ٹانک ،محکمہ تعلیم ڈی ای او زنانہ کی عدم توجہی

ٹانک ،محکمہ تعلیم ڈی ای او زنانہ کی عدم توجہی

ٹا نک ( نمائندہ خصوصی ) محکمہ تعلیم ڈی ای او زنانہ کی عدم توجہی کے باعث ضلع میں بھوت سکولوں کا خاتمہ نہ ہو سکا متعلقہ افیسر کی موثر چیک اینڈ بیلنس و مانیٹرنگ نہ ہونے کیوجہ سے سکول کی بچیاں زیور تعلیم سے اراستہ ہونے کے بجائے جہالت پن کا شکار ہو رہی ہیں اگر صورتحال کا بروقت تدارک نہ کیا گیا تو نئی نسل کا تعلیمی مستقبل بربادی اور تاریکی میں ڈوب جائیگا ان خیالات کا اظہار عوامی تنظیموں اور والدین نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انکا کہنا تھا کہ ایک جانب پی ٹی آئی حکومت تعلیم کے فروغ اور ترقی پر اربوں روپے صرف کر رہی ہے تو دوسری جانب کوئی خاطر خواہ نتائج بر امد نہیں ہو رہے انکا کہنا تھا کہ موجودہ ای ڈی او نے دوماہ قبل صوبائی حکومت کی جانب سے اساتذہ کے تبادلوں پر پابندی کے باوجود سیاسی اثرروسوخ کی بنا پر درجنوں اساتذہ کے تبادلے کئے ہیں عمائدین کا کہنا تھا کہ موجودہ ای ڈی او زنانہ کی نااہلی کیوجہ سے طلباء کی تعلیمی کارکردگی شدید متاثر ہورہی ہے چونکہ تحریک انصاف کی سابقہ حکومت نے تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرکے لیٹریسی ریٹ 100 فیصد بڑھایا موثر مانیٹرنگ نظام کے ذریعے سکولوں میں اساتذہ کی حاضری یقینی بنائی بنائی گئی اور اسی بنیاد پر تحریک انصاف دوبارہ برسراقتدار آئی لیکن محکمہ تعلیم میں موجود بعض کالی بھیڑیں حکومتی کوششوں کو ثبوتاژ کرنے میں مصروف ہیں ٹانک کی عوامی تنظیموں اور والدین نے صوبائی وزیر تعلیم اور ڈپٹی کمشنر ٹانک سے اصلاح احوال کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر