وفات پانے والے معروف ترین سائنسدان سٹیفن ہاکنگ کی آخری پیشنگوئی

وفات پانے والے معروف ترین سائنسدان سٹیفن ہاکنگ کی آخری پیشنگوئی
وفات پانے والے معروف ترین سائنسدان سٹیفن ہاکنگ کی آخری پیشنگوئی

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) فزسٹ سٹیفن ہاکنگ اس صدی کے سائنسدان قرار پائے جنہوں نے تکوینیات کے شعبے میں کئی اختراعی نظریات پیش کیے۔ اب ان کی آخری پیش گوئی سامنے آ گئی ہے جس میں انہوں نے ایک حیران کن دعویٰ کیا تھا۔ میل آن لائن کے مطابق اپنی کتاب ’بریف آنسرز ٹو دی بگ کوئسچنز‘ میں سٹیفن ہاکنگ نے یہ پیش گوئی تھی کہ’’ ایک وقت آئے گا جب انسان ٹائم ٹریول کے قابل ہو جائے گا اور ماضی میں پیچھے جانے کی صلاحیت حاصل کر لے گا، تاہم اس وقت یہ ایک ناممکن عمل نظر آتا ہے اور اگر کوئی اس معاملے پر ریسرچ کے لیے گرانٹ کی درخواست دے تو وہ فوری طور پر مسترد کر دی جائے گی۔‘‘

یونیورسٹی آف نوٹنگھم کے پروفیسر پیٹر ملنگٹن کا کہنا ہے کہ ’’ٹائم ٹریول کے حوالے سے سٹیفن ہاکنگ بہت محتاط بھی تھے اور بہت پرامید بھی۔ ان کا ماننا تھا کہ اس وقت ہم ٹائم ٹریول مشین جیسی چیز نہیں بنا سکتے تاہم مستقبل میں اس کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔آئن سٹائن ہمیں بتا گئے ہیں کہ وقت اور خلاء ایک ہی چیز کے دو جزو ہیں اور اس چیز کا نام ’سپیس ٹائم‘ ہے۔ چنانچہ ہمیں وقت کے فاصلے کے بارے میں بھی ویسا ہی سوچنا چاہیے جیسے ہم خلاء میں فاصلے کے بارے میں سوچتے ہیں۔ چنانچہ سر سٹیفن ہاکنگ کی طرح ہم بھی پرامید ہیں کہ مستقبل میں ہم ٹائم مشین جیسی کوئی چیز بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘‘

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی