بادی النظر میں سب انسپکٹرز کے تقرر نامے جاری کرنے میں تاخیر بلاجواز ، جسٹس شاہد محمود سیٹھی

بادی النظر میں سب انسپکٹرز کے تقرر نامے جاری کرنے میں تاخیر بلاجواز ، جسٹس ...

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس شاہد محمود سیٹھی نے قراردیاہے کہ بادی النظر میں پنجاب پبلک سروس کمشن کے ذریعے بھرتی ہونے والے سب انسپکٹروں کے تقرر نامے جاری کرنے میں تاخیر بلاجواز ہے ،آئندہ پیشی پر مطمئن نہ کیا گیا توعدالت اپنا فیصلہ سنا دے گی ۔فاضل جج نے محمد عمیر سمیت متعدد شہریوں کی درخواست پرسماعت کرتے ہوئے سرکاری وکیل کو مخاطب کرکے کہا کہ اس کیس سے نیب کا کیا تعلق ہے ؟ابھی تو بھرتیاں بھی نہیں ہوئیں،نیب کہاں سے آگیا؟کیا اس کیس میں سپریم کورٹ نے کوئی حکم امتناعی جاری کیاہے ؟اگر حکم امتناعی موجود نہیں توپھر تقررنامے جاری کیوں نہیں کئے جارہے ،،درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ انہیں پنجاب پبلک سروس کمشن نے تحریری امتحان اور انٹرویو کے بعد سب انسپکٹر بھرتی کرنے کی منظوری دی ،اس بابت درخواست گزاروں کو آگاہی کے مراسلے بھی بھجوادیئے گئے ،8ماہ گزرنے کے باوجود محکمہ پولیس حکام کی طرف سے انہیں تقرر نامے جاری نہیں کئے جارہے ،سرکاری وکیل اور ڈی ایس پی لیگل نے عدالت کو بتایا کہ یہ معاملہ نیب میں ہے ،جس پر فاضل جج نے مذکورہ ریمارکس دیتے ہوئے استفسار کیا کہ نیب کا حکم نامہ کہا ں ہے۔

،نیب کا اس معاملے سے کیا تعلق؟سرکاری وکیل نے بتایا کہ ان بھرتیوں کے خلاف سپریم کورٹ میں بھی درخواست زیرالتواء ہے جس پر فاضل جج نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ کا حکم امتناعی موجودہے ؒ ،اگر نہیں تو پھر بھرتیاں کیوں روکی گئی ہیں،یہ ایک سیدھا سا کیس ہے ،تمام کارروائی مکمل ہوچکی ہے ،پھر تقرر نامے جاری کیوں نہیں کئے جارہے ۔اس کیس کی مزید سماعت 13نومبر کو ہوگی۔

جسٹس شاہد محمود سیٹھی

مزید : علاقائی