جرمنی میں 200 فوجیوں کی جانب سے بغاوت اور قتل عام کا منصوبہ منظر عام پر آگیا، کھلبلی مچ گئی

جرمنی میں 200 فوجیوں کی جانب سے بغاوت اور قتل عام کا منصوبہ منظر عام پر آگیا، ...
جرمنی میں 200 فوجیوں کی جانب سے بغاوت اور قتل عام کا منصوبہ منظر عام پر آگیا، کھلبلی مچ گئی

  

برلن(مانیٹرنگ ڈیسک) نازی جرمنی میں ہونے والی قتل و غارت گری تاریخ کی بدترین نسل کشی کی باقاعدہ مہمات میں سے ایک ہے جس کی تفصیل سن کر انسان لرز کر رہ جاتا ہے۔ اب ایک بار پھر جرمن فوج میں ویسا ہی ایک خفیہ ’نیونازی‘ گروپ بنا کر بغاوت کرنے اورایسے لوگوں کا قتل عام کرنے کے منصوبے کا انکشاف منظرعام پر آ گیا ہے کہ پوری دنیا میں کھلبلی مچ گئی۔ میل آن لائن کے مطابق یہ خفیہ گروپ جرمن فوج کے کمانڈو یونٹ ’بنڈیس ویئر کے ایس کے‘ کے 200ایلیٹ کمانڈوز نے بنایا۔ ان کا منصوبہ تھا کہ جرمنی میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا اور پھر اس کی آڑ میں بعض بڑے سیاستدانوں اور دیگر ممالک سے جرمنی جانے والے پناہ گزینوں کو قتل کرنا۔تاہم اس سے پہلے کہ یہ گروپ اپنی منصوبہ بندی پر عمل کرتا، پکڑا گیا، اور ان فوجیوں نے اس ہولناک منصوبہ بندی کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس گروپ نے جرمنی میں امن و امان کی صورتحال کو تباہ کرنے کے بعد قتل و غارت کا جوخفیہ آپریشن شروع کرنا تھا ، اس کو ’ڈے ایکس‘ کا نام دیا گیا تھا۔ جرمنی کی گرین پارٹی کی لیڈر کلاﺅڈیا روتھ، وزیرخارجہ ہیکو میس اور سابق صدر جوایکم گاﺅک سیاستدانوں کی اس فہرست میں شامل تھے، جنہیں اس آپریشن کے دوران قتل کیا جانا تھا۔ جرمنی کے جریدے ’فوکس‘ کے مطابق فوجیوں کا یہ گروپ پناہ گزین گروپوں کے سربراہوں کو بھی قتل کرنے کی منصوبہ بندی رکھتا تھا کیونکہ یہ فوجی گروپ پناہ گزینوں کو جرمنی میں جنسی زیادتیوں، دہشت گردی اور سماجی بدامنی کا سبب سمجھتا تھا۔ابتدا ءمیں یہ خفیہ گروپ چند فوجیوں نے مل کر بنایا تاہم جب 2015ءمیں جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے 10لاکھ سے زائد پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں پناہ دی تو نسل پرستی پر یقین رکھنے والے مزید فوجی تیزی سے اس گروپ میں شامل ہونے لگے اور اس کی تعداد 200تک پہنچ گئی۔

مزید : بین الاقوامی