جہاں عدل نہیں وہاں کچھ بھی نہیں 

جہاں عدل نہیں وہاں کچھ بھی نہیں 
جہاں عدل نہیں وہاں کچھ بھی نہیں 

  



حکومت 

حکومت ایک ایسی بندگلی میں کھڑی ہےجہاں اسکےاقوال زریں خوداسکےلئےمصیبت بنےہوئےہیں۔نہخدا ہی ملانہ وصال صنم کےمصداق حکومت نہ ادھر کی رہی نہ ادھر کی۔نہ اربوں درخت لگےاورنہ ہی کروڑوں نوکریاں ملیں۔نہ لاکھوں گھربنےاورنہ ہی فرشتےاہل مغرب کی دوزخ چھوڑکرنئی تشکیل شدہ ریاست کی طرف خوشی خوشی پدھارے ۔کوئی سرمایہ کاروں کاگروپ پاکستان میں ارب لگانے نہ آیا بلکہ عربوں نےبالآخرحکومت سےمنہ موڑلیااوربین الاقوامی مالیاتی اداروں کاسہارا لیناپڑا۔مجھےنہیں پتہ اچھےخاصے دنیا دارحکمرانی کےخواہش مندلوگوں کوسادہ لوح عوام کومدینہ کی ریاست بنانےکاجھانسہ دینےکامشورہ کس نے دیا؟جو بہرحال ایک دل کو چھو جانے والا نعرہ ہے،حالات واقعات اورتاریخ یہی بتاتی ہےکہ جس نے یہ نعرہ مستانہ لگایایاوہ خودنہیں رہایاحکومت نہیں رہی۔نوستارہ تحریک بھی نظام مصطفیٰﷺ لانے میں ناکام رہی لیکن ایک مذہبی جنرل ضرور دے گئی جو کافی عرصہ تک ہرایک کی شلوارکےپائینچےاوپر نیچے کرواتا رہا۔کیا اہل اقتداراسلامی نظام حکومت کےلئےخود ذہنی فکری اور اجتماعی سوچ کے تحت تیار ہیں؟یہی وہ سوال ہے جسکا جواب درکار ہے۔اگر ہیں تو ہی یہ بات کریں وگرنہ کوئی خمینی واقعتاً ایسا انقلاب نہ لےآئے کہ یہ سب ہاتھ پہ ہاتھ دھرےبیٹھے رہ جائیں اورکہتے پائے جائیں کہ ؀ ہمارا عشق ظفر رہ گیا دھرے کا دھرا۔گیم چینجر اقدام وہی ہےجس سے یہ بساط اپنی اصل سمت اوراپنے اصل مقام کی طرف لوٹےباقی مہروں سے نہ کھیل تبدیل ہوتاہے ناہی کھیل کے دائمی اصول ۔سیاست سیاست کھیلنے کا شوق ہو تو ذمہ داری قبول کرنے کا جگرا اور ہاتھ سے لکھا استعفیٰ بھی ساتھ ہونا چاہیے۔باقی سیاستدانوں کایہ حال ہے کہ“جب او کھلی میں سر دیا تو موصلوں کا کیا ڈر‘‘۔

آزادی مارچ

مولانا نے حزب اختلاف کی جماعتوں کی علامتی حمائت کیساتھ سٹیٹس کو کے غبارے میں سوراخ کی کوشش کی ہے۔ انکا جتھا اس لحاظ سے تبدیلی کے جتھے سے منفرد ہے کہ وہ امراء کی بجائے غرباء اور شرفاء کی نمائیندگی کا دعویدار ہے۔ مافیا اس نظام کیلئےبہت بڑا خطرہ ہے جو سٹیٹس کو ٹوٹنے نہیںُ دیتا اگر نظام مصطفیٰ کی بات کی جائے توسبکو مدینہ کی ریاست،عمر لاز پر مبنی جسٹس کا نظام زکات اور ٹیکس کا اسلامی مالیاتی نظام صحیح معنوں میں مہیا ہوجائیگاتاکہ کوئی کتا بھی دریاکےکنارے بھوکا نہ سوئے- ہم مدینہ کی ریاست کی باتیں بہت کرتے ہیں کیوں نہ ذرا آزما کر بھی دیکھیں۔ مجھے آزادی مارچ سے ایک امید یہی نظر آتی ہی کہ جھولے لیتے غریب اور استحصال شدہ طبقے اس ریاست سے واقعی وہ نظام نہ مانگ لیں جن کے ان سے مسلسل وعدے کئے گئے ۔ 

آئین قانون اور انصاف

کسی بھی ریاست میں امیر غریب کا فرق قانون کی عملداری اور انصاف کا معیارطے کرتا ہے وہ اقوام عالم میں کہاں کھڑے ہیں  ۔‏مسئلہ کسی کی دوران حراست ہلاکت یا ماورائے مادر پدر آزاد قانون اور احتساب نہیں مسئلہ یہ ہے کہ ایسے لوگ مسلط کردیے گئے ہیں جو اپنی آئینی قانونی ذمہ داریوں سے بے بہرہ ہیں،پی سی او کے شیدائی ہی نہیں متمنی بھی ہیں۔ایسے لوگوں سے انصاف کا بول بالا آئین کی بالادستی چاند مانگنے کے مترادف ہے۔لیکن ابھی تک ایسے راہنما کی تلاش جاری ہے جو قانون کی حکمرانی کو اپنا شعار بنائے کیونکہ نہ ہم بدلے ہیں اور نہ ہی بدلے ہیں ہمارے قومی حالات ۔ہمیں اب بھی ایسا قومی لیڈر ہی چاہیے جو قانون کی حکمرانی آئین کی بالادستی اوربہترین نظم و نسق اور کارکردگی پہ کامل یقین رکھتا ہو اور اسکے لئے کوشش بھی کرے اور اس میں  کچھ ٹھان کر کر گزرنے کی ہمت بھی ہو۔ متوسط طبقوں میں وراثت اور وصیت ساتھ ساتھ چلتے ہیں تاکہ والدین جیتے جی بے گھر زمین پر نہ آجائیں اور بعد از حیات انکے گھر میں خاندانی جھگڑے جنم نہ لیں۔قبل از مرگ جائیداد کی تقسیم وہاں ہوتی ہے جہاں مال ومتاع زیادہ ہواوربعد میں حصہ داران سے حق چھن جانے کا ڈر ہو۔اپنا حق جاننے میں حرج نہیں ۔یہی اصول ریاست پر بھی لاگو ہونا چاہیے تاکہ جھگڑے پیدا نہ ہوں۔ سیاست اور سیاسی پارٹیاں بھی اب تک وصیت اور شراکت کاری کے درمیان اٹکی ہوئی ہیں ۔ سول نظام کو درپیش خطرات سے وقت ملے تو اس طرف بھی توجہ ہو۔  تیز گام حادثے کو ہی لے لیں ، حادثے میں اتنی ہلاکتیں تشویشناک ہیں۔حکومت پسماندگان کی امداد کے لئے مناسب انتظامات تو کرے سو  کرے،لیکن تفتیش کیلیے ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں کمیشن ضرور قائم کرتی تاکہ شفاف تحقیقات ہوتیں اور جو بھی ذمہ دار ہوتااسے قانون کے مطابق  کڑی سزا ملتی یہ غفلت ہی نہیں نااہلی ہے لیکن جوں ہی سموگ نے ذہنوں پر قبضہ کیا حکومت نے جھکاویں ماری  اور یہ جا اور وہ جا ۔ایسے حالات میں مدینے کی ریاستیں بنانے کے خواب دیکھے تو جاسکتے ہیں ریاست بنائی نہیں جاسکتی جب قول و فعل میں واضح تضاد ہو۔ اور ایسی ریاستیں بنانے کے مسلمہ اصول ان نوٹنکیوں کے بدلنے سے تھوڑی بدلتے ہیں۔  ایک چیز جو توجہ طلب ہے وہ شفاف ٹرائل پر قانون سازی کی ہے۔ پارلیمان کو شفاف ٹرائل اور اسکی جزویات، عدالتی اصلاحات اور حساس معاملات پر گواہان کا تحفظ ، وقت پر ایک منصفانہ ٹرائل ، پیشی پر پیشی کا خاتمہ ، لمبے سٹے آرڈروں سے نجات اور ، ٹائم فریم میں عدالتی پراسس مکمل کرنے پر لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور دوسرے عدالتی فورمز کی آراء سے استفادہ کرتے ہوئے قانون سازی اور عوامی ذہن سازی کرنی چاہیے۔ تفتیش کو استغاثہ اور انتظامیہ کو عدلیہ سے علیحدہ کرنا اور علیحدہ رکھنا چاہیے ۔سپریم کورٹ کی لاء ریفارمز کمیشن کو ہنگامی بنیادوں پر ایسے معاملات پر گائیڈ لائینز جاری کرنی چاہیے جوکہ پارلیمان میں اصلاحات پر قانون سازی کا باعث بن سکیں اور اس کام میں بار ایسوسی ایشنز مکالمے , بحث اور مشاورت کا اہتمام کر سکتے ہیں ۔ ایسی اصلاحات کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز میں بامقصد مذاکرات، با معنی مشاورت اور قانون سازی کی ضرورت ہے۔ ہم یہاں لیٹ ہوئے تو اس خلاء کو پُر کرنے کے لئے لنگڑے لولے لاء انفورسمنٹ کے گروپس کئی سیاستدانوں کو شیر سے بکری بنانے کی پیداواری صلاحیت سے آراستہ ہو چکے ہیں اور قانون کی عدم موجودگی یا غلط استعمال سے کیسز کا غلط اندراج اور ناانصافی عوامی میڈیا اور سمری ٹرائیل کا باعث بن سکتی ہے جسے “ماب جسٹس” کہا جا سکتا ہے جو کہ ہر جگہ جہاں مافیاز مضبوط ہوں گے انہیں سوٹ کرے گا۔ آج کل سڑکوں پر ویسے بھی ان عناصر کا غلبہ ہے جن سے ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے پر بھی معاہدات کئے جاتے ہیں جیسا کہ دھرنا کیس میں ہوا ۔ یہ ایسا حساس معاملہ ہے جسے صرف انصاف اور مکمل انصاف کی فراہمی کے زریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ ہم تاریخ سے کچھ سیکھتے تو نہیں لیکن تاریخ پہ تاریخ ہمیں بہت کچھ سکھا دیتی ہے۔ جج ارشد ملک نے تو تاریخ کا دھارا ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔

عمران خان

یار لوگوں نے بہت دیر پہلے کہا تھا کہ مسیحائی کا خواہشمند ایک فریب نظر ہے جس شخص کے پاس نظریہ ٹیم تجربہ اور وقت نہ ہو وہ نیوکلیائی تبدیلیوں کا خواہشمند تو ہوسکتا ہے قومی راہبر راہنما یا گیم چینجر کبھی نہیں ہوسکتا۔ ہم نے خطے میں ترقی کے امکانات خود اپنی بیوقوفی سے ضائع کئے ہیں اور خود بارودی سرنگ پر لات ماری ہے کسی کو کیا مورود الزام ٹھہرانا  ۔ پاک چائینہ کاریڈار گوادر اور آئی ایم ایف سے ماورا خود انحصاری پر منحصر معیشت ایک خواب ضرور تھا لیکن اسکی تعبیر میں روشن پاکستان کی نوید تھی۔ غریب ملک کی آنکھ جب تک اسکے پیٹ میں اٹکی رہے گی وہ لوگوں کی تنقید ڈکٹیشن یا ہدایات پر چلتا رہے گا۔‏میں دل سے حیران ہوں کہ میڈیا اتنا کمزور کیسے پڑ سکتا ہےجبکہ ۳ نومبر ۲۰۰۷ کی ایمرجنسی کو سب نے ملکرختم کیا-اب سب ملکر بھگت رہے ہیں۔ ہم نے ستر سال کشمیریوں کی جدوجہد کی حمائت کی لیکن جب وقت اذاں آیا تب ہمیں احساس ہوا کہ ہم نمبر نفری اور اسلحہ بارود میں شاید بھارت سے کم ہیں اور یا شاید حوصلہ بھی ناپید ہے جو ایسے موقعوں پر دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنے کیلئے درکار ہے۔میں مغربی نشریاتی ادارے کے جید ایڈیٹر کی اس بات سے متفق ہوں کہ ‏“جو اوور آخری گیندوں کے تھے انہیں پہلے ہی کھیل لیا گیا، امپائر نے ساری توانائی ایک ہی کھیل اور ایک ہی کھلاڑی پر صرف کردی” یا شائد سارے انڈے ایک ہی باسکٹ میں ڈال دیے اور واپسی کا رابطہ بھی نہ رکھا۔ 

احتساب

یہ سوچ ہی غلط ہے کہ “ رشوت کے بغیر کام نہیں چلتا” کرپشن پر کریک ڈاؤن سوچ کی تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں۔ اپنے قول و فعل میں تضاد ختم کریں ایمانداری اور محنت کو شعار بنائیں اجتماعی ایماندارانہ سوچ کی ترویج کریں اور غلط کو غلط کہیں اور ریاستی قانون مک مکا کی بجائے انکو کیفر کردار تک پہنچائے تو کیسے کرپشن ختم نہیں ہوتی۔ سوچ تبدیل کریں چہرے نہیں 

‏ملک سوچے ایک جعلی ڈگری شدہ متنازعہ ڈی جی نیب لاہور کے حوالے سابق وزیراعظم کو رکھنا کس حد تک مناسب تھا۔ایسے لوگ جنکی اپنی ذات متنازعہ ہو انکی حراست میں اپنی حالت خراب ہونے تک میاں نواز شریف کچھ دنوں سے قید تھے ان سے کس معجزے کی توقع تھی  جو نتیجہ نکلا وہی اصل مقصد،حاصل وصول تھا اور ہے- اور احتساب کا اگر یہی لیول ہے تو یہی لمحہ فکریہ ہے۔نیب کیاکوئی بھی پوچھنے والا نہیں تب ہی تو ریٹائرمنٹ پر بھی ڈھول بجتے ہیں۔اگر“عمر لاز”صحیح معنوں میں مدینہ کی ریاست میں نافذ ہوجاتے تو چائینہ ماڈل احتساب کی بھی ضرورت نہ رہتی ۔ججز اور جنرلز ہماری مقدس گائیں ہیں وہ خوش قسمتی سے نیب کے دائرہ کار میں نہیں آتے وگرنہ چئیرمین تو سر تا پا انکی انکوائری کرتے۔ پارلیمان کو سیاستدانوں کیطرح انکو بھی باقی سٹیک ہولڈرز کیطرح قومی احتساب کے متوقع ایکٹ میں لانا چاہیے تاکہ “احتساب مگر سب کا “کے اصول پر عمل ہوسکے ۔میں دیگر ماہر قانون دانوں سے متفق ہوں کہ پاکستان کا اصل مسئلہ قانون کے غلط استعمال کا ہے نا کہ اختیارات کی کمی کا۔۔۔فیئر ٹرائل سے پہلے ہی لوگوں پر کرپشن کا الزام لگا کر انہیں جیل میں ڈال دینا ہمارے آئین کے بھی خلاف ہے اور معاشرتی قوانین کے بھی ، لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا ؟ یہی ملین ڈالر کا سوال ہے۔ بے لاگ بلا امتیاز اور سب کا صاف شفاف اور منصفانہ احتساب اس ادارے اور انصاف کی فراہمی کے اداروں پر اعتماد کے لئے ازحد ضروری ہے - وگرنہ آج میری اور کل تیری باری ہوگی اور حتمی انصاف کا انعقاد یقینی بنانے والے اسی طرح آخری ہنسی ہنستے رہیں گے۔ ہمیں ساؤتھ افریقن طرز کے سچ کمیشن کی طرف جانا چاہیئے اور سٹیک ہولڈرز کیساتھ بیٹھ کر ریاستی سمت کی درستگی کے لئے دائمی حل نکالنا چاہیے۔

