افغان مسئلے کا سیاسی حل ہونا چاہئے ، پاکستان ، مذارات افغان حکومت کی قیادت میں ہونے چاہئیں : افغان

افغان مسئلے کا سیاسی حل ہونا چاہئے ، پاکستان ، مذارات افغان حکومت کی قیادت ...

ماسکو (مانیٹرنگ ڈیسک ،این این آئی) پاکستان نے ماسکو میں افغانستان سے متعلق منعقدہ مشاورتی اجلاس کو بتایا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے یہ مسئلہ صرف سیاسی طریقے سے حل ہونا چاہئے سخت گیر سماجی ثقافتی سیاسی اور معاشی حقائق کو مد نظر رکھ کر حل نکالنے سے افغانستان میں امن قائم ہو سکتا ہے،تمام فریقین براہ راست اور واضح طو رپر ایک دوسرے کے موقف اور تحفظات کو سمجھنے کی کوشش کریں تاکہ ایسے مذاکرات بامقصد ثابت ہو سکیں ۔ تین رکنی پاکستانی وفد کے سربراہ ایڈیشنل سیکرٹری وزارت خارجہ محمد اعجاز نے جمعہ کواجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ یہ معاملہ ایک مشکل ہدف ہے کیونکہ یہ تمام فریقین کی جانب سے لچک بالخصوص اپنے سخت موقف کو چھوڑ کر بات چیت کیلئے آمدگی کا تقاضا کرتا ہے جس کیلئے کوئی پیشگی شرائط نہیں ہونی چاہئے تاکہ نئے تصورات اور امن کی کوششوں کو موقع میسر آ سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل ہدف کے حصول کیلئے اعتماد اور خلوص کے ساتھ آگے بڑھنے سے راستہ آسان ہو جائیگا جو بامقصد اور باہم فائدہ مند ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وقت آن پہنچا ہے کہ تمام فریقین براہ راست اور واضح طو رپر ایک دوسرے کے موقف اور تحفظات کو سمجھنے کی کوشش کریں تاکہ ایسے مذاکرات بامقصد ثابت ہو سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ذہن میں ان مقاصد کے ساتھ آج کا اجلاس ہمیں مستقبل کی راہ متعین کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو گا تاکہ تنازع کو ختم کرتے ہوئے طویل مدتی امن قائم کیا جا سکے اور افغانستان اور خطے کے لوگوں کیلئے خوشحالی ممکن ہو سکے ۔پاکستانی وفد کے سربراہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان افغان مسئلے کے حل کی مسلسل حمایت کرتا رہا ہے اور اس حوالے سے تمام کوششوں میں شامل رہا ہے تاکہ مسئلے کا پر امن حل تلاش کیا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ماسکو مشاورتی عمل چار فریقی رابطہ گروپ ہارٹ آف ایشیاء ۔استبول عمل ، ایس سی او رابطہ گروپ ، کابل عمل اور پاکستان افغانستان چین اور پاکستان افغانستان ترکی جیسے متعدد سہ فریقی اقدامات قابل ذکر ہیں ۔ روس میں افغان امن عمل کانفرنس میں شرکت سے متعلق طالبان نے کہاہے کہ ماسکو میں امن سے متعلق بات چیت کا مطلب مذاکرات نہیں ہے۔روس کا کہنا ہے کہ افغانستان کے مسئلہ کے سیاسی حل کے لیے تمام فریقین کے لیے کسی متفقہ معاہدے تک پہنچنا ضروری ہے جبکہ افغان حکومت کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن کے لیے مذاکرات افغان حکومت کی سرپرستی اور قیادت میں ہونے چاہئیں۔وہ افغانستان میں قیام امن کے لیے کانفرنس سے خطاب میں روس کے وزیر خارجہ سرگئے لاروف کا کہنا ہے کہ اجلاس کے ذریعے افغان طالبان کو سیاسی دھارے میں شامل کرنے کے لیے طالبان اور حکومت کے مابین براہراست بات چیت کے لیے ساز گار ماحول فراہم کرنا ہے۔انھوں نے کہا کہ روس کی جانب سے اس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد افغانستان کے دوست ممالک، اور علاقائی ممالک کو ساتھ بیٹھانا ہے تاکہ افغان حکومت کی مذاکرات شروع کرنے میں مدد کی جا سکے۔ماسکو میں ہونے والی اس کانفرنس میں گو کہ افغان حکومتی وفد شرکت نہیں کر رہا ہے لیکن افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے تشکیل دی گئی ہائی پیس کونسل کا وفد شرکت کر رہا ہے۔اس کانفرنس میں افغان طالبان کا وفد بھی شریک ہے۔دوسری جانب افغان حکومت نے روس کی اس کوشش کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی ایسے ملک کی کوششوں کو سراہتا ہے جو امن کے حصول کے لیے افغانستان کی حمایت کرتا ہے لیکن یہ امن عمل افغان حکومت کی سرپرستی اور قیادت میں ہونا چاہیے۔ماسکو کانفرنس ختم ہونے کے بعد افغان وزارات خارجہ کے ترجمان صبغت اللہ احمدی نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ کہ جمعے کو ماسکومیں ہونے والی کانفرنس گزشتہ ملاقاتوں کا تسلسل نہیں ہے ماضی میں ہونے والی کانفرنس خود مختار ممالک کے درمیان تھی جس میں افغانستان کی حکومت نے بھی شرکت کی تھی جبکہ اس اجلاس میں طالبان کو بھی مدعو کیا گیا۔افغان حکومت کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب طالبان مذاکرات شرکت کی دوعوت قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس سفارتی کوشش میں ایک سیاسی حیثیت سے شرکت کر رہے ہیں۔روس کے وزیر خارجہ نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ افغانستان کے مسئلے کے پرامن حل کے لیے ضروری ہے کہ فریقین کے مابین عدم اعتماد اور تحفظات کو ختم کیا جائے۔روس نے کانفرنس میں بارہ ممالک کو مدعو کیا تھا جس میں پاکستان، انڈیا، چین ایران سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔ تاہم پاکستانی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس میں صرف نو ممالک کے وفود شرکت کررہے جس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزارت خارجہ کے ایک ایڈیشنل سیکرٹری کررہے ہیں امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ماسکو میں امریکی سفارتخانے کا نمائندہ کانفرنس میں مبصر کی حیثیت سے شرکت کرہا ہے۔کانفرنس سے خطاب میں روس کے وزیر خارجہ سرگئے لاروف نے کہا تمام ممالک دہشت گردی کے خطرات سے دوچار ہیں اور افغانستان دہشت گردوں کا ہدف رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ افغانستان میں داعش موجود ہے اور اْن کے بیرونی سرپرست افغانستان کو دہشت گردوں کا گڑھ بنانا چاہتے ہیں تاکہ علاقائی امن کو ٹھیس پہنچائی جا سکے۔

