عوام آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے سے مطمئن نہیں : سراج الحق

عوام آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے سے مطمئن نہیں : سراج الحق

لاہور( نمائندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاہے کہ حیرت کی بات ہے کہ اسمبلی میں لڑنے ، ایک دوسرے کو چور چور کہنے اور دست و گریبان جماعتیں پارلیمنٹ کے اندر آسیہ کی رہائی کے حق میں ایک ہو گئی ہیں ۔ لوگ سپریم کورٹ کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں ۔ حکومت پورے کیس پر نظر ثانی کے لیے اقدامات کرے اور آسیہ کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے، ماضی میں جن پارٹیوں نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کو کبھی تسلیم نہ کیا صرف توہین رسالت کیس میں گرفتار آسیہ کی رہائی کے فیصلے پر مغربی استعمار کو خوش کرنے کے لیے اکٹھی ہوگئی ہیں ۔ آئین کی حفاظت کے لیے اب قوم کو بھی متحد ہونا پڑے گا ۔ حکمران قیام پاکستان کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو عملاً ضائع کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ حکمران بتائیں کہ ہندوستان اور پاکستان کے سیاسی معاشی اور تعلیمی نظام میں کیا فرق ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کو جو مذہبی آزادی حاصل ہے ، وہی پاکستان کے مسلمانوں کو حاصل ہے۔شریعت کے نفاذ اور نظام اسلام کے نعرے پر عمل نہیں ہورہا جو پاکستان کے قیام کی بنیاد ہے۔دین اور ناموس رسالت کے خلاف اکٹھی ہونے والی جماعتوں کا اصل چہرہ قوم کے سامنے آگیاہے ۔ مغرب توہین رسالت کے مجرموں کو ہمیشہ وی آئی پی پروٹوکول دیتاہے اور بدقسمتی سے اسلامی دنیا کے حکمران پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کے تحفظ کی بجائے مغرب کی خوشنودی کے لیے ان مجرموں کے سرپرست بن جاتے ہیں ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزید کہا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے عقید ت و محبت او ر شان رسالت ؐ کی حفاظت آئین پاکستان کا تقاضا ہے۔ پہلے بھی بعض قوتوں نے پارلیمنٹ کے حلف نامے میں تبدیلی کی کوشش کی تھی ، پوری قوم کو بیدار اور ہوشیار رہنا ہوگا ۔ جب تک حکومت خود مدعی نہ بن جائے ، عوام سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوں گے ۔

مزید : صفحہ آخر