اپوزیشن

اپوزیشن ایک مستقبل کی حکومت ہوتی ہے ۔ ہم نے ابھی تک شیڈو کابینہ بنا کر حکومت کا پارلیمانی اور عوامی احتساب کا نظام شروع نہیں کیا۔ ایسا کرنے سے نہ صرف نوجوان لیڈرشپ پیدا ہوگی بلکہ انکی ٹریننگ بھی ہوگی اور آنے والے وزراء کی اس جاب پر دسترس بھی ہوگی جس کو انہیں کل کو کرنا ہے۔ میں ذاتی طور پر تشدد، قید، ریاستی ایذا رسائی، اہدافیہ قانون سازی، اور سیاسی محرک احتساب کے اعتراف کے لیئے سچائی اور مفاہمتی کمیشن کی تشکیل کا بھرپور حمایتی ہوں۔ کمیشن1996 سے سول حکومتوں کے ہٹائے جانے اور مارشل لاء کا مشاہدہ کر کے اپنی رپورٹ پیش کر ے اور اگرچہ حمودالرحمان کمیشن کی رپورٹ سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ میرا خیال ہے کہ مفاہمتی کمیشن کی تشکیل سے ہم ہیجان میں خاتمہ کر کے ایک ایسا نظام متعارف کروا سکتے ہیں جہاں آرمی اور سیاستدانوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک روا رکھا جا سکےاور باہمی اعتماد میں کمی کا خاتمہ ہوسکے اور سیاستدان بلیک میل نہ کئے جا سکیں اور فوج بد اعتمادی کا شکار نہ ہو اور انہی آں اعلان نہ کرنا پڑے کہ وہ ایک صفحے پر ہیں۔ 

نواز شریف 

میرا یہ ماننا ہےکہ نوازشریف قومی اثاثہ ہیں انکی حفاظت کرنی چاہیےاورکریں۔نوازشریف کوسرکاری رپورٹس میں سنگین خطرات کی واضح نشاندہی کےباوجود بر وقت ہسپتال منتقل نہ کرنا حکومتی بے حسی اور بدترین سیاسی انتقام پہ مبنی پالیسی ہے،‏جیل مینوئل پر عمل نہ کرکے حکمران لاقانونیت کے مرتکب ہوئے ہیں -ویسے یہ بات لمحہ فکریہ ہے کہ جو سلوک ایک سابق وزیراعظم کے ساتھ انکے عہدے کے دوران آفس میں،ٹرائل کے دوران عدالت میں،اور بعد از ٹرائل جیل میں رکھا گیا ہے اسکی مثال نہیں ملتی - کیا سول حکمران اس سلوک کے مستحق ہیں۔ ۔ ٹرائل جج کی ویڈیو کے بعد ناانصافی کا سلسلہ رکنا چاہیے۔ارشد ملک کی ویڈیو کے بعد انصاف کوتوسانپ ہی سونگھ گیا ہےاور انصاف کی پامالی کا ایسا تماشا شاید ہی دنیا میں دیکھنے کو ملے کہ جج صاحب اور انکو بلیک میل کرنے والے گھر سو رہے ہیں۔ طالع آزما دبئی میں ہے اور نواز شریف جیل میں، یا ہسپتال میں قسط وار ضمانت کے مستحق ٹھہرائے گئے  ہیں۔ ضمانت بھی قسطوں میں انصاف کے مترادف ہے۔ نواز شریف صاحب کو سمجھیں پہچانیں اور انکی عزت کریں ۔ جیل میں اپنے لیڈران کو مارنا عزت دار قوموں کا شیوہ نہیں۔ جو انکی ملک کے لئے خدمات ہیں انکا احساس اور احترام کریں اور دل بڑا کرکے آگے بڑھیں اور ان سے بہتر ملک کی خدمت کریں، انکو کچھ ہوا تو صدمہ تو الگ بات ہے قوم نئی نوجوان لیڈرشپ پیدا کرنے کی بجائے افراتفری اور انتشار کی طرف چلی جائے گی۔جنرل مشرف کے اختتامیے سے ہی سبق سیکھیں۔قوم کی راہنمائی کے علمبردار اپنے قومی محسنوں کی عزت کرنا سیکھیں۔وہی قومیں اقوام عالم میں برابری پہ جگہ یاعزت پاتی ہیں جواپنےبڑوں اورمحسنوں کونہیں بھولتیں،جوکروں سے تو دنیا بھری پڑی ہے۔نواز شریف سے اظہار یکجہتی کے لئے پارلیمانکو آگے انا چاہیے اور میاں نواز شریف کے ساتھ جیل میں تفتیش کے دوران اس کھلواڑ پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ ہمیں نواز شریف کواتنی آسانی سے ظلم وستم کا شکارنہیں ہونے دینا چاہئے۔ ریاست نے دیکھا کہ : لیاقت علی خان, انیس سواکاون، ذولفقارعلی بھٹو, انیس سواناسی،بےنظیربھٹو,دوہزارسات میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ہم اس سوچ کا کچھ بگاڑ نہ سکے جس کے نزدیک یہ لوگ اچھے حکمران نہ تھے ۔ ایسا سلوک  نواز شریف کے ساتھ نہیں ہونے دینا چاہیے۔ جمہوریت پسند چیلنج سمجھ کر قائد مسلم لیگ اور پارلیمان کا دفاع کریں۔وہ جب امیدوار تھے تو مخالف کی تیمارداری کے لئے چل کر ہسپتال گئے ، وزیراعظم تھے تو مخالف کے ساتھ بات چیت کے لئے اسکے گھر گئے اور بدترین مخالف کی والدہ کی بیماری کے دوران ائیر ایمبولینس بھیجنے کا حکم دیا بیٹے کو ماں کے پاس جانے کے لئے کھلا چھوڑ دیا۔ خود بیمار ہوئے ، سینکڑوں پیشیاں بھگتیں جیل گئے لیکن اپنا اصولی مؤقف نہ چھوڑا-شدید بیمار ہوگئے لیکن اُف تک نہ کی ہنستے مسکراتے تفتیشی مرکز سے ہسپتال پہنچ گئے۔دوسری طرف حاکم وقت کا طرز کلام اور تخاطم نہ بدلہ۔ سنا تھا بادشاہ بادشاہوں سے بادشاہ جیسا سلوک کرتے ہیں ۔ یہ کیسے حکمران ہیں کہ بستر علالت پر بھی ذاتی انا ضد گھمنڈ اور غرور انُکے اندر سے نہیں جارہا۔ یہی حقیقت ہے کہ سب ایک دن ختم ہونے والا ہے اور رہے گا بس نام اللہ تعالی کا ۔ تاریخ ظلم اور ستم کی داستانوں اور ظالموں سے بھری پڑی ہے لیکن تاریخ میں نام صرف ہمدردی رکھنے اور صلہ رحمی والوں کا رہتا اور لیا جاتا ہے۔ جو بادشاہ بستر مرگ پر بھی اپنے مخالف سے انا انتقام اور بغض میں الجھا رہتا ہے وہ بادشاہ نہیں مفلس نادان اور فقیر ہےاورکچھ نہیں۔ 

نوجوان لیڈرشپ

ملک میں نوجوانوں کو سیاسی دھارےمیں لانے اور انکی دلچسپی برقرار رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔مریم نواز شریف کا سیاسی عہدہ اور انکی بڑھتی ہوئی مقبولیت بہت سوں کو خائف کررہی ہے،جس طرح انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے کردار کشی کی بجائےکردار سازی کی طرف توجہ دی ہے قابل تحسین ہے۔ اُس نے اِس خلاء کو پورا کیا ہےجونوجوانوں میں دعوؤں کے باوجود بدرجہ اُتم موجود تھا۔انکا سیاسی عہدہ ایک خوشگوارجھونکا ہے۔بلاول بھٹو زرداری کی پارلیمان میں سیاسی تقریر آنے والے وقت میں ایک پراثر پارلیمانی رول  کی نوید دے رہی ہے۔روشن پاکستان بنانا ہم سب کا فرض ہے۔آپ اپنے مستقبل پہ سرمایہ کاری کریں گے ہی تو محفوظ ہوں گے اور آنے والے وقت میں نوجوان لیڈرشپ اور پڑھے لکھے نوجوان ہی ہمارا مستقبل ہیں اور تعلیم کا فروغ ہماری مستقل ترجیح ہونی چاہیے۔ 

