بلین ٹری سونامی پروگرام میں خرد برد کے حوالے سے نشر خبر میں کوئی صداقت نہیں

بلین ٹری سونامی پروگرام میں خرد برد کے حوالے سے نشر خبر میں کوئی صداقت نہیں

پشاور( سٹاف رپورٹر)خیبر پختونحوا کے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شوکت علی یوسفزئی نے آج چند ذرائع ابلاغ میں بلین ٹری سونامی پروگرام میں خردبرد کے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نہ صرف دنیا بھر کا ایک منفرد اور عظیم پروگرام ہے بلکہ یہ اعلیٰ پائے کا شفاف پروگرام بھی ہے۔ اسی لئے دنیا بھر میں جو بھی چاہے اس پروگرام کے کسی بھی پراجیکٹ کا کسی بھی وقت دورہ کرسکتا ہے اور اگر کسی کو کسی قسم کی دستیاویز چاہئے تو اس کی نقل بھی حاصل کرسکتا ہے انہو ں نے کہاکہ دنیا بھر میں خیبر پختو نخوا واحد صوبہ ہے جس نے بون چیلنج قبول کرکے ایک ارب 18 کروڑ پودے لگائے اور 1,40000 کینال ایکڑ زمین قبضہ مافیا سے واگذار کرائی۔ انہوں نے کہاکہ گلو بل وارمنگ ایک شدید عالمی مسئلہ ہے اور خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت نے یہ عظیم الشان پروگرام شروع کرکے پوری انسانیت کی خدمت کی ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں اس کی تعریف کی جارہی ہے یہاں تک کہ ہمارے دشمن ملک انڈیا کے ہندوستان ٹائمز اخبار نے بھی اس کی تعریف کی ہے انہو ں نے کہاکہ اس پروگرام نے دنیا بھر میں پاکستان کا بہتر امیج اجاگر کیا ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پرویز رشید اور پی ایم ایل این کے اندھوں کو یہ کامیابی نہ تو نظر آرہی ہے اور نہ ہی انہیں ہضم ہو رہی ہے۔ اسی لئے انہو ں نے اس کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ شروع کیا ہے۔ شوکت یوسفزئی جو کہ سیکرٹری جنگلات سید نظر حسین شاہ کے ہمراہ تھے نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ ڈراپ آؤٹ پیرا ہر جگہ بنتے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس کے بعد ایف ڈی سی اس کو چیک کرتے ہیں اور اگر وہ بھی ایسی کسی بے قاعدگی کا نوٹس لیتے ہیں تو پھر ان کو پی اے سی بھجواتے ہیں۔ لیکن یہاں تو ڈراپ اعتراضات تک محدود ہیں اور ابھی تو یہ پی اے سی تو دور ایف ڈی سی تک بھی نہیں پہنچے ہیں بلکہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پر متعلقہ محکمہ کی وضاحتوں کا انتظار باقی ہے۔ شوکت یوسفزئی نے افسوس کے ساتھ کہا کہ ٹوٹل الزام تو 240 ملین روپے کا لگایا گیا ہے لیکن اس بات کا مذکورہ خبروں میں کوئی بھی ذکر نہیں کہ فارسٹ ڈویلپمنٹ کارپوریشن نے اس میں سے 142 ملین روپے پہلے سے واپس کئے ہیں جبکہ 21 ملین روپے کا تعلق محکمہ فشریز سے ہے انہوں نے کہاکہ جس وقت بلین ٹری سونامی پروگرام شروع کیا گیا تو اس وقت ہم نے صوبے میں موجود تمام نرسریز خریدیں چونکہ ڈیمانڈ بہتر ریاد بڑھ گئی تھی اور سپلائی نہ ہونے کی حد تک کم پڑگئی تھی اسی لئے ہمیں مہنگے داموں پودے خریدنے پڑے دوسری طرف جہاں تک مزدوروں کو نقد ادائیگیوں کا تعلق ہے تو متعلقہ مزدور دور دراز پہاڑوں سے روزانہ اجرت کی بنیاد پر پر لے گئے تھے لیکن پر بھی جس کسی کو اداویگی کی گئی ہے ان کے شناختی کارڈ ریکارڈ پر موجود ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بلین ٹری سونامی کی شفافیت کاسب سے بڑا ثبوت تو یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے ازخود اس کاتما م ریکارڈ نیب کے حوالے کیا ہے تاکہ وہ دیکھ لے کہ کہیں پر کسی نے کسی قسم کی ہیرا پھیری تو نہیں کی ہے۔شوکت یوسفزئی نے کہاکہ 78 سال میں صوبے میں کل ملاکر 65 کروڑ درخت لگائے گئے تھے لیکن ہم نے صرف تین سال میں ایک ارب 18 کروڑ پودے لگائے ہیں۔ جن کی شرح پائیداری بھی بہت بہتر ہے۔ اگر کسی کو کوئی شک ہو تو اس کا ثبوت سیٹلائٹ ایمیجز سے یا سادہ گوگل سے بھی لے سکتے ہیں۔ انہو ں نے کہاکہ یہی وجہ ہے کہ آئی یو سی این، بون چیلنج، ورلڈ اکنامک فورم اور ایسی بہت سی نامور عالمی تنظیموں نے اس پروگرام کی تعریف کی ہے انہو ں نے کہاکہ خیبر پختونخوا ایک چھوٹا صوبہ ہے لیکن پھر بھی اس نے بون چیلنج قبول کرتے ہوئے یہ پروگرام شروع کیا ہے اور اب پی ٹی آئی کی حکومت پورے ملک میں دس ارب پودے لگا رہی ہے انہو ں نے کہاکہ مسلم لیگ نواز کا میڈیا سیل اور پرویز رشید کو ان کے ذاتی مفادات نے اندھا بنایا ہے اس لئے ان کو مفاد عامہ کی یہ تمام چیزیں نظر نہیں آتیں۔شوکت یوسفزئی نے مزید کہا کہ اس پروگرام کی کامیابی کے لئے محکمہ جنگلات اور ہماری حکومت نے بہت سی قربانیاں دی ہیں جن میں ٹمبر مافیا کیساتھ جھڑپوں میں 11 کارکن شہید ہوئے ہیں، چھ زخمی اور تین مکمل طورپر معذور ہوچکے ہیں لیکن اللہ کے فضل سے ہم نے ایک لاکھ 40 ہزار کینال زمین قبضہ مافیا سے چھڑالی ہ

مزید : پشاورصفحہ آخر