شا نگلہ یو نیورسٹی کیمپس الپوری بلڈنگ کی عدم فراہمی

شا نگلہ یو نیورسٹی کیمپس الپوری بلڈنگ کی عدم فراہمی

الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر)شا نگلہ یو نیورسٹی کیمپس الپوری بلڈنگ کی عدم فراہمی ،شانگلہ سے سوات یونیورسٹی شانگلہ کیمپس ختم کیا جانے کا امکان۔ یونیورسٹی ذرائع نے بھی تصدیق کر دی ا ور کہنا تھا کہ کیمپس کیلئے عمارت نہیں تو کیمپس خاتمہ کیا جائے گا۔ کیمپس کیلئے فنڈ موجود ہیں جو تین سال کیلئے ہے جس میں ایک سال بیت گیافنڈ واپس ہونے کا خطرہ ہیں ۔ چار سال پہلے مکمل شدہ ٹیکنیکل کالج کا بلڈنگ یونیورسٹی کیمپس کے زیر استعمال لائی جائے ۔یونیورسٹی کیمپس خاتمے قبول نہیں بھر پور مزاحمت کرینگے عوامی حلقوں کا رد عمل ۔ شانگلہ کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر الپوری میں ٹیکنیکل کالج گزشتہ چار سال سے مکمل ہے جو چالیس کنال رقبے پر مشتمل ہیں تاہم حکومت کی عدم توجہ اور منتخب نمائندوں کی غفلت کی وجہ سے بلڈنگ بوسیدگی کا شکار ہو چکا ہے اور دن بدن خراب ہوتا جا رہا ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔شانگلہ کیمپس کا خاتمہ منتخب اراکین کی بد نیتی ظاہر کرتی ہے جو مایوس کن اقدام ہیں۔ماہر تعلیمات کا دعویٰ۔تفصیلات کے مطابق شانگلہ کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر الپوری کے پیوست میں گزشتہ دو سال سے جاری سوات یونیورسٹی کا شانگلہ کیپمس بلڈنگ نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے جبکہ یونیورسٹی اب عمارت نہ ہونے کی وجہ سے کیمپس کو شانگلہ سے ختم کرنے کیلئے تگ و دو میں ہیں جبکہ اسی حوالے سے یونیورسٹی ذرائع نے بھی کیمپس خاتمے کی تصدیق کر دی جس کی وجہ عمارت نہ ہونا ہیں۔شانگلہ کی سات لاکھ کی آبادی کیلئے تعلیمی سہولیات کی فقدان نے لوگوں کو اس بات پر مجبور کیا ہے کہ وہ تعلیم کو خیر باد کہیے بلخصوص خواتین کا تو انتہائی برا حال ہے جہاں صرف 0.03 %بچیاں خواندہ ہے جبکہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنا کسی خواب سے کم نہیں اس وقت ٹیکنیکل کالج کی عمارت یونیورسٹی آف سوات کیلئے انتہائی موزون ہے جبکہ یونیورسٹی آف سوات شانگلہ کیمپس کی حکام اس بات کا اعا دہ کر چکی ہے کہ وہ اس بلڈنگ میں اپنے خرچے پر ٹیکنیکل تعلیم دینے کیلئے بلکل تیار ہے جبکہ یونیورسٹی کے اندر تمام تر مرمت کی زمہ داری بھی لینے کیلئے تیار ہے۔ یونیورسٹی آف سوات کا شانگلہ کیمپس میں تعلیم کیلئے حالات پیدا کرکے یہاں کی لوگوں کو انتہائی قلیل خرچ پر اعلیٰ تعلیم ملنے سے ضلع کی حالت بدل سکتی ہے اور لوگوں کی غربت کو تعلیم کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے ۔شانگلہ کے عوامی حلقوں میں اس حوالے سے شدید بے چینی پائی جاتی ہیں اور وہ حکومت صوبہ خیبر پختون خواہ سمیت مرکزی حکومت سے پر زورمطالبہ کرتے ہیں کہ ضلع شانگلہ کو مزید تاریکیوں سے بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں جبکہ شانگلہ ایکشن کیمٹی ، سیاسی رہنماوں،سٹوڈنٹس لیڈرز،صحافی،وکلاء برادری،سوشل ایکٹیوسٹ نے عندیہ دیا ہے کہ شانگلہ میں فی الفور یونیورسٹی کیمپس کا اجرا کرکے شانگلہ کو ترقی کے زینے پر چڑھنے کیلئے مدد کی جائے۔ عوامی حلقوں نے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملکر یونیورسٹی کیمپس بچانے کیلئے حکمت عملی بنانے اور بھر پور مزاحمت کرنے کیلئے بھی اقدامات اٹھائیں گے ۔۔

مزید : پشاورصفحہ آخر