پارلیمان 

پارلیمان کا کام قانون سازی ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ مفادِ عامہ کی قانون سازی نے سالوں سے غلامی اور غصب میں دبی ہوئی لاکھوں آوازوں کو اُمید، رسائی اور زبان دی ہے۔ اس ابتداء کو آنے والے دنوں میں تقدّس، استحکام اور ادارہ جاتی  ضمانت  ملنی چاہیئےاور یہ ووٹ کی حرمت سے ہی ممکن ہے۔ تاہم از خود  نوٹس کے قانون پر میرا خیال ہے کہ چیف جسٹس ہدایات اور پیرامیٹرز متعیّن کر کے اس اچھے قدم کو عدم دلچسپی، ناکافی فنڈز، ججز کی کمی یا ایسےمائنڈ سیٹ جو کبھی بھی نقارہ خلق کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا کی بھینٹ چڑھنے سے بچا سکتے ہیں۔ کسی بھی منتخب وزیرِ اعظم کو پارٹی دفتروں اور پارلیمانی ارکان کو متحرک کر کے مفادِ عامہ کی خاطر مہینے میں کم از کم ایک مرتبہ کھلی کچہریاں لگانے کے امر کو یقینی بنانا چاہیئے۔تھکی ہوئی بیوروکریسی کے سامنے لگی فائلوں کے ڈھیروں کو کم کرنے کے لیئے ہسپتال، سکولوں، سول و کریمینل کورٹس اور پولیس اسٹیشن جیسی بنیادی سہولتوں کے تمام اختیارات مقوامی حکومتوں کو مُنتقل کیئے جانے چاہیے تاکہ اختیار کی تقسیم اور ٹیکس کی وصولی میں مقامی کردار اہم ہو۔ اور ان اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیئے نوکریوں کے مزید مواقع پیدا کر کے جوان خون بھرتی کیا جانا چاہیئے۔ہر شہری کے لیئے 16 سال کی عُمراور میٹرک تک مفت تعلیم کو یقینی بنایا جانا چاہیئے۔  اس اَمر کو سمجھتے ہوئے کہ سادہ گریجویشن ایک ترقی پذیر مملکت کےلئےکسی کام کی نہیں ہمیں انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجنیئرنگ اور سائنس کی تعلیم کو فروغ دینا ہو گا اور ایک ملک ایک نظام کی طرح مُختلف طبقات کے تعلیمی فرق کو دور کر کہ یکساں نظام متعارف کروانا ہو گا۔ مزیدِ براں عمر گزر جانے والے طلباء کے لیئے شام کی کلاسز کا اجراء کرنا ہو گا تا کہ دن کو گھر چلانے والے شام کو علم سے مُستفید ہو سکیں۔سکالرشپ کے عمل کو شفاف بنانے اور خالصتاً طالبعلم کی قابلیت اور میرٹ پر تقسیم کیئے جانے کو یقینی بنا جانا چاہیئے، مزیدِ براں اس ضمن میں قانون سازی کر کے سکالرشپ حاصل کرنے والے طلباء کو پانبد کیا جائے کہ وہ سکالرشپ کی معیاد ختم ہونے پر وطن واپس آکر ایک خاص مدّت کے لیئے نوکری کریں گے یا سکالرشپ کے مساوی رقم واپس کرنے کے مجاز ہوں گے صرف اسی طریقے کو اپنا کر ہم اپنا بہترین دماغ بیرونِ ملک جانے سے روک سکتے ہیں۔صرف ایک صحت مندعوام  ہی قوم کی ترقی کے لیئے راستہ ہموار کر سکتی ہے۔ سرکاری ہسپتال میں ضرورت مند مریض کے چیک اَپ سے لے کرادویات تک سب مُفت ہونا چاہیئے۔  تمام اسپتالوں  اور میڈ یکل سینٹرز پر لاَئف سیونگ ڈرگز کی دستیبابی کویقینی بنانا ہو گا۔ ایمرجنسی کیسز کی صورت میں ڈاکٹرز پہلے مریض کی جان بچائیں نہ کہ آیف آئی آر کا انتظار کریں اور ڈاکٹروں کو ہڑتال سے ہاتھ اٹھانا ہوگا۰ہماری قوم کو درپیش مسائل میں ایک عام مسئلہ ایک محفوظ روزگار ہے، میں محسوس کرتا ہوں کہ اس ضرورت کو پُورا کرنے کے لیئے لوکل انتظامیہ تمام گریجویٹس کو چھوٹے کاروبار یا ملازمت اور عملی زندگی کے لیئے تربیت دے اور یہ کام رضا کارانہ طور پرہنر سکھاتے ہوئے کیا جائے۰، تعلیم و تدریس سے پولیس اسٹیشنز اور کارپوریشنز تک چھ سے بارہ ماہ کی مدّت کے لیئے رضاکارانہ طور پر کام کرنے کے مواقع فراہم کیئے جانے چاہیئں۔  بھرتیوں کا عمل سیاست سے پاک اور بے داغ ہونا چاہیئے۔ اس سلسلے میں پبلک سروس کمیشن میں ایک میکنزم تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ اسلامی معاشرہ آزاد پریس، قومی ورثہ اور حقوق کے ساتھ ساتھ ذمہ داری کے احساس کے بنیادی اقدار پر مُشتمل ہے ۔ اپنی زبان کی ترویج بھی ایک اہم قومی مسلہ ہے ۔ ایمان، اتحاد اور تنظیم ایک شعار کےطور پر قوم کو دیا گیا ہے۔عوام کی مشکلات کو آسان کرنے کے لیئے کئی اقدامات کیئے جا سکتے ہیں، مثال کے طور پروَن ڈش کلچرحکومتی اداروں میں سادگی،وزیروں کے لیئے چھوٹی گاڑیاں،وزراء اور سرکاری افسران کے لیئے چھوٹے گھر،ایک جیسی تنخواہیں،عوامی جیب سے کھانوں جیسے قومی اخراجات پر پابندی،صرف ریاستوں کے سربراہان کے عشائیوں کا رواج،دولت کی نمائش پر پابندی،زکوٰۃ کی حقیقی ادائیگی۔ ہم نے سادگی کے بارے میں کہا سنا بہت کچھ لیکن گلاس توڑا بارہ آنے والا نتیجہ ہی نکلتا ہے جب بھی قوم نے امتحان لیا۔ 

فوج

فوج کو کسی بھی طرح سیاست پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیئے اور اپنے سروس ضوابط ، آئین اور قانون کی پابندی کرنی چاہیئےملک میں چار غیر آئینی اقدامات اس بات کے غمازی ہیں کہ کہیں نہ کہیں سمت کے طے کرنے میں کمی رہ گئی ہے۔  ان پر عمل کر کے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سیاست میں مداخلت کو روکا جا سکتا ہے۔ دفاعی بجٹ دفاعی ضروریات کے مُتناسب ہونا چاہیئے اور پارلیمان، عوام اور پبلک اکاوَنٹ کمیٹی کو اس کا پورا حساب رکھنا چاہیئے۔ چیف آف آرمی سٹاف وزیرِدفاع اور دفاعی کمیٹی کے سامنے جوابدہ ہیں لیکن حقیقت میں ایسا ہو یہ بھی ضروری ہوگا اگر ایسا ہو رہا ہو ہوتا تو اسلام آباد کی حدود میں آئے چند لوگوں کے ہجوم کو گھر بھیجنے کے لئے معاہدے نہ کرنے پڑتے۰تمام متعلقہ اور اہم ترقیاں وزارتِ دفاع کی مُشاورت سے ہونی چاہیئں۔ چیف ایگزیکٹیو کے پاس جنگ اور امن کے دنوں میں آرمی کو عوامی اہمیت کے سویلین معاملات میں ملوث کرنے کے اختیارات ہونے چاہیئں۔انتظامیہ عدلیہ اور مقننہ ایک صاف اور شفاف نظام کے تحت آئین کے تابع ہوں اور پارلیمان کی جواب دہی پر کسی بھی طرح کا سمجھوتہ نہ ہو۰ 

