ہسپتالوں کا انتظامی ڈھانچہ تبدیل ، ایم ایس ختم ، چیف ایگزیکٹو کا عہدہ بحال کرنے کی تیاری

ہسپتالوں کا انتظامی ڈھانچہ تبدیل ، ایم ایس ختم ، چیف ایگزیکٹو کا عہدہ بحال ...

لاہور( جاوید اقبال)محکمہ صحت نے ٹیچنگ ہسپتالوں کا انتظامی ڈھانچہ ایک دفعہ پھر تبدیل کرنے کی تیاری شروع کردی ہے یہ ڈھانچہ دسویں دفعہ تبدیل ہوگا اس کا باضابطہ آغاز انیس سو اٹھانوے میں ہوا تھا جو کے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے ٹیچنگ ہسپتالوں میں بورڈ آف گورنرز لاکر کیا تھا ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ پنجاب حکومت شہباز شریف کے انیس سو اٹھانوے والے ماڈل کو دوبارہ متعارف کرانے جا رہی ہے جسے جنوری 2019 سے لاگو کر دیا جائے گا نئے انتظامی ڈھانچہ کے مطابق ایم ایس کا عہدہ ختم کر دیا جائے گا جبکہ چیف ایگزیکٹو کا عہدہ بحال کیا جائے گا ایم ایس کی جگہ میڈیکل ڈائریکٹر کا عہدہ متعارف کرایا جائے گا جب کہ میڈیکل یونیورسٹی کا وی سی یا میڈیکل کالج کا پرنسپل ہر ٹیچنگ ہسپتال کا چیف ایگزیکٹیو ہو گا ایم ایس کی جگہ لگایا جانے والا میڈیکل ڈائریکٹر بے اختیار ہوگا تمام ڈی ڈی اوز پاورز چیف ایگزیکٹیو کو حاصل ہوں گی ذرائع کے مطابق انیس سو اٹھانوے میں ٹیچنگ ہسپتال چلانے کے لئے بورڈ آف ڈائریکٹرز متعارف کرایا گیا تھا جس کو تبدیل کرکے بعد میں بورڈ آف مینجمنٹ کا نام دیا گیا تھا لیکن یہ بے اختیار تھا سورس کا کہنا ہے کہ اب پھر دوبارہ تھوڑی بہت ترمیم کے ساتھ بورڈ آف ڈائریکٹر متعارف کرایا جا رہا ہے ہر بورڈ اپنے ہسپتال کے فنڈز خود جنریٹ کرے گا ہسپتالوں میں ہر ٹیسٹ کی فیس عائد ہوگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر آغاز میو ہسپتال سے کیا جائے گا اس ہسپتال میں ایم ایس کی تمام طاقت اور اختیارات ابتدائی طور پر چیف ایگزیکٹیو کو سونپ دیے گئے ہیں سابق حکومت میں جو ڈی ڈی اوز پاور ایم ایس کو دی گئی تھی سے واپس لے کر یہ پاور ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو کو دے دی گئی ہے محکمہ صحت کے اس اقدام کو میو اسپتال کے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے سراہا ہے بعض کا کہنا ہے کہ اس سے مسائل اور بڑھیں گے۔

چیف ایگزیکٹو عہدہ

مزید : صفحہ اول