رواں سال میں 5000سے زائد قتل ، 2200خودکشیاں ، 25پراسرار ہلاکتیں

رواں سال میں 5000سے زائد قتل ، 2200خودکشیاں ، 25پراسرار ہلاکتیں

لا ہور (رپورٹ: یو نس باٹھ ) رواں سال کے 10ماہ صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر میں جرائم کی شرح میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔پولیس کے پنجاب میں جاری سرچ آپریشن کا غذی کارروائیوں تک محدود رہے ،تھانوں میں کم نفری‘ محدود وسائل‘5 ہزار سے زائدمردو خواتین اور بچوں کا قتل‘2500سے زائد پراسرار ہلاکتیں‘مبینہ پولیس مقابلوں میں213 افراد کی ہلاکت‘ڈکیتی مزاحمت پر2پولیس اہلکاروں سمیت201مردوخواتین کا قتل‘2200سے زائد خود کشیاں‘ ٹریفک حادثات میں2700سے زائد ہلاکتیں ،سنگین جرائم کے 12ہزار 460 اشتہاری لاہور پولیس کی پہنچ سے دور، سی آئی اے ونگ، انویسٹی گیشن پولیس، ڈولفن فورس اورپیرو فورس بے بس دکھائی دیتی ہے۔ سینکڑوں اشتہاری بیرون ممالک فرار ہو چکے ہیں جو کہ پو لیس کی کا ر کر دگی پر سوالیہ نشان ہے واضح رہے شہرمیں قاتل دندنا رہے ہیں لٹیروں کو روکنے والا کوئی نہیں اور شہری جرائم پیشہ افراد کے رحم وکرم پر ہیں۔ ہر 3منٹ بعد واردات معمول بن گئی ہے پنجاب کی ڈولفن فورس ہو یا پولیس ریسپانس یونٹ امن و امان قائم کرنے میں سب ناکام ٹھہرے ،کسی ایک بھی سنگین واقعہ کا ملزم گرفتار نہ ہوسکا۔ امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال اور دن رات کی تمیز کے بغیر چوریوں، سینہ زوریوں ، چھینا جھپٹیوں، ڈاکہ زنیوں اور اغوا وغیرہ کے روز افزوں واقعات نے پاکستان میں ہر شخص کو خوف میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اشتہاری گروپوں نے لا ہور سمیت پنجاب بھر میں ادھم مچا رکھا ہے جبکہ پولیس انہیں گرفتار کرنے میں بری طرح نا کام ہے۔صرف لا ہور میں17ہزار سے زائد اشتہاریوں کی گرفتاری پولیس کیلئے چیلنج کیحیثیت رکھتی ہے ۔پنجاب بھر میں ڈاکوؤں‘ چوروں‘ منشیات فروشوں اور ناجائز اسلحہ کیخلاف چلائی جانے والی پولیس کی خصوصی مہم بھی کاغذی کاروائیوں تک محدود دکھائی دیتی ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف لا ہور میں گزشتہ دس ماہ کے دوران 690افراد قتل جبکہ 400 سے زائد پر اسرار طور پر ہلاک ہو چکے ہیں۔ لا ہور پو لیس کے سر براہ کا کہنا ہے کہ معاشرے میں امن و امان کا قیام اور جرائم کی روک تھام صرف حکومت اور حکومتی اداروں ہی کی ذمہ داری ہے اور عوام کی اِس ضمن میں کوئی ذمہ داری نہیں؟ بلکہ وہ اس مسئلے پر حکومت اور حکومتی اداروں کے خلاف مدعی ہیں۔ شہریوں کا امن و امان کے قیام اورجرائم کے روک تھام کے سلسلے میں اپنی ذمہ داری ادا کرنے سے گریز کرنا دینی ، قانونی اور اخلاقی طورپرغیرمنطقی اور غیرمناسب ہے۔آئی جی پو لیس پنجاب امجد جاوید سلیمی نے اس با رے موقف اختیار کیا ہے کہ جن مقد مات کے ملز مان گر فتار نہیں ہو سکے انھیں جلد گرفتار کر لیا جا ئے گا اور ان تمام مقد مات کی تفتیش میر ٹ پر ہو گی۔غفلت کے مر تکب اہلکاروں کے خلا ف محکمانہ کا رروائی عمل میں لا ئی جا ئے گی ۔

کرائم رپورٹ

مزید : صفحہ آخر