیشکش کی کہ وہ جتنی بھی رقم آسانی سے دے سکتے ہیں،دے کر اس ٹینری کے مالک بن جائیں۔ میرے بڑے بھائی صاحب نے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ ہم جب یہ ٹینری آپ لوگوں کے حوالے کرکے جائیں تو کوئی طاقتور پارٹی یہ ٹینری آپ سے یہ کہہ کر چھین لے کہ تم نے اصل مالکان کے جانے کے بعد قبضہ کیا ہے۔ ہم نے باقاعدہ اسٹامپ پیپر پر انہیں لکھ کر دیا کہ ٹینری فروخت کرکے اتنی رقم وصول پائی ہے۔ ہم نے اس ٹینری پر اڑھائی لاکھ سے زائد رقم خرچ کر دی تھی جبکہ ہمارے ملازمین نے ہمیں صرف چھیالیس ہزار روپے دیئے۔ دراصل وہ لوگ پشتوں سے غربت اور پسماندگی کے مارے ہوئے تھے۔ انہیں چمار کہا جاتا تھا۔ ان کے پاس نقد رقم برائے نام ہی ہوتی تھی۔ پھر بھی انہوں نے کچھ پہلے سے جمع رقم اور کچھ قیمتی اشیاء فروخت کرکے 46ہزار روپے اکٹھے کر لئے۔یہ رقم ان لوگوں کے لئے 46لاکھ روپے سے بھی زیادہ تھی۔ ہمارے لئے بھی اس رقم کی بہت زیادہ اہمیت تھی کیونکہ ہمارے پاس کچھ اور نہیں تھا۔ یہ رقم لے کر ہم سب لوگ واپس لاہور آ گئے۔یہاں بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ جتنی رقم ہمارے پاس تھی، اس سے نہ تو کاروبار شروع ہو سکتا تھا اور پھر گھر خریدنے کے لئے بھی رقم کی ضرورت تھی۔ بالآخر دو سال بعد یہ طے ہوا کہ اب مشترکہ کاروبارکی بجائے ہر کوئی اپنی اپنی قسمت آزمائے جس کا مقدر تیز ہو ، وہ چاہے جتنا آگے بڑھ جائے کوئی کسی دوسرے پر بوجھ نہ بنے۔

ہم چار بھائی تھے اور مَیں سب سے چھوٹا تھا۔ جب ہم نے علیحدہ علیحدہ کام کرنے کا فیصلہ کیا تو اسی دوران میری شادی ہو گئی۔ ہم چاروں بھائی اپنی اپنی سمجھ کے مطابق مختلف کاروبار کرتے رہے۔ مَیں نے بھی تین چار سال تک مختلف کاروبار کئے، ان میں کپڑے کا کاروبار اعظم کلاتھ مارکیٹ کے ساتھ سربلند مارکیٹ میں کیا۔ کراچی میں بھی کپڑے کا کاروبار کیا، ڈیڑھ دو سال تک محدود پیمانے پر لیدر(چمڑے) کا کاروبار بھی کرتا رہا۔ آخر کار 1952ء میں، مَیں نے سب کچھ چھوڑا اور فوڈ گرین کے شعبے میں قسمت آزمائی کی۔ اس زمانے میں اللہ پر اس قدر اعتقاد تھا کہ مَیں نے اچانک حج کا پروگرام بنایا اور سب کچھ بیچ کر بیگم کے ساتھ حج کرنے چلا گیا۔ دراصل کاروباری حالات بھی بہت سازگار تھے۔مَیں نے اکبری منڈی کے باہر ہول سیل کا کام شروع کر دیا۔ چاول، دالوں وغیرہ کی خرید و فروخت سے آہستہ آہستہ میرے پاس کافی سرمایہ جمع ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے بڑی برکت دی چنانچہ مَیں سارا کاروباری سلسلہ فروخت کرکے حج کے لئے چلا گیا تو میرے نزدیک یہ کوئی جوا نہیں تھا اور نہ ہی مَیں اسے کوئی غیر معمولی فیصلہ سمجھتا تھا۔ بس اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اپنی محنت اور دیانت پر اعتماد بہت تھا اور اللہ نے مجھے اسی کا پھل دیا اور مَیں نے دوبارہ کاروبار شروع کرکے چند ہی سال میں اپنے ذاتی سرمائے سے لاہور ہی میں فلور مل لائی۔ یہ 1962ء کا واقعہ ہے۔

