ڈی جی نیب لاہور کیخلاف اپوزیشن کی تحریک استحقاق ، جسٹس (ر) جاوید اقبال نے انٹر ویو کا ریکارڈ طلب کر لیا ، شہزاد سلیم کی مبینہ جعلی ڈگری کا کیس بھی سماعت کیلئے مقرر

ڈی جی نیب لاہور کیخلاف اپوزیشن کی تحریک استحقاق ، جسٹس (ر) جاوید اقبال نے انٹر ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں)قومی اسمبلی کے اجلاس میں سپیکر اسد قیصر نے اپوزیشن کو ڈی جی نیب لاہور کی جانب سے میڈیا پر انٹرویوز دینے کیخلاف تحریک استحقاق پیش کرنے کی اجازت نہ دی،اپوزیشن نے تحریک استحقاق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروا دی۔ مسلم لیگ(ن) کے مرکزی رہنماء شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ چیئرمین نیب کی ہدایت پر ڈی جی نیب لاہور اپوزیشن کا میڈیا ٹرائل کر رہے ہیں جو باتیں نیب افسر کر رہا ہے وہی وزراء اور وزیر اعظم بھی کر چکے، وہ ان کے علم میں کیسے آئیں ، ہم احتساب چاہتے ہیں لیکن ان لوگوں سے احتساب نہیں چاہتے جوحکومت سے تنخواہ لیتے ہیں،سپریم کورٹ کی ہدایت ہے کہ تفتیشی ادارے کسی کوبے عزت نہیں کریں گے، لہذا نیب افسر کے خلاف تحریک استحقاق لی جائے۔جمعہ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب کا ایک افسر اپوزیشن کا میڈیا ٹرائل کر رہا ہے ، وہ افسر وہ باتیں کر رہا ہے جو پبلک میں نہیں آسکتیں ، اگر آپ اس کا نوٹس نہیں لیں گے تو کون لے گا ، ایک افسر نے قانون کو توڑا ہے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت ہے کہ تفتیشی ادارے کسی کوبے عزت نہیں کریں گے، لہذا نیب افسر کے خلاف تحریک استحقاق لی جائے۔ ایوان اسے نہیں پوچھے گا تو کون پوچھے گا پیپلزپارٹی کے رہنما نوید قمر نے کہا کہ اگر ممبران کی میڈیا ٹرائل کی اجازت دی گئی تویہ سلسلہ جاری رہے گا، نیب افسر ایک دن میں 5 ٹاک شوز میں شریک ہوئے کیا اب نیب کی یہ پالیسی ہے کہ وہ صرف میڈیا ٹرائل کریں گے جس پر اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ تحریک استحقاق کی فائل آئے گی تو اس پر قانونی رائے لوں گا۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آپ اسپیکر کو ڈکٹیٹ نہ کریں قانون سب کے لیے برابر ہے، کسی کو ایم این اے ہونے کی وجہ سے چھوٹ نہیں دی جاسکتی، جب اپوزیشن لیڈر ایوان میں آئے تھے تو وزیر قانون نے کہا تھا کہ آپ کو نیب کا میڈیا ٹرائل نہیں کرنا چاہیئے ،لیکن اپوزیشن لیڈر نے اپنا پورا مدعا بیان کیا ،فواد چوہدری نے کہا کہ آپ تحریک استحقاق کا ہتھیار استعمال کرکے تحقیقات پر اثر انداز ہونا چاہتے ہیں ، یہ تحریک استحقاق لانا آئین کے خلاف ہے ، مسلم لیگ (ن) کے رہنماء رانا تنویر حسین نے کہا کہ ایوان کا استحقاق مجروع ہو اہے ، ٹی وی پر میڈیا ٹرائل کیا گیا ، کل کو شہباز شریف بری ہو جائیں گے تو پھر کیا ہوگا ، انصاف ہوتا ہوا بھی نظر آنا چاہیئے ، ایک افسر ٹی وی پر آکر اتنی بڑی بڑی باتیں کرے یہ نہیں ہو سکتا ، اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ میں اس پر مشاورت کر کے جواب دوں گا بعد ازاں اسپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا ،بعد ازاں اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تحریک استحقاق جمع کروا دی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ڈی جی نیب نے ارکان اسمبلی کی ساکھ مجروح کرنے کی کوشش کی، ڈی جی نیب نے چیئرمین نیب کی منشا سے ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیا جس میں اپوزیشن ارکان کا میڈیا ٹرائل کیا، ڈی جی نیب نے خفیہ تحقیقات اور دستاویزات میڈیا پر دکھائیں لہذا معاملے پر تحریک استحقاق کارروائی عمل میں لائی جائے دریں اثناقومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران سوالوں کے جواب موصول نہ ہونے پرسپیکر اسد قیصر حکومت پر برہم ہو گئے اور احتجاجا اجلاس کو 10 منٹ کے لئے ملتوی کرتے ہوئے متعلقہ سیکرٹریوں کو چیمبر میں طلب کر لیا،جبکہ حکومتی رکن راجہ ریاض بھی وزرا کی عدم موجودگی پر برس پڑے۔قومی اسمبلی میں ڈی جی نیب کے خلاف ن لیگ کی تحریک استحقاق کی پیپلز پارٹی نے بھی تائید کردی قومی اسمبلی میں حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ پانامہ لیکس میں سامنے آنے 444 میں سے 150پاکستانیوں کے کیسوں کا سراغ نہیں لگایا جا سکا جبکہ 294 کیسوں میں نوٹس جاری کر دیئے گئے ہیں ،15کیسوں میں 10ارب کی ڈیمانڈ میں سے 6ارب وصول کر لیئے گئے ہیں،ایف بی آر نے پانامہ لیکس کے ضمن میں سپریم کورٹ میں کوئی پٹیشن دائر نہیں کی، بیرون ملک 96 ہزار پاکستانیوں کے اکاؤنٹس کا ڈیٹا ایف بی آر کو مل چکا ہے، ڈیم فنڈ میں ساڑھے 7ارب کی رقم جمع ہو چکی ہے ،، گزشتہ حکومت نے پانامہ لیکس میں شامل 242 افراد کے خلاف جان کر کارروائی شروع نہیں کی، تحریک انصاف کی حکومت نے ان 242 افراد کے خلاف بھی کارروائی شروع کردی ہے، ان خیالات کااظہار وزیر مملکت برائے خزانہ حماد اظہر سمیت دیگر وزراء نے وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کیا ۔ رکن اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی کے سوال کے تحریری جواب میں وزیر خزانہ اسد عمر نے ایوان کو بتایا کہ ایف بی آر کے ریکارڈ کے مطابق پانامہ لیکس میں 444 پاکستانیوں کے نام کی نشاندہی کی گئی ہے ،ایف بی آر نے پانامہ لیکس کے ضمن میں سپریم کورٹ میں کوئی پٹیشن دائر نہیں کی ،فیلڈ افسران نے انکم ٹیکس آرڈیننس کی متعلقہ دفعہ کے تحت 294 کیسوں میں نوٹس جاری کر دیئے ہیں تاہم بقایا 150 کیسوں میں نوٹس جاری نہیں کیئے جا سکے جس کی وجہ یہ ہے کہ نامکمل کوائف کی بناء پران کیسوں کا سراغ نہیں لگایا جا سکا،242 کیسوں میں معلومات کی موصولی کے وقت کاروائی کرنے کی مقررہ مدت گزر چکی تھی اس لیئے کاروائی شروع نہیں کی جاسکی تاہم بعد ازاں کاروائی کرنے کی مد میں قانونی تبدیلیوں سے اضافہ کرنے کے بعد کیسوں کے ضمن میں کاروائی کی جارہی ہے ،4افراد کے غیر مقیم ہونے کی بنیاد پر کارروائی روک دی گئی ہے ،جبکہ 12افراد وفات پاچکے ہیں،15کیسوں میں آڈٹ کی کاروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں ،15کیسوں میں 10.9بلین روپے کی ڈیمانڈ بنائی گئی ہے جس میں سے 6.2بلین روپے وصول کر لئے گئے ہیں پانامہ کے باقی کیسوں میں کاروائیاں جاری ہیں، وزیر مملکت برائے خزانہ حماد اظہر نے ایوان کو بتایا کہ بیرون ملک 96 ہزار پاکستانیوں کے اکاؤنٹس کا ڈیٹا ایف بی آر نے کو مل چکا ہے ، یہ 96 ہزار اکاؤنٹس پانامہ لیکس کے علاوہ ہیں، گزشتہ حکومت نے پانامہ لیکس میں شامل 242 افراد کے خلاف جان کر کارروائی شروع نہیں کی، تحریک انصاف کی حکومت نے ان 242 افراد کے خلاف بھی کارروائی شروع کردی ہے، ۔ رکن اسمبلی مسرت رفیق مہیسر کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت خزانہ حماد اظہر نے کہا کہ ڈیم فنڈ میں ساڑھے 7ارب کی رقم جمع ہو چکی ہے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ماضی کی حکومتوں کی طرح تحریک انصاف لاپتہ افراد پر خاموش نہیں رہے گی،تحریک انصاف کا لاپتہ افراد پر ایک واضح موقف رہا ہے جمعہ کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے محسن داوڑ نے کہا کہ ہمارے پولیس افسران بھی لاپتہ ہوتے جارہے ہیں، ایس پی رولر پشاور طاہر داوڑ کو اسلام آباد سے اٹھا یا گیا ہے اور ابھی تک ان کا پتہ نہیں چلا ، وہ کئی آپریشن کر چکے ہیں جبکہ ان پر کئی مرتبہ حملے بھی ہوئے ہیں ، لیکن اب وہ لاپتہ ہیں ، محسن داوڑ نے کہا کہ کون سا محکمہ ہے جو پولیس سے بھی زیادہ طاقتور ہے جس سے کوئی پوچھ بھی نہیں سکتا ، اس موقع پر وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ میں اس معاملے پر سیکرٹری داخلہ سے تفصیل لے کر ایوان کو بتا دوں گا ، دوسری طرف چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے ڈی جی نیب لاہور کی میڈیا سے گفتگو کا ریکارڈ طلب کرلیا۔ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم نے گزشتہ روز ایک انٹرویومیں شریف خاندان کے خلاف نیب کیسز پر بات کی تھی۔جسٹس (ر) جاوید اقبال نے تمام نشریاتی اداروں سے ڈی جی نیب لاہور کی گفتگو کا ریکارڈ طلب کرلیا۔ترجمان نے بتایا کہ ڈی جی نیب کی گفتگو کا ریکارڈ اس لیے طلب کیا گیا کہ یہ دیکھنا مقصودہے کہ کیا حقائق کے برعکس ڈی جی نیب نے کوئی بات کی اور قانون کی روشنی میں کارروائی کی جاسکے۔ترجمان نیب نے کہا کہ نیب تمام معزز اراکین اسمبلی کا احترام کرتاہے، اراکین اسمبلی کا استحقاق مجروح ہوا تو کیسے ہوا۔جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے قومی احتساب بیورو لاہور کے ڈائریکٹر جنرل شہزاد سلیم کی مبینہ ڈگری جعلی کے معاملے کا کیس سماعت کیلئے مقرر کر دیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ تشکیل دیدیا ہے جو 12 نومبر کو ڈی جی نیب جعلی ڈگری کیس کی سماعت کرے گا۔ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کے خلاف مبینہ جعلی ڈگری کی درخواست ایک شہری نے دائر کر رکھی ہے ٗ عدالت نے درخواست گزار کو بھی نوٹس جاری کر دیا ہے۔خیال رہے کہ جب ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کی ڈگری جعلی ہونے کی خبریں زیر گردش ہوئی تو نیب ترجمان نے انھیں جھوٹی قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا تھا

تحریک استحقاق

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ،آئی این پی )سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کو مناظر ے کا چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹی وی پر اکیلے بیٹھ کر اپوزیشن پر الزام لگانے کی بجائے ہمیں ساتھ بٹھائیں پھر ان کے تمام الزامات کا ان کو اسی وقت جواب دیں گے،، چیف جسٹس کو اس معاملے پر از خود سوموٹو لینا چاہیے انکے واضح احکامات کی خلاف ورزی کی گئی ہے، ڈی جی نیب لاہور نے اپوزیشن کا میڈیا ٹرائل کیا ، نیب نام نہاد کیس اپوزیشن کے خلاف بنا رہا ہے، نیب کو سیاست پر کنٹرول کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے، وہ جمعہ کو خواجہ محمد آصف، رانا ثناء اللہ ، احسن اقبال ،مرتضیٰ جاوید عباسی اور مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کر رہے تھے ۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا انوکھا واقعہ پیش آیا جس میں ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد نے چیئرمین نیب کی ہدایت پر پانچ ٹی وی پروگراموں میں شرکت کی جس میں انہوں نے اپوزیشن کا میڈیا ٹرائل کیا ، نیب نام نہاد کیس اپوزیشن کے خلاف بنا رہا ہے ، ڈی جی نیب لاہور نے اپنے ٹی وی انٹرویو میں خفیہ معلومات میڈیا کو بتائیں جس سے سیاسی لوگوں کی ہتک ہوئی ، سپریم کورٹ کی جانب سے واضح ہدایات ہیں کہ دوران تحقیقات کسی کی پگڑی نہ اچھالی جائے ، ڈی جی نیب نے سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کی ، چیف جسٹس کو اس معاملے پر از خود سوموٹو لینا چاہیے کیونکہ ان کی واضح ہدایات کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیب کالا قانون ہے اس کو ختم ہونا چاہیے ، بدقسمتی ہے کہ ماضی میں حکومتیں اس کو ختم نہ کرسکیں ، سب اس بات سے ڈرتی تھیں کہ کہیں ان پر تنقید نہ کی جائے ، نیب کو سیاست پر کنٹرول کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ، ہم نے معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھایا ، پارلیمنٹ سیاسی کارکنوں کو تحفظ دیتا ہے ، ماضی میں ارکان کو ایئرپورٹ میں وی وی آئی پی لاؤنج میں داخل نہ ہونے کا نوٹس دیا جاتا رہا مگر آج پوری اپوزیشن کے مطالبے کو مسترد کیا گیا ۔