ماسکو مذاکرات

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ،این این آئی)ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ امریکا سے ہمارے تعلقات اچھے نہیں، افغانستان کے معاملے میں پاکستان سے امریکی توقعات بہت زیادہ ہیں لیکن ہم نے انہیں بتادیا ہے کہ جو ہم کرسکے کریں گے لیکن اس قدر نتائج نہیں دے سکتے، سعودی عرب میں 30 لاکھ پاکستانی کام کرتے ہیں اور ہم ان میں اضافہ چاہیں گے، ہم مقامات مقدسہ کا تحفظ کریں گے اس کے علاوہ غیر جانبدار رہیں گے۔اسلام آباد میں سینیٹ پالیسی ریسرچ فورم سے خطاب کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہمارا بنیادی مسئلہ بھارت کے ساتھ ہے جس سے ہم نے 4 جنگیں لڑی ہیں، وزیر اعظم نے بھارت سے مذاکرات کے لیے خط لکھ کربات کرنے کو کہا، 19 تاریخ کو ہمارا خط گیا، 20 کو بھارت مذاکرات کیلئے مان گیا اور 21 کو وہ اپنی بات سے مکرگیا، اس کی وجہ بھارت میں آئندہ پارلیمانی انتخابات ہیں کیونکہ بھارتی انتخابات میں پاکستان اہم ترین ایشو ہوتا ہے، سیاسی جماعتوں کے پاکستان کے حوالے سے موقف کو دیکھا جاتا ہے۔ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ ہم دنیا سے متوازن تعلقات چاہتے ہیں، وزیراعظم کا دورہ بہت مثبت رہا، دو ماہ میں ایران کے وزیر خارجہ دو مرتبہ پاکستان آئے جو بہت مثبت ہے۔

مزید : صفحہ اول