اسحاق ڈار اور حسین حقانی کی واپسی کیلئے کیس سماعت کیلئے مقرر ، سپریم کورٹ کا مشرف اور زرداری کے اثاثوں کی تفصیل خفیہ رکھنے کا فیصلہ

اسحاق ڈار اور حسین حقانی کی واپسی کیلئے کیس سماعت کیلئے مقرر ، سپریم کورٹ کا ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) سپریم کورٹ نے این آر او کیس میں پرویز مشرف، آصف زرداری اور ملک قیوم کے اثاثوں کی تفصیل خفیہ رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ، اس سلسلے میں درخواست قابل سماعت ہونے کے فیصلے تک تفصیلات سر بمہر رکھی جائیں گی، دورن سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمار دیئے ہیں کہ یقین رکھیں کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی، فیصلہ آئین اور قانون کے تحت ہوگا۔ جمعہ کو سپریم کورٹ میں این آر او کیس کی سماعت کے موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ہمیں مطمئن کریں کہ درخواست قابل سماعت ہے، جس پر درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ سوئس اکا ؤ نٹ میں پڑی رقم پاکستان کی تھی، آصف علی زرداری نے پاکستان کا پیسہ سوئس بینکوں میں رکھا، سوئس اکانٹ میں موجود 60 ملین ڈالر پاکستان کی عوام کو ملنے چاہیے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ سوئس بنکوں میں پڑا پیسہ پاکستان کا ہے اس کے کیا شواہد ہیں، سوئس بینکوں کے اکانٹس کی شناخت کیا ہے، وکیل آصف زرداری کہتے ہیں وہ تمام کیسز سے بری ہوچکے، یہ تو واضح ہے کہ سوئس اکانٹس میں 60 ملین ڈالر تھے لیکن دیکھنا ہے کہ 60 ملین ڈالر کس کے تھے، کہاں گئے اور بینیفشری کون تھا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ این آر او کا معاملہ ماضی کا حصہ بن چکا، آئینی درخواست میں دوبارہ ٹرائل کرنا مناسب نہیں۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد نیب اور وفاقی حکومت کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے جواب مسترد کردیا، عدالت نے اٹارنی جنرل اور نیب کو سوئس مقدمات اور این آر او کا جائزہ لے کر جواب داخل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جواب اور دستاویزات آنے کے بعد درخواست قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کریں گے۔عدالت نے پرویز مشرف،آصف زرداری اور ملک قیوم کے اثاثوں کی تفصیل خفیہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، اس سلسلے میں درخواست قابل سماعت ہونے کے فیصلے تک تفصیلات سر بمہر رکھی جائیں گی۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس میں کہا کہ یقین رکھیں کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہو گی، فیصلہ آئین اور قانون کے تحت ہوگا۔ عدالت نے کیس کی سماعت 3 ہفتوں تک کے لیے ملتوی کردی۔سپریم کورٹ نے میمو گیٹ کے ملزم حسین حقانی کی وطن واپسی سے متعلق کیس سماعت کیلئے مقرر کرتے ہوء اٹارنی جنرل، پراسیکیوٹر نیب، سیکرٹری داخلہ اور خارجہ کو نوٹسز جاری کر دیئے۔ جمعہ کو میمو گیٹ کے ملزم حسین حقانی کی وطن واپسی سے متعلق کیس سماعت کیلئے مقرر کردیا گیا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بینچ بدھ کو مقدمے کی سماعت کرے گا، سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور پراسیکیوٹر نیب کو نوٹسز جاری کر دیئے، عدالت نے سیکرٹری داخلہ اور خارجہ کو بھی نوٹس کرجاری دیا۔ سپریم کورٹ نے تحریک لبیک پاکستان کے نومبر 2017 میں فیض آباد دھرنے کے معاملے پر لیا گیا از خود نوٹس سماعت کے لیے مقرر کردیا۔کیس کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ 16 نومبر کو کرے گا ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی بینچ میں شامل ہیں۔ازخود نوٹس کی سماعت کے لیے اٹارنی جنرل، سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری دفاع، آئی جی اسلام آباد اور پیمرا کو نوٹسز جاری کردیے گئے جب کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے ٹی ایل پی کی بطور سیاسی جماعت رجسٹریشن کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔گزشتہ سماعت میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے تھے کہ تحریک لبیک کو سیاسی جماعت کے طور پر کس طرح رجسٹرڈ کیا گیا جبکہ یہ پر تشدد واقعات میں ملوث ہے سپریم کورٹ نے سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی وطن واپسی کے معاملے پر کیس کی سماعت کیلئے مقرر کرتے ہوئے اسحاق ڈار، سیکرٹری اطلاعات، خزانہ اور خارجہ کو نوٹس جاری کر دیئے۔ جمعہ کو سپریم کورٹ نے سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی وطن واپسی کے معاملے پر کیس کی سماعت کیلئے مقرر کر دیا، چیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بینچ بدھ کو سماعت کرے گا، عدالت کو اسحاق ڈار کی واپسی کے اقدامات سے آگاہ کیا جائے گا۔ عدالت نے اسحاق ڈار کو نوٹس جاری کر دیا، سپریم کورٹ نے سیکرٹری اطلاعات، خزانہ اور خارجہ کو بھی نوٹس جاری کر دیئے، عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل نیب، ڈائریکٹر انٹرپول ایف آئی اے کو بھی نوٹس جاری کر دیا۔دریں اثنا سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے دہشت گردی کے الزام میں سزا پانے والے 68 ملزمان کو رہا کرنے کے پشاور ہائیکورٹ کے حکم پر عملدرآمد روک دیا۔پشاور ہائیکورٹ نے دہشت گردی کے الزام میں فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے 68 ملزمان کی سزا کالعدم قرار دے کر انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا، ملزمان دہشت گردی جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہیں لہٰذا فوجی عدالتوں سے سنائی گئی سزاؤں کو بحال کیا جائے۔اٹارنی جنرل کی استدعا پر سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کے حکم پر عملدرا?مد روکتے ہوئے ملزمان کی رہائی روک دی ہے اور جیل سپرنٹنڈنٹس کو ملزمان کو رہا نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ

مزید : صفحہ اول