ایران پراقتصادی پابندیوں میں ترکی کو تجارت کے لیے 25 فیصد چھوٹ

ایران پراقتصادی پابندیوں میں ترکی کو تجارت کے لیے 25 فیصد چھوٹ
ایران پراقتصادی پابندیوں میں ترکی کو تجارت کے لیے 25 فیصد چھوٹ

  

انقرہ (این این آئی)ترکی کے وزیر برائے توانائی نے کہا ہے کہ ایران پر امریکا کی طرف سے عائد کردہ اقتصادی پابندیوں میں ترکی کو 25 فی صد چھوٹ دی گئی ہے۔

امریکی ٹی وی کو ایک انٹرویو میں وزری توانائی فاتح دونمیز کا کہنا تھا کہ ان کے ملک نے ایران پر امریکی پابندیوں سے استنثیٰ کے لیے تہران کے ساتھ تجارت کے لیے 25 فی صد چھوٹ حاصل کرلی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی ایران سے سالانہ 30 لاکھ ٹن تیل خرید سکے گا۔ایک سوال کے جواب میں دونمیز کا کہنا تھا کہ توبراش ریفانری کو بند کرنے کے بعد اس کے متبادل کی تلاش جاری ہے تاکہ تیل کی منڈی میں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ان کاکہنا تھا کہ ایران کے ساتھ تیل کی تجارت کے حوالے سے قریبا انہیں 25 فیصد تک امریکا نے چھوٹی دی ہے تاہم انقرہ کی طرف سے اصل چھوٹ کی وضاحت نہیں کی گئی۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں ترک وزیر نے کہا کہ ان کا ملک ایران سے اگلے 5 سے 6سال تک قدرتی گیس خرید سکے گا۔خیال رہے کہ حال ہی میں امریکا نے ایران پر پابندیوں کی دوسری قسط عائد کی ہے جس میں ایرانی تیل اور توانائی کے شعبوں کو خاص طورپر نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم ان پابندیوں میں امریکا کے اتحادی8 ممالک کو تہران کے ساتھ محدود پیمانے پر کاروبارجاری رکھنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔

مزید : بین الاقوامی