پاکستان کے ہر حکمران کا غیر ملکی دورہ ہمیشہ کامیاب رہتا ہے کبھی ناکام نہیں ہوا

پاکستان کے ہر حکمران کا غیر ملکی دورہ ہمیشہ کامیاب رہتا ہے کبھی ناکام نہیں ...
پاکستان کے ہر حکمران کا غیر ملکی دورہ ہمیشہ کامیاب رہتا ہے کبھی ناکام نہیں ہوا

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

پاکستان کی تاریخ میں کسی حکمران کا وہ صدر ہو یا وزیراعظم، کوئی غیر ملکی دورہ کبھی ناکام نہیں ہوا، جتنے بھی صدور گزرے یا وزیراعظم رہے جب وہ کسی غیر ملکی دورے سے واپس آئے تو یہی اعلان فرمایا کہ ان کا دورہ انتہائی کامیاب رہا، ایسے دوروں کے مقاصد بھی ہمیشہ حاصل ہوتے رہے، کبھی ایسا نہیں ہوا کسی حکمران نے کسی بھی غیر ملکی دورے سے واپس آکر یہ اعلان کیا ہو کہ ان کا دورہ فلاں فلاں پہلو سے ناکام رہا، حتیٰ کہ ایسے دورے بھی ہوئے جو بادی النظر میں ناکام ہی ٹھہرے تھے کیونکہ ان کے مقاصد حاصل نہیں ہوئے تھے، لیکن انہیں بھی کامیاب ہی قرار دیا گیا، جب عراق نے ایران پر حملہ کیا تو قدرتی طور پر ساری دنیا کو خصوصاً مسلمان ملکوں کو تشویش ہوئی چنانچہ دنیا کے بہت سے سربراہان مملکت و حکومت ایران اور عراق کے دورے پر گئے اور ان ملکوں کی قیادت سے گزارش کی کہ وہ جنگ بند کردیں لیکن کسی نے اس مشورے پر کان نہیں دھرا، ان دنوں ایران نے بار بار اعلان کیا کہ جنگ اس نے شروع نہیں کی بلکہ اس پر مسلط کی گئی ہے اس لئے وہ اپنے ملک کی سالمیت کا دفاع کررہا ہے اور کرتا رہے گا۔ جنگ اگر بند کرنی ہے تو عراق کرے جس نے یہ شروع کی تھی، ایران جنگ بند کرنے کو ذلت تصور کرتا تھا اور ملک کے گلی کوچوں میں ’’ہم ذلت سے پناہ مانگتے ہیں‘‘ کا نعرہ گونجتا تھا، ایسے ہی ماحول میں اس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق بھی جنگ بند کرانے کے مشن پر نکلے اور ظاہر ہے کہ ناکام لوٹے کیونکہ ان کے اس ’’کامیاب‘‘ دورے کے بعد بھی جنگ جاری تھی لیکن داد دینی پڑتی ہے کہ وہ جب دورے سے واپس آئے تو اعلان کیا گیا کہ جنرل ضیاء الحق کا دورہ بڑا کامیاب رہا ہے، یاد رہے کہ ایرانی انقلاب کے قائد آیت اللہ خمینی نے جن پانچ حکمرانوں کا تختہ الٹنے کا فتویٰ دے رکھا تھا، جنرل ضیاء الحق ان میں شامل تھے، ایسے میں دورے پر جانے سے پہلے ہی یہ بخوبی اندازہ تھا کہ یہ ناکام ہوجائے گا لیکن جنرل صاحب نے یہ رسک لے لیا، نواز شریف نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں خلیجی ملکوں کا دورہ اسی مقصد کے لئے کیا، جنگ تو بند نہ ہوسکی لیکن دوسرا ضرور کامیاب ہوا۔ ایران اور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات بحال کرانے کے لئے بھی نواز شریف نے دونوں ملکوں کا دورہ کیا، تعلقات تو آج تک بحال نہیں ہوئے لیکن یہ دورہ بھی کامیاب ہی ٹھہرا۔

وزیراعظم عمران خان نے تازہ ترین دورہ چین کا کیا ہے اور واپسی پر اعلان کیا ہے کہ یہ دورہ کامیاب رہا ہے اور آنے والے دنوں میں پاکستان اس کامیابی کی فصل کاٹے گا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی جو دورے میں ہمراہ تھے قومی اسمبلی اور سینٹ میں دورے کی کامیابی کا بڑے فخر سے ذکر کیا، حکومت کے دوسرے وزیر اور رہنما بھی جہاں انہیں موقع ملتا ہے دورے کی کامیابی کا تذکرہ کرتے ہیں، ٹاک شوز میں بھی اس کا اظہار ہورہا ہے، غرض ایک سحر ہے جو پوری فضا پر دورے کے حوالے سے محیط ہے، لیکن اس کامیابی کی کوئی تفصیل نہیں بتائی جارہی، روانگی سے پہلے دورے کا جو مقصد بتایا گیا تھا وہ یہ تھا کہ چین سے اسی طرح کا بیل آؤٹ پیکیج مانگا جائے گا جیسا پیکیج سعودی عرب سے حاصل کیا گیا ہے، یہاں بتاتے چلیں کہ سعودی عرب نے تین ارب ڈالر سٹیٹ بنک آف پاکستان کے فارن کرنسی اکاؤنٹ میں رکھنے کا اعلان کیا ہے جو بینک میں موجود رہیں گے، اس کا مقصد یہ ہے کہ جب یہ رقم آجائے گی تو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں تین ارب ڈالر کا اضافہ ہوجائے گا، اسی طرح سعودی عرب نے تین سال کے لئے تین ارب ڈالر کا تیل ادھار دینے کا اعلان کیا ہے، اس حوالے سے سعودی عرب کا یہ دورہ کامیاب بلکہ بہت کامیاب رہا ہے کیونکہ اس سے پہلے جب وزیراعظم سعودی عرب گئے تھے تو اس وقت وعدہ فردا ضرور ہوا تھا۔ اعلان نہیں کیا گیا تھا، شاید کچھ تفصیلات طے کرنا مقصود تھا جو دوسرے دورے میں طے ہوئیں، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیراعظم عمران خان کی ون ٹو ون ملاقات بھی ہوئی لیکن اس کی کوئی تفصیل بھی سامنے نہیں آئی۔ پارلیمنٹ میں حزبِ اختلاف مطالبہ ہی کرتی رہ گئی کہ اس کے بارے میں کچھ بتایا جائے لیکن چور چور اور ڈاکو ڈاکو کی صداؤں میں یہ مطالبہ نقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہوا، اب بتایا گیا ہے کہ چین نے جو ’’امداد‘‘دی ہے اس کی تفصیلات بتانے سے منع کردیا ہے، اس لئے کوئی ہم سے نہ پوچھے کہ کیا ملا ہے اور کیا نہیں ملا، بس آپ کو آم کھانے سے غرض ہونی چاہئے پیڑ گننے سے نہیں، لیکن ابھی چونکہ آموں کا موسم نہیں آیا اس لئے وقت آنے پر آپ آم کھا سکیں گے، سی پیک کے حوالے سے جب سابق حکمران تفصیلات سامنے لانے سے گریزاں تھے تو ان کے خلاف طرح طرح کا پروپیگنڈہ کیا جاتا تھا، میڈیا بھی تقریباً روزانہ یہ مطالبہ کرتا تھا کہ چین جو سرمایہ کاری کررہا ہے اس کی نوعیت کیا ہے اس میں قرض کتنا ہے، امداد کتنی ہے، سرمایہ کاری کتنی ہے، اس کی تفصیلات سامنے لائیں شاید احسن اقبال نے کچھ تفصیلات بتائیں بھی، لیکن تحریک انصاف مطمئن نہ ہوئی، اور اس حوالے سے الف لیلہ کی داستانیں بھی تراشی گئیں، تحریک انصاف وقتاً فوقتاً نہ صرف یہ مطالبہ کرتی رہی بلکہ اس کے حوالے سے حکومت کو ہدف تنقید و ملامت بناتی رہی، لیکن اب اپنی حکومت میں یہ صاف اعلان کردیا ہے کہ چین نے اس کی تفصیلات بتانے سے منع کردیا ہے، جو لوگ سابق دور میں یہ مطالبہ شد و مد سے الیکٹرانک میڈیا پر کررہے تھے اب ان کی زبانیں بھی گنگ ہیں اور وہ یہ نہیں پوچھ رہے کہ آخر اس سب کچھ کی پردہ داری کیوں ہے۔ چین کا نظام ایسا ہے کہ اس میں ہرا یرا غیرا نتھو خیرا اپنے صدر یا وزیراعظم سے ہر وقت لا یعنی سوالات نہیں کرسکتا، بس شہری اپنے کام سے کام رکھتے ہیں اور حکومت جو کچھ کرتی ہے اس کے نتائج سے مطمئن رہتے ہیں، صدر کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ دس سال کے لئے رہے گا اس کے بعد اگلی ٹیم آجائیگی جونہی ایک صدر پانچ سال پورے کرتا ہے ایک ٹیم اس کے ساتھ منسلک کردی جاتی ہے جس نے دس سال پورے ہونے پر اقتدار سنبھالنا ہوتا ہے، چینی صدر کو یہ خطرہ نہیں ہوتا کہ اس کے خلاف دھرنے ہوں گے اور پانچ سال کیا پانچ ماہ بعد بھی اس کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے والے میدان میں نکل آئیں گے موجودہ چینی صدر اپنی دوسری پانچ سالہ ٹرم شروع کرچکے ہیں اور روایت کے مطابق انہیں مجموعی طور پر دس سال رہنا ہے، چینی حکمرانوں کا کام کرنے کا اپنا انداز ہے، وہ خاموشی سے کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اس لئے اگر انہوں نے ہمارے وزیراعظم کو بھی امداد کی تفصیلات بتانے سے منع کردیا ہے تو اپنے حساب سے ٹھیک ہی کیا ہوگا لیکن سوال صرف اتنا ہے جو تحریک انصاف سابق حکومت سے چینی سرمایہ کاری کا ہر روز حساب مانگ رہی تھی وہ اب امداد کی تفصیلات بتانے سے کیوں گریزاں ہے کیا اس معاملے پر بھی یوٹرن لے لیا گیا ہے؟

کامیاب دورہ

مزید : تجزیہ