اظہار رائے کا مطلب دوسروں کو اذیت قدینا نہیں ، اسلام آباد ہائی کورٹ

اظہار رائے کا مطلب دوسروں کو اذیت قدینا نہیں ، اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد( آن لائن ) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے رات کو چینلز دیکھیں تو لگتا ہے ساری اظہار رائے کی آزادی یہاں ہی ہے، اس میں غیر ملکی مداخلت کو نظراندازنہیں کیا جا سکتا، ہمارے سامنے آیا سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کے حوالے سے بھی بہت کچھ کہا گیا، توہین رسالت ؐ یا اس قسم کا مواد ملک میں آگ لگا سکتا ہے، گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ میں اظہار رائے کی آزادی مدنظر رکھ کر سائبر کرائم قانون سازی کے حوالے سے درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت عالیہ اسلام آباد کے فاضل جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی، جب سماعت شروع ہوئی الیکٹرانک کرائم ایکٹ کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی، عدالت اظہار رائے کی آزادی کو مدنظر رکھ کر قانون سازی کا حکم دے، ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد محمود کیانی نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا اظہار رائے کے نام پر ہرچیز کی اجازت نہیں ہو نی چاہئے، اب کسی ذات پر یا اس کے ایمان پر بات کرنا اظہار رائے تو نہیں۔ اظہار رائے کی آزادی موجود ہے قانون سازی کو ختم تو نہیں کیا جا سکتا، آپ چاہتے ہیں سب ختم کر دیا جائے جس کا جو جی چاہے کرتا رہے، فاضل جج نے ریمارکس دیئے فیس بک اورٹویٹ کو دیکھ لیں اظہار رائے کی آزادی کہاں نہیں، آپ کے رائٹس کا مطلب یہ نہیں اظہار رائے کے نام پر دوسروں کو اذیت دیں، اس میں غیر ملکی مداخلت ہو سکتی ہے، بعدازاں عدالت نے سیکریٹری وزارت قانون و انصاف اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے مزید سماعت 3ہفتوں تک کیلئے ملتوی کر دی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ

مزید : صفحہ آخر