حاجی محمد بشیر اپنی جدوجہد پر مبنی زندگی کے بارے میں تفصیلات بیان کرتے ہوئے دین سے لگاؤ، ذاتی صلاحیتوں اور اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں کا ذکر کررہے تھے تو ان کے چہرے کی رونق قابل دید تھی۔ ان کے کمرے میں کئی ایوارڈز اور ٹرافیاں بھی پڑی ہوئی تھیں،وہ ان کی طرف بار بار دیکھ رہے تھے۔ دبی زبان میں انہوں نے کئی مرتبہ کہا کہ یہ سب کچھ میری محنت اور دیانت کا پھل ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا، کسی نہ کسی شکل میں دنیا میں کچھ اس طرح عطا فرماتا ہے کہ بے ساختہ اللہ کی عنایات پر شکر کے کلمات زبان پر رواں ہو جاتے ہیں۔ انسان شکر گزاری کے جذبات اور احساسات سے سرشار رہتا ہے اور یہی حال میرا بھی ہے۔حاجی محمد بشیر کو ’’بابائے فلور ملز‘‘ کہا جاتا ہے کہ وہ گزشتہ چالیس سال سے اس شعبے میں نہایت اہم اور غیر معمولی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ آل پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔ وہ اپنی ذاتی صنعتوں کے حوالے سے نیشنل گروپ آف انڈسٹریز کے بھی چیئرمین ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ وہ جب آل پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین تھے تو اس وقت انہوں نے پنجاب اور سندھ کے چیئرمین کے فرائض بھی انجام دیئے۔ فلور ملز انڈسٹری میں یہ واحد مثال ہے۔

حاجی محمد بشیر پولٹری فیڈ انڈسٹری کے سربراہ کے طور پر بھی کام کرتے رہے ہیں۔ دراصل وہ عہدوں اور نمود و نمائش کے قائل نہیں اور نہ ہی انہیں زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ وہ انڈسٹری میں اتحاد اور یکجہتی کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی وضع داری ہے۔ چنانچہ ان تمام باتوں نے انہیں ایک باکمال اور عہد ساز شخصیت بنا دیا ہے۔ مال و دولت اور عزت و شہرت دینے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر ایک اور مہربانی بھی ہوئی کہ ان کے دل میں خدمت خلق کا جذبہ وافر مقدار میں پیدا ہو گیا۔ مستحق، غریب اور ضرورت مند افراد کی مالی امداد و اعانت تو وہ ہر دور میں کرتے رہے۔ انہوں نے اس پہلو پر غور و فکر کیا کہ ایسا کون سا کام کیا جائے جس سے نہ صرف قومی خدمت ہو، بلکہ مخلوق کے خدا کے لئے بھی سہولت اور آسانی ہو۔ آخر کار انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ معیاری اور جدید تعلیمی سہولتوں میں اضافے کے لئے کام کریں، چنانچہ انہوں نے فوری طور پر اشرافی ایجوکیشنل ٹرسٹ قائم کیا اور شیخوپورہ میں نیشنل ماڈل ہائر سیکنڈری سکول شروع کیا۔ بعد میں اسے کالج کا درجہ دیا گیا۔ طلباء اور طالبات کے لئے علیحدہ علیحدہ کالج بنائے گئے۔ اس مقصد کے لئے 91کنال اور 31کنال اراضی حاصل کی گئی۔ دونوں کالجوں میں ڈیڑھ ہزار سے زائد طلباء و طالبات جدید اور معیاری تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔حاجی صاحب فخریہ بتا رہے تھے کہ ان تعلیمی اداروں کا مقابلہ لاہور کے کسی بھی اچھے سے اچھے تعلیمی ادارں کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ حاجی محمد بشیر کی جدوجہد اور خدمات کا سلسلہ خاصا طویل ہے،وہ ہمارے سوالات کا بڑے سکون اور مدبرانہ انداز میں جواب دیتے رہے، جس سے ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے آگاہی ہوتی رہی۔ سوال و جواب کا سلسلہ کچھ اس طرح آگے بڑھتا رہا۔

س:حاجی بشیر صاحب!آپ نے صدر ایوب خان کے دور میں اپنی فلور مل لگائی تو اس میں کون سی خوبی تھی؟

ج:یہ بات مَیں آپ کو بتانے ہی والا تھا۔ اس دور میں آٹاراشن ڈپو کے ذریعے ملتا تھا یا بڑی بوری ملا کرتی تھی۔ تھیلا سسٹم بالکل نہیں تھا۔ اسی طرح آٹے کی کوالٹی کے حوالے سے بھی کوئی بات نہیں ہوا کرتی تھی۔ ہر فلور مل کا آٹا اچھا ہی سمجھا جاتا تھا۔ مَیں نے سوچا کہ لوگوں کو معیاری آٹا مہیا کیا جائے۔ میری فلور مل کا آٹا ایسا ہونا چاہئے کہ لوگ باقاعدہ نام لے کر آٹا طلب کریں۔ مَیں نے بڑی بوری کے ساتھ ساتھ چھوٹی پیکنگ کا تصور دیا۔ اس طرح پاکستان میں تھیلا آٹا سسٹم مَیں نے متعارف کروایا۔ دس سیر، بیس سیر اور چالیس سیر، یعنی ایک من آٹے کے لئے تھیلوں کا ڈیزائن بھی مَیں نے ہی تیار کیا۔ زیادہ ڈیمانڈ دس سیر اور بیس سیر والے تھیلے کی ہونے لگی۔ بعد میں دوسری فلور مل والوں نے بھی میرے نقش قدم پر چلتے ہوئے تھیلا سسٹم کو اپنا لیا۔

س:آپ نے دوسری فلور مل کب اور کس شہر میں لگائی؟

ج:مَیں نے 1967ء میں شیخوپورہ میں دوسری فلور مل لگائی۔ اس سے پہلے میں 1958ء میں اسی شہر میں رائس مل بھی لگا چکا تھا۔ نیشنل فلور مل کے مقابلے میں نیشنل رائس مل ایک چھوٹا صنعتی یونٹ تھا۔ میرے دونوں تجربے بڑے کامیاب رہے۔

س:یہ سلسلہ پھر آگے کیوں نہیں بڑھ سکا؟

ج:اس ملک اور ہماری معیشت سے بہت زیادتیاں ہوتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آج بہت پیچھے دکھائی دیتی ہیں۔ میری طرف سے مزید صنعتی یونٹ لگانے کا کافی امکان تھا۔ جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے کہ 1967ء میں ، مَیں نے شیخوپورہ میں دوسری فلور مل لگائی تھی۔ اس کے بعد ملکی حالات گڑبڑ کا شکار ہوتے رہے۔ حالات خراب ہوں تو سرمایہ کاری کا عمل بھی رک جاتا ہے پھر 1971ء میں سقوط ڈھاکہ ہو گیا۔ یہ عظیم سانحہ ہماری معیشت کی کمر بھی توڑ گیا تھا۔ مزید ستم یہ ہوا کہ آہستہ آہستہ بھٹو صاحب نے نیشنلائزیشن شروع کر دی تھی۔ صاف دکھائی دے رہا تھا کہ بھٹو صاحب کوئی صنعتی یونٹ نہیں چھوڑیں گے۔ اس کے باوجود میری طرح دوسرے کئی صنعتکاروں کا خیال تھا کہ وہ رائس فلوں کو سرکاری تحویل میں نہیں لیں گے، مگر اس کے برعکس ہوا، انہوں نے 17جولائی 1976ء کو سب کچھ ہم سے لے لیا۔ ان حالات میں نئے صنعتی یونٹ کیسے لگائے جا سکتے تھے۔ اس کے باوجود مَیں نے 1978ء میں کراچی میں بھی ایک فلور مل خریدی تھی۔ اس کے علاوہ مَیں نے پولٹری فیڈ میں بھی سرمایہ کاری کی اور اس انڈسٹری کے سربراہ کے طور پر کام بھی کرتا رہا ہوں۔

