لاہور میں رکشہ ڈرائیور اور مرحوم شخص کے نام پر بھی بینک اکائونٹس، کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشن لیکن یہ اکاؤنٹ کس کے زیراستعمال تھے؟ پہلی مرتبہ نام سامنے آگئے

لاہور میں رکشہ ڈرائیور اور مرحوم شخص کے نام پر بھی بینک اکائونٹس، کروڑوں ...
لاہور میں رکشہ ڈرائیور اور مرحوم شخص کے نام پر بھی بینک اکائونٹس، کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشن لیکن یہ اکاؤنٹ کس کے زیراستعمال تھے؟ پہلی مرتبہ نام سامنے آگئے

  

لاہور (ویب ڈیسک) کراچی کے بعد لاہور میں بھی بے نامی اکاؤنٹس کا معاملہ سامنے آگیا، ان اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے کے لین دین کا انکشاف ہوا ہے ، ایف بی آر نے تحقیقات شروع دیں۔ دو سال قبل فوت ہوجانے والے ریڑھی بان اللہ دین کے اکاؤنٹ میں 3 سال کے دوران 33کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی ، رکشہ ڈرائیور ریاست مسیح کے اکاؤنٹ میں دو سال کے دوران 20کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی۔

روزنامہ دنیا کے مطابق دونوں بے نامی اکاؤنٹس سمٹ بینک بادامی باغ برانچ میں کھلے ہوئی ہیں۔ ایف بی آر کے مطابق دو سال قبل فون ہونیوالے ریڑھی بان اللہ دین کے اکاؤنٹ کو میکلوڈ روڈ کا تاجر عمران علی چلا رہا تھا جو کہ ٹیکس سے بچنے کیلئے ایک مردہ شخص کے نام پر جعلی اکاؤنٹ چلا رہا تھا۔ رکشہ ڈرائیور ریاست مسیح کے نام پر اکاؤنٹ کو بادامی باغ کا سٹیل مل مالک چلا رہا تھا اور دو سالوں میں 20 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن کی گئی۔ ایف بی آر نے معاملے کو چیک کیا تو پتہ چلا کہ ریاست مسیح شیخوپورہ کا رہائشی ہے اور کرایہ پر رکشہ چلاتا ہے۔ جب ایف آر ذرائع نے ریاست مسیح سے پوچھ گچھ کی تو پتہ چلا کہ اس کے علم میں نہیں ہے کہ اسکے نام پر کوئی اکاؤنٹ بنا ہوا ہے ، تحقیقات کرنے پر پتہ چلا کہ سٹیل مل کا مالک اس اکاؤنٹ میں ٹرانزیکشن کر رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے ریاست مسیح کو ٹیکس نیٹ میں لا کر 2 کروڑ روپے کی ریکوری کرلی۔ اس کے علاوہ پانچ لوگوں کے نام پر بے نامی بینک اکاؤنٹس پر خفیہ سروے جاری ہے اور جلدی تحقیقات مکمل کرلی جائیں گی۔ کاروباری لوگ ٹیکس سے بچنے کے لیے اپنے ملازموں کے نام پر خفیہ اکاؤنٹس بناتے ہیں اور بھاری ٹرانزیکشن انکے اکاؤنٹس سے کرتے ہیں اور جو اکاؤنٹس ایف بی آر کو ظاہر کیے ہوتے ہیں ان پر کم ٹرانزیکشن ظاہر کرتے ہیں۔ ان بے نامی اکاؤنٹس کو پکڑنے کے لیے ایف بی آر نے خفیہ سروے شروع کردیا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /علاقائی /پنجاب /لاہور