کسی کی ذات یا اس کے ایمان پر بات کرنا آزادی اظہار نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ

کسی کی ذات یا اس کے ایمان پر بات کرنا آزادی اظہار نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ
کسی کی ذات یا اس کے ایمان پر بات کرنا آزادی اظہار نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائبر کرائم سے متعلق قانون کو مزید سخت بنانے کیلئے انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ میں ترمیم اور مزید قانون سازی کی درخواست پر سیکرٹری وزارت قانون و انصاف اور سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تین ہفتوں میں جواب طلب کر لیا ہے۔ دوران سماعت عدالت عالیہ کے جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دئیے کہ رات کو ٹی وی چینلز دیکھیں تو لگتا ہے ساری اظہار رائے کی آزادی یہاں ہی ہے ، آپ کے رائٹس کا مطلب یہ نہیں کہ اظہار رائے کے نام پردوسروں کو اذیت دیں ، فیس بک اور ٹویٹر کو دیکھ لیں اظہار رائے کی آزادی کہاں نہیں؟ ہمارے سامنے ضمانت کی ایک درخواست آئی جس میں سوشل میڈیاپرریاستی اداروں کے حوالے سے بھی بہت کچھ کہا گیا تھا۔

گزشتہ روز فاضل جسٹس نے پاکستان پریس فاﺅنڈیشن کی جانب سے انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ کو مزید موثر بنانے کی درخواست کی سماعت کی۔ اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد محمودکیانی عدالتی نوٹس پر پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ توہین رسالت یا اس قسم کا مواد ملک میں آگ لگاسکتا ہے ، اظہار رائے کے نام پر ہر چیز کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔

درخواست گزار کے وکیل یاسر ہمدانی نے موقف اپنایا کہ الیکٹرانک کرائم ایکٹ کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بنیادی انسانی حقوق سے متصادم کوئی چیز نہ ہو ، عدالت اظہار رائے کی آزادی کو مدنظررکھ کرحکومت کو قانون سازی کاحکم دے۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دئیے کہ اب کسی کی ذات یا اس کے ایمان پر بات کرنا اظہار رائے تو نہیں ، اظہار رائے کی آزادی موجود ہے قانون سازی کو ختم تو نہیں کیا جا سکتا۔ آپ چاہتے ہیں سب ختم کر دیا جائے جس کا جوجی چاہے کرتا رہے۔

بعد ازاں فاضل جسٹس نے سیکرٹری وزارت قانون و انصاف اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کر لیا۔ کیس کی مزید سماعت تین ہفتوں تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد