چارسدہ میں مولانا سمیع الحق کے بہیمانہ قتل کیخلاف مذہبی جماعتوں کی کال پر احتجاجی مظاہرہ

چارسدہ میں مولانا سمیع الحق کے بہیمانہ قتل کیخلاف مذہبی جماعتوں کی کال پر ...

چارسدہ (بیور و رپورٹ) مولانا سمیع الحق کے بہیمانہ قتل اور توہین رسالت ایکٹ پر من و غن عمل درآمد کرنے کیلئے مذہبی جماعتوں کی کال پر فاروق اعظم چوک میں احتجاجی مظاہرہ ۔ حکومت بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے توہین رسالت ایکٹ میں ترمیم کی سازش اور توہین رسالت کی سزائے یافتہ ملزمان کو باعزت بری کرنے کے درپے ہے حکومت کے تمام سازشوں کو ناکام بنایا جائیگا۔ مقررین کا خطاب ۔ تفصیلات کے مطابق مذہبی جماعتو ں کی کال پر فاروق اعظم چوک میں ایک بڑا حتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔ احتجاجی مظاہرین نے حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی اور مطالبہ کیا کہ توہین رسالت ایکٹ میں ترمیم کے سازشوں کو بند کرکے توہین رسالت کے مر تکبین کو قانون اور آئین کے مطابق سزا دی جائے ۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کر تے ہوئے سابق ایم این اے مولانا سید گوہر شاہ ، جے یوآئی کے ضلعی امیر مولانا محمد ہاشم خان ، ڈاکٹر الہی جان،مولاناعبدالرؤف شاکر، مولانا عبدالواحد ، مولانا نجیب السلام اور دیگر نے مولانا سمیع الحق کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کی اور کہا کہ مولانا سمیع الحق شہید کے مشن کو جاری رکھا جائیگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مولانا سمیع الحق شہید کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کرکے قتل کے عوامل اور محرکات سے قوم کو آگاہ کریں ۔ مقررین نے سپریم آف پاکستان کے حکم پر توہین رسالت کے الزام میں سزائے موت پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی باعزت بریت کی شدید مذمت کی اور کہا کہ سپریم کورٹ اور حکومت نے مل جل کر عالمی قوتوں کی دباؤ پر توہین رسالت ﷺ کے مرتکب ملغون آسیہ مسیح کو باعزت بری کر کے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی قوتیں اور عوام سپریم کورٹ کے فیصلے کو یکسر مسترد کر تی ہے اور اس حوالے سے جانوں کی قربانیاں دینے سے دریغ نہیں کریگی ۔ مقررین نے کہا کہ عدالتوں پر ہمارا اعتماد ختم ہو چکا ہے اور آئندہ توہین رسالت کے مرتکبین کو چوکوں اور چوراہوں میں خود نشان عبرت بنائینگے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ممتاز قادری کو پھانسی دی گئی جبکہ دوسری طرف اسی کیس میں نامزد ملزمہ آسیہ مسیح کو باعزت بری کیا گیا ۔ مقررین نے کہا کہ موجودہ حکومت قادیانیوں کو تحفظ دے رہی ہے ۔ گزشتہ دنوں اسرائیلی طیارے کی پاکستان آمد سے شکوک و شبہات مزید بڑھ گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہم کسی صورت ماننے کو تیار نہیں ۔ سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے بصورت دیگر حالات کی ذمہ داری حکومت اور اعلی عدلیہ پر ہو گی ۔

مزید : کراچی صفحہ اول