وزیراطلاعات نے قومی اسمبلی میں ڈی جی نیب لاہور کے مؤقف کی تائید کی ، ڈی جی نیب نے وہی باتیں کیں جو اس سے قبل وزیراعظم ،وفاقی وزراء او رصوبائی وزراء کر چکے ہیں ، حکومت وضاحت دے کہ ان کو یہ باتیں کیسے پتہ چلیں ، بتایا جائے نیب آزاد ادارہ ہے یا حکومت کی ایما پر سیاسی مخالفین کو نشانہ بنا رہا ہے ، کیا نیب کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے کہ وہ دوران تحقیقات لوگوں کا میڈیا ٹرائل کرے ، یہ ملک کیساتھ سیاسی انتقام کی کوشش ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت صرف مسلم لیگ (ن) انتقام کے نشانے پر ہے ، مفروضوں پر کیس بنائے جا رہے ہیں ، اگر نیب کو تفتیش کرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو ریکوڈک منصوبے کی تحقیقات کرے ، ہم احتساب سے گھبراتے نہیں ، احتساب (ن) لیگ سے شروع کیا جائے اور سب سے پہلے میری اور میری کابینہ کا احتساب شروع کیا جائے ، جس معیار پر مسلم لیگ (ن) نوازشریف ،شہبازشریف اور خواجہ سعد رفیق کے احتساب کا معیار ہے وہی دیگر لوگوں کیساتھ معیار اپنایا جائے ، اگر انتقام ہی لینا ہے تو ہم انتقام سے گھبراتے نہیں ، ہم نے پہلے مشرف کے انتقام کا بھی سامنا کیا ، اس وقت ملک میں نام نہاد جمہوری حکومت ہے ، ڈی جی نیب لاہور نے آشیانہ کیس کا ذکر کیا ، میں ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کو مناظرے کا چیلنج کرتا ہوں کہ ٹی وی پر اکیلے بیٹھ کر اپوزیشن پر الزام لگانے کی بجائے ہمیں ساتھ بٹھائیں پھر ان کے تمام الزامات کا ان کو اسی وقت جواب دیں گے ، آشیانہ میں حکومت کو کوئی نقصان نہیں ہوا ، زمین آج بھی صوبائی حکومت کے پاس ہے ، شہبازشریف نے جس کمپنی کا ٹھیکہ منسوخ کیا وہ بلیک لسٹ ہے ، پشاور میں اسی بلیک لسٹ کمپنی کو میٹرو کو منصوبہ دیا گیا ، پشاور میٹرو منصوبہ کی لاگت 30ارب سے بڑھ کر 70ارب تک پہنچ گئی ہے ، نیب ہمارے کیسوں سے فارغ ہو کر ایک چکر پشاور کا بھی لگائے ، حکومتی اہلکار جو سرکاری خزانے سے تنخواہ لیتا ہے وہ ایسے مفروضوں پر الزامات لگا رہا ہے جس کا نہ کوئی سر ہے نہ پیر، ہم اپنا کیس قوم کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں وہ فیصلہ کرے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ڈی جی نیب لاہور کی ڈگری بھی متنازع ہے ، ڈی جی نیب لاہور اپنی ڈگری میڈیا کو دے دیں ، اگر ان کی ڈگری جعلی ہے تو ان کا بھی احتساب ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ سعد رفیق کو پیراگون میں ملوث کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، پیرا گون 2003میں بنی ، پیراگون کی تمام تفصیلات ایس ای سی پی میں موجود ہیں ، یہ احتساب نہیں انتقام ہے ، احتساب کرنا ہے تو قوم کے سامنے کریں ، نیب سیاسی انتقام میں پارٹی بن چکا ہے ، کالے قانون ملکی مفاد میں نہیں ، بدترین آمریت میں جو کام نہیں ہوئے وہ اس حکومت کے حصے میں آئے ، نیب قانون اسلامی تعلیمات اور انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے ۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نیب قانون میں ترمیم سے متعلق حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں ، نیب قانون میں ترمیم کے کچھ نکات پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق ہو گیا ہے ،دونوں فریقین اب اپنی پارٹی قیادت سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلے پر پہنچیں گے ۔

شاہد خاقان عباسی

مزید : صفحہ اول