نیب کو فلیگ شپ ریفرنس میں نئی دستاویزات پیش کرنے کی اجازت

نیب کو فلیگ شپ ریفرنس میں نئی دستاویزات پیش کرنے کی اجازت

اسلام آباد(آئی این پی،آن لائن) احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نیب کو نئی دستاویزات پیش کرنے کی اجازت دے دی،جج ارشد ملک نے ریمارکس دیئے کہ 8ماہ کی تاخیر سے کیوں یہ دستاویزات پیش کی جا رہی ہیں، دستاویزات کیساتھ تفتیشی افسر کا تعلق عدالت خود فرض نہیں کر سکتی ۔ جمعہ کو احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نیب کی جانب سے نئی دستاویزات پیش کرنے سے متعلق درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کا اعتراض مسترد کر دیا اور نیب کی درخواست منظور کرلی۔فاضل جج نے نیب کو نئی دستاویزات پیش کرنے کی اجازت دی۔دوسری طرف احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی۔ علاوہ ازیں العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو پیشگی سوالنامہ دینے کی درخواست عدالت نے منظور کر لی، جس کے بعد50سوالوں پر مشتمل سوالنامہ نواز شریف کے وکلاء کے حوالے کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق العزیزیہ ریفرنس میں ملزم 342کے تحت بیان قلمبند کروانے سے قبل سوالنامہ دینے پر نیب کو اعتراض تھا، نیب کا اعتراض تھا کہ کوئی ایسی روایت نہیں اور نہ قانون اجازت دیتا ہے کہ ملزم کو سوالنامہ دیا جائے، عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ملزم کو سوالنامہ دینے کی اجازت دی، احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے50سوالات پرمشتمل سوالنامہ دیتے ہیں پھر ساتھ ساتھ دیکھیں گے، سوالنامہ دیتے ہوئے عدالت نے ملزم کے وکلاء کو تنبیہ کی کہ یہ سوالنامہ میڈیا پر نہیں آنے چاہئے، میاں نواز شریف 12نومبر342کے تحت اپنا بیان قلمبند کروائیں گے۔

نیب ،سوالنامہ

مزید : صفحہ اول