س:جب آپ کے صنعتی ادارے آپ سے چھین لئے گئے تو پھر آپ نے کون سا بزنس شروع کیا؟

ج:آپ بزنس کی بات کرتے ہیں، میرے پاس تو بینک میں بھی بمشکل اتنی رقم تھی کہ گزر اوقات ہو سکے، البتہ میرے پاس عزم اور حوصلے کی دولت وافر مقدار میں موجود تھی۔ مَیں نے وہ بیکاری کے ایام بڑے صبر و شکر کے ساتھ گزرے۔ تقریباً ایک سال سے زائد عرصے تک مَیں یونہی بیکار اور اُدھر اُدھر گھوم پھر کر وقت گزارتا رہا۔ نیشنلائزیشن سے پہلے مَیں نے گارڈن ٹاؤن میں ایک گھر بنا لیا تھا، بس وہ میرے پاس سر چھپانے کے لئے جگہ تھی جبکہ ایک گاڑی میری آمد و رفت کے لئے میرے پاس تھی۔اس دوران میرے ایک دو رشتہ داروں نے قرض دینے کی پیش کش بھی کی، لیکن میرا دل نہ مانا۔ مَیں ہمیشہ اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتا رہا ہوں۔ میرا ایمان ہے کہ کام کوئی بھی ہو، اگر انسان محنت اور دیانتداری سے کرے تو اس میں اللہ تعالیٰ ترقی دیتا ہے۔ 1952ء میں، مَیں نے آڑھتی کے طور پر بھی کام کیا۔ مَیں باہر سے مال لانے والوں کا مال کمیشن پر فروخت کیا کرتا تھا۔ مَیں چھوٹے بڑے کام میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا تھا۔

س:حاجی بشیر صاحب! آپ اس عرصے میں تنہا ہی کام کرتے رہے یا کسی کو پارٹنر بھی بنایا تھا؟

ج:ویسے تو جب ہم لوگ کلکتہ سے خالی ہاتھ واپس آئے اور اپنی اڑھائی لاکھ روپے لاگت والی ٹینری کو صرف 46ہزار میں فروخت کیا تھا تو اس کے بعد چاروں بھائیوں نے یہی طے کیا تھا کہ ہر کوئی اپنا اپنا مقدر اور نصیب آزمائے۔ مشترکہ کاروبار کے بعد انفرادی کاروبار کا تجربہ بھی کرنا چاہئے تاہم 1958ء میں، مَیں نے نیشنل رائس مل لگائی اس کے بعد مَیں نے فلور مل لگائی تواپنے بڑے بھائی محمد رفیق اشرفی صاحب کو ساتھ ملا لیا تھا۔

س:جب بھٹو صاحب نے رائس اور فلور ملوں کو بھی سرکاری تحویل میں لے لیا تو اس کے بعد آپ نے فوراً کوئی کاروبار شروع نہ کیا، ایک سال تک آپ فارغ پھر تے رہے، پھر آپ کا کوئی کاروباری سلسلہ کیسے شروع ہوا؟

ج:جب جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت ختم کرکے مارشل لاء لگایا تو انہوں نے فوراً ہی ان صنعتی اداروں کو مالکان کے حوالے کرنا شروع کیا جو بھٹو نے سرکاری تحویل میں لئے تھے، چنانچہ ایک بار پھر اللہ تعالیٰ نے میری بھی بانہہ پکڑ لی اور مَیں نے دوبارہ کام شروع کر دیا۔

س:حاجی بشیر صاحب! جب آپ کی فیکٹری اور فلور ملوں کو بھٹو دور میں قومی تحویل میں لے لیا گیا ،تو آپ کی مصروفیات کیا تھیں؟

ج:کچھ نہ پوچھیں۔ وہ بڑا دلچسپ اور عجیب و غریب دور تھا۔ مَیں صبح گھر سے نکلتا اور رات تک ایک نہیں کئی کئی جلسوں اور میٹنگوں میں شرکت کرتا تھا۔ بھٹو کے خلاف عوامی تحریک شروع ہو چکی تھی۔ اس وقت اس کے علاوہ کوئی قابل ذکر مصروفیات نہیں تھی۔

س:اس دوران کوئی اہم واقعہ پیش آیا؟

ج:کوئی خاص واقعہ تو یاد نہیں آ رہا، البتہ ایک اہم بات ضرور ہوئی تھی۔ غالباً 2جولائی 1977ء کو ملک غلام مصطفی نے مجھے بلایا اور کہا کہ وہ قومی مفاد میں دوبارہ پیپلزپارٹی میں شامل ہو گئے ہیں۔ ملک غلام مصطفی کھر جب گورنر پنجاب تھے تو فلور ملز ایسوسی ایشن کے حوالے سے میری ان سے کئی ملاقاتیں ہو چکی تھیں۔ کھر صاحب نے اس پرانے تعلق اور حوالے سے مجھے یاد کیا تھا۔ دراصل وہ میری جدوجہد اور فلور ملز ایسوسی ایشن کے لئے خدمات کی وجہ سے میرے کافی معتقد تھے۔ میں جب 2جولائی 1977ء کو ان سے ملنے کے لئے گیا تو وہ پارٹی کارکنوں کے ساتھ ایک میٹنگ کر رہے تھے۔ میرے پہنچتے ہی انہوں نے سب کو باہر بھیج دیا اور پھر مجھ سے باتیں کرنے لگے۔ اس موقع پر چودھری طالب حسین بھی موجود تھے۔ مصطفی کھر نے کہا کہ بھٹو صاحب اس بات پر حیران ہیں کہ ان کے خلاف عوامی سطح پر اس قدر تیزی اور شدت کے ساتھ احتجاجی تحریک کیوں شروع ہو گئی ہے۔ کھر نے بتایا کہ بھٹو صاحب کو انہوں نے یاد دلایا ہے کہ آپ نے بڑی صنعتوں کے ساتھ چھوٹی چھوٹی فیکٹریوں اور ملوں کو بھی سرکاری تحویل میں لے لیا ہے، اس وجہ سے چھوٹے صنعتکار اور تاجر آپ سے ناراض ہیں۔ دوسری وجوہات کے ساتھ ایک بڑی وجہ ان کی ناراضگی بھی ہے۔ کھر نے یہ بھی بتایا کہ بھٹو صاحب نے اس تجزیے کو پسند کیا اور کہا کہ چھوٹی صنعتوں کے چیدہ چیدہ لوگوں سے رابطہ کرکے ان سے ملاقات کا اہتمام کیا جائے۔ بھٹو صاحب نے کہا کہ اگر مجھ سے کوئی زیادتی ہو گئی ہے تو اس کا ازالہ بھی ہو سکتا ہے۔ مجھے متاثرہ صنعتکاروں سے ملایا جائے مَیں انہیں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اس وقت آپ لوگ حکومت سے تعاون کریں حالات بہتر ہونے پر آپ کی فیکٹریاں اور ملیں آپ کو واپس مل جائیں گی۔ یہ سب کچھ بتانے کے بعد مصطفی کھر نے پوچھا کہ آپ کب بھٹو صاحب سے ملنا پسند کریں گے۔ مَیں نے کہا کہ ملاقات کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے چند روز میں کسی بھی وقت ملاقات کی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد کھر صاحب نے میری ذوالفقار علی بھٹو سے خصوصی ملاقات طے کروائی اور مَیں وہاں سے واپس آ گیا۔

س:تو پھر آپ کی ملاقات بھٹو صاحب سے ہوئی یا نہیں؟

ج:ملاقات کیسے ہوتی، ادھر کھر سے ہماری ملاقات ہوئی، اُدھر تیسرے دن ہی جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگا دیا اور ہماری ملاقات نہ ہو سکی۔

س:آپ کو اپنی ملیں اور فیکٹریاں کیسے واپس ملیں؟

ج:ہوا یوں کہ جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کا تختہ الٹ دیا اور پھری فوری طور پر ایک جائزہ کمیٹی بنا دی ، اس کمیٹی نے فوراً ہی صنعتوں کی واپسی کی سفارش کی اور پھر ہمارا اعتماد اس طرح بحال ہوا کہ 1978ء میں ہمیں ہماری صنعتیں واپس مل گئیں۔

س:حاجی صاحب! آپ نے اشرفی نیشنل ایجوکیشن ٹرسٹ کب قائم کیا اور اس قسم کا ٹرسٹ قائم کرنے کا خیال آپ کو کس طرح آیا؟

ج:آپ نے بڑا اچھا سوال پوچھا ہے۔ 1988ء کی بات ہے مَیں نے اپنے خاندان کے لوگوں کو اکٹھا کیا اور کہا کہ اپنی اپنی سطح پر ہم لوگ غریبوں اور مستحق افراد کی خدمت تو کرتے رہتے ہیں۔ یہ مالی امداد اور تعاون اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے لیکن ہمیں کوئی ایسا کام بھی کرنا چاہیے کہ ہمارے ملک اور قوم کو اس سے فائدہ پہنچے۔ اس تجویز کو بہت پسند کیا گیا بعد میں ہم پھر اکٹھے ہوئے تواس وقت کوئی رفاعی ادارہ بنانے کی بات ہوئی، مہر جیون خان میرے بہت اچھے دوستوں میں شامل ہیں۔ وہ ماشاء اللہ صدر مملکت کے پرنسپل سیکرٹری رہ چکے ہیں۔ سول سروس میں ان کا وسیع تجربہ ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ آپ کوئی ایسا معیاری تعلیمی ادارہ بنائیں جہاں سے ہر سال سینکڑوں ہزاروں نوجوان اعلیٰ معیاری اور جدید تعلیم سے آراستہ ہو کر نکلیں اس سے نہ صرف معاشرے پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوں گے، بلکہ ترقی کی رفتاری بھی تیز ہوگی۔پندرہ سال میں یہ پودا ایک تنا ور درخت بن گیا اب تک اس کے تین کمپلیکس قائم ہو چکے ہیں ہم نے شیخوپورہ میں ہرن مینار روڈ پر 90کنال زمین مزید خریدی اور اس پر ایک کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ اس زمین پر تمام موجودہ اور آئندہ ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے جدید کمپلیکس تعمیر کئے گئے چند ہفتے قبل ہی پنجاب کے گورنر خالد مقبول نے اس کا افتتاح کیا ہے،مَیں ایک بات خاص طور پر بتانا چاہتا ہوں کہ ایک بار ٹرسٹ کے اجلاس میں جناب مجید نظامی کو بطور خاص زحمت دی گئی وہ ہمارا ادارہ دیکھ کر اور اس کی کارکردگی کا اندازہ لگا کر بہت خوش ہوئے اور چار طلباء و طالبات کے لئے سکالرشپ دینے کا اعلان کر دیا۔

[نوٹ:حاجی محمدبشیر کا یہ انٹرویو ’’قومی ڈائجسٹ‘‘ کے لئے 2005ء میں کیا گیا ،جو جولائی 2005ء کی اشاعت میں ٹائٹل سٹوری کے طور پر شائع ہوا۔]

مزید : ایڈیشن 1