چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے شام کی پہلی عدالت کا افتتاح کر دیا، دیرینہ خواب پورا ہوا جسٹس انوا ر الحق

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے شام کی پہلی عدالت کا افتتاح کر دیا، دیرینہ خواب ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی/نامہ نگار)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹرجسٹس انوارالحق نے پاکستان میں شام کی پہلی عدالت کا افتتاح کردیا۔ملکی عدالتی تاریخ میں پہلی مرتبہ قائم ہونے والی شام کی عدالت بچوں کی تحویل اورعائلی مقدمات کی سماعت کرے گی ۔اس عدالت نے افتتاح کے بعد کام شروع کردیاہے ،اس عدالت 2بجے دوپہر سے شام 7بجے تک مقدمات کی سماعت ہوگی ۔ زاہرہ منظور ملک کو اس عدالت کی پہلی جج مقررکیا گیاہے۔شام (بقیہ نمبر48صفحہ12پر )

کے اوقات میں ماڈل عدالت کے قیام کا مقصد عدالتوں میں پیش ہونے بچوں کی تعلیمی مصروفیات کا تحفظ، ملازمت پیشہ افراد کی ضروریات و مصروفیات کا تحفظ اور بچوں کو پرہجوم ماحول سے ہٹ کر عدالتوں میں گھریلو ماحول کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔عدالت کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ملکی حالات اورمسائل سے بخوبی آگاہ ہیں،ان حالات میں ہم یہ توکرسکتے ہیں کہ اپنے ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور عدالتوں کادوہرا استعمال کیا جائے اورانہی وسائل کے اندر رہتے ہوئے دوسری شفٹ شروع کردی جائے۔ہم ہر وقت وسائل کی عدم دستیابی کی بات کرتے ہیں، نئی عدالتوں، نئے سکولوں اور ہسپتالوں کی بات کرتے ہیں۔ اگر ہم اپنے نظام میں 100 نئی عدالتوں کا اضافہ نہیں کرسکتے تو پہلے سے موجود 100 عدالتوں کو دو شفٹوں میں تو استعمال کرسکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار کی تعیناتی میرا صوابدیدی اختیار تھالیکن میں نے یہ اختیار استعمال کرنے کی بجائے ہائی کورٹ کے 7سینئر ترین ججوں سے مشاورت کے بعدرجسٹرار کا تقررکیاہے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ عدلیہ میں نئے آنے والے جوڈیشل افسران کی پری سروس ٹریننگ کا دورانیہ 8 مہینے کردیا گیا ہے جس میں وہ عدالتوں میں ڈویڑن بنچ کی صورت میں بیٹھ کر عدالتی کارروائی کی ٹریننگ بھی حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لاہور بار ایسوسی ایشن کے ممنون ہیں جنہوں نے ہمیں بہترین تعاون مہیا کیا۔ اگر بار کا تعاون شامل حال نہ ہوتا تو شام کی عدالت کا خواب میری ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی ختم ہوجاتا۔ شام کی عدالت کے قیام کا 50فیصد کریڈٹ لاہور بار کو جاتا۔ چیف جسٹس نے ایوننگ کورٹ کے حوالے سے بہترین رپورٹنگ کرنے کے پر میڈیا کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ میڈیانے ہمارا پیغام مثبت انداز میں عوام تک پہنچایا۔انہوں نے ایوننگ کورٹ کے قیام میں شامل تمام اسٹیک ہولڈرز کاشکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر سینئر ترین جج سردار شمیم احمد کا کہنا تھا کہ شام کے اوقات میں مقدمات کی سماعت سے بچوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی سہولت ہوگی ۔ فاضل جج نے مذکورہ عدالت کے افتتاح پر چیف جسٹس ہائی کورٹ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے درخواست کی شام کی عدالت دیگر اضلاع میں بھی قائم کی جائیں تاکہ سائلین کو باسہولت انصاف کی فراہمی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔ صدر لاہور بار ایسوسی ایشن ملک محمد ارشد نے بھی تقریب سے اظہار خیال کیا۔شام کی پہلی عدالت کی افتتاحی تقریب میں لاہور ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس سردار شمیم احمد خان، جسٹس مامون رشید شیخ، جسٹس محمد فرخ عرفان خان اور دیگر فاضل جج صاحبان کے علاوہ سیشن جج لاہور، جوڈیشل افسران، ممبران پاکستان بار کونسل و پنجاب کونسل، لاہور ہائی کورٹ بار و لاہور بارایسوسی ایشن کے عہدیداروں اور وکلاء کی بڑی تعداد موجود تھی۔

شام کی عدالتیں

مزید : ملتان صفحہ آخر