میں سپہ سالار کے ترجمان کی اس قانونی بات سے متفق ہوں کہ فوج کا سیاست سے کیا لینا دینا۔ میں فوج کی طاقت اسکے ادارہ جاتی استحکام اور اسکی ادارہ جاتی عملیت فعالیت اور بہتر کارکردگی کا حامی ہوں ۔ باقی دنیا کے ممالک کی طرح دہشت گردی اور بھارتی پیش قدمی کے تنا زعات اور خطرے کا تناظر میں ادارہ جاتی  استحکام کیساتھ ساتھ پارلیمانی نظر ثانی کا حامی بھی ہوں۔ ساتھ ساتھ میں یہ سمجھتا ہوں کہ تیس سال کے انکے حکومتی تجربے کی وجہ سے انہیں اقتدار سے بجنبش قلم بے دخل کرنا اور بیدخل رکھنا مسلے کا حل نہیں ہے۔ انہیں اس بات پر منانا ہوگا کہ ریاستی عملداری کے لئے قانون کی پابندی تمام اداروں پر لازماً لاگو کرنا ہوگی۔ اگر ادارے اس سے انحراف کریں گے تو علاقے کا انسپکٹر کبھی قانون کے تابع رہنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ نظم و ضبط ہمیشہ اوپر سے آتا ہے اور نیچے کی طرف جاتا ہے۔ یہ کہتے ہوئے مجھے اس بات میں کوئی عار نہیں کہ ایوان بالا میں اعلیٰ عدلیہ کے ریٹائر چیف جسٹسز اور صوبائی چیفس اور اسی طرح بری بحری اور فضائی چیف اور آئینی اداروں کے سربراہان جیسا کہ اٹارنی جنرل ، آدیٹر جنرل ، پولیس ، سول سروس ، اور محکمہ احتساب کے ریٹائیرڈ سربراہان کو مخصوص نشستوں پر سینٹ میں لایا جاسکتا ہے ۔ یہ دس سیٹیں ان لوگوں کو بعد از ریٹائرمنٹ اپنے ادارے کی پارلیمان میں نمائیندگی کا موقع دیے سکتی ہیں اور ایسی تمام قانون سازی پر آزادانہ اور قابل فہم رائے کا موقع بھی دے سکتی ہیں  تاکہ ان اداروں کی ایوان اقتدار میں شنوائی ہوسکے اور باہمی عدم اعتماد کے فقدان کا خاتمہ ہوسکے ۔ ایسے نیوکلیائی اقدامات سے پارلیمان کو مزید طاقتور فعال اور کار گر بنایا جاسکتا ہے۔ یہ کلیہ برطانیہ میں کارگر ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں۔ اسی طرح تارکین وطن کو بھی مخصوص نشستیں دی جاسکتی ہیں تاکہ خواتین ، علماء اور مشائخ اور اقلیتوں کی طرح اہل وطن کو بھی یونین کے اصول پر نمائیندگی دی جاسکے۔ ایک اور بات خدارا اپنے آرمی چیف کو ملک میں رکھیے۔ مجھے تو شرم ہی آگئی جب کسی نے مجھ سے آفس میں یہ سوال پوچھا کہ آپکے ملک کے پچھلے بیس سال میں رہنے والے چیف اب کہاں ہیں۔ یہ چیفس پنشن کے بعد ملک میں رہنا ملکی سلامتی کے لئے ضروری کیوں نہیں سمجھتے۔ انکو ملک سے اتنی ہی محبت ریٹایرمنٹ کے بعد بھی ہونی چاہیے جتنی محبت دوران سروس یا ایکسٹینشن کرتے ہیں - اگر دیکھ بھال میں کوئی کمی بیشی یا کمزوری رہ گئی ہے تو وہ دور ہوسکتی ہے۔ بقول امجد اسلام امجد  ؀بات گو زرا سی ہے مگر بات عمر بھر کی ہے۔ ریاست اور جی ایچ کیو کو پارلیمان کے زریعے اس پر قانون سازی کرنا چاہیے ۔یہ ملکی سلامتی کے لئے از حد ضروری ہے۔

عدلیہ 

‏انصاف اگر قسطوں کی بجائے یک مشت ہو تو کوئی مضائقہ نہیں تاکہ انصاف ہوتا نظر بھی آئے۔ ‫اللہ کرے اہل اقتدار ایک دن صاف شفاف اور سستے انصاف کی فراہمی کیطرف توجہ دیں اور پاکستان کی پارلیمان اور اعلیٰ عدالت بھی ایسی پالیسیاں وضع کرے اور پالیسی ساز جسٹس اور لاء کمیشن کے زریعے ایسے اقدامات کی نشاندہی کرے جس کے نتیجے میں پارلیمان مکمل صاف اور شفاف انصاف کے لئے معنی خیز پر مغز اور بامقصد قانونی اصلاحات لا سکیں (آمین )۔ پاکستان میں جتنی قانونی اصلاحات کی ضرورت اب ہے پہلے کبھی نہ تھی آبادی کا بڑھاؤ اور بدلتی دنیا میں اصلاحات کے بغیر انصاف کرنے کے زرائع پر اعتماد مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ میں سمجھتا ہوں پی سی او ایک بیماری کا نام ہے جو ضمیر کو گھن کی طرح کھا جاتی ہے۔ انسان خطا کا پتلا ہے۔ پی سی او جج انفرادی ڈکٹیٹر کا حلف اٹھاتے ہیں اور اپنے حلف سے روگردانی کرتے ہیں اور کوئی ترمیم اور فیصلہ انہیں انکی اس ذاتی کمزوری سے استثناء اور معافی نہیں دلا سکتا کیونکہ غریب معاشرہ اعلیٰ ترین دماغوں سے ایسے کمزور فیصلوں کی توقع نہیں رکھتا جن پر انکے مستقبل کا دارومدار ہو۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے؀ خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر ۔پاکستان میں اس وقت نچلی سطح پر انصاف  کی فراہمی کا نظام بےحد تضادات کا شکار ہے۰ موجودہ صورتحال انصاف میں تاخیر ، کرپشن ، جانبداری، غیر پیشہ روانہ رویوں اور انصاف کی راہ میں رکاوٹوں کی وجہ سے سول اور کرمنل دونوں شعبوں میں اصلاحات کی متقاضی ہے۰ ملزمان کی مجرمان میں عدالتی ٹرائیل کے زریعے تبدیلی کی شرح انتہائی کم ہے جسکی وجہ غیر معیاری تفتیش اور پراسیکیوشن کا علیحدہ نہ ہونا ہے اور ججز کی کمی کے ساتھ ساتھ جج کے معیارات میں کمی اور جاری تربیت اور نچلی سطح پر عدالتی نظام کو زمانہ جدید کے خطوط پر آراستہ نہ کرنا ہے۰ سول نظام تو بیٹھتا محسوس ہوتا ہے کیونکہ مقدمات سول جج کی عدالت میں سالوں چلتے ہیں ۰ ہم نے انہیں کسی وقت کا پابند نہیں کیا ' اصلاحات کے لئے پارلیمنٹ میں اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی اشد ضرورت ہے۔ امید ہے سٹیک ہولڈرز پارلیمان کے ذریعے آنے والے وقتوں میں عدالتی اخلاقیات کے قانونی معیار میں نیوکلیائی تبدیلی لیکر آئیں گے اور ججز کے کسی بھی پی سی او پر حلف کو قصہ پارینہ بنا دیں گے۔

الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن خودبخود درست ہوجائیگا جب سمت درست ہوگی۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر سسٹم آر ٹی ایس کا نظام ٹھیک نہیں رکھ سکتا۔الیکشن کمیشن کا ایک رول ہے لیکن وہ کردار آئین کے اندر رہ کے ہے باہر نہیں ۔ یہاں بات ریاست کے اندر ریاست کو ریاستی دائرہ کار میں لانے کی ہے پھر چاہے وہ پولیس ہو علاقہ ہو یا قانون نافذ کرنے والے ادارے۔ قانون پھر سب پر یکساں لاگو ہوگا۔

سمت 

سب سے اہم سوال قومی سمت کا تعین ہے۔ اگر دیر یا بدیر ہم یہ طے کرلیں کہ بحیثیت قوم ہم نے کرنا کیا ہے کدھر جانا ہے کیسے جانا ہے تو آسانی ہوگی۔

قومی مستقبل

پاکستان ایک اسلامی ملک ہے۔ اسلام میں انصاف خودی ذاتی تشخص اور عزت نفس اور اسکے احترام پر بہت زور دیا گیا ہے۔ حکمرانوں کو عوام کے اصل خادم ہونے کا تصور اسلام کے اس آفاقی نظریے سے ہی ملتا ہے۔ ایسے حکومتی اور عدالتی فیصلے جو بنیادی قانون اور اسلام کے اس نقطہ نظر سے متصادم ہوں آئین قانون اور عوامی نگاہ میں بھی جگہ نہیں پاتے۔ اعلی عدلیہ کے فیصلہ جات جو بنیادی قوانین کے متضاد ہوں , وہ فیصلہ جات قابل عمل نہیں ہوتے.-ججوں کو نہیں فیصلوں کو دیکھیں اور دنیا میں جج فیصلے سائل کی شکلیں نہیں قانون قائدہ دیکھ کر کرتے ہیں -وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں بھی ججز کالی پٹی باندھ لیں تاکہ انصاف نہ صرف ہو بلکہ ہوتا نظر بھی آئے۔چار سو ادارے ختم کرنے کا مقصد ہی اختیار کی تقسیم کو مرکزیت کی طرف لیکر جانا ہے اور اٹھارویں ترمیم کو ناقابل عمل بنانا تھا تاکہ بیوروکریسی کےذریعے کام چلایا جاسکے۔ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ہی جمہوریت کی اصل روح ہے۔جو باتیں کل چھپ کر کہی جارہی تھیں اب زبان زد عام ہیں حالانکہ میڈیا سارے کا سارا گیگنگ آرڈر بھگت رہاہے اورسوشل میڈیا حکومت کی واٹ لگارہاہے۔نوبت اس حد تک نہیں آنےدیناچاہیے تھی۔ اختلاف اپنی جگہ لیکن اشتعال اتنا نہیں آنے دینا چاہیے کہ گھمسان کا رن پڑ جائے اور راستہ دھندلا جائے۔اب تو وہ بھی حکومت کو آرام سےریٹائیرڈ ہرٹ کرکے گھر بھیجنے کا سوچ رہے ہیں جو کبھی کسی کو اپنے گھر نہ جانے دیتے تھے۔ اللہ بڑا رحیم اور کریم ہے اور آخری چال اور فیصلہ اسی کا ہوتا ہے کیونکہ وہ قادر مطلق ہے۔ ساٹھ ملین پر سوئٹزرلینڈ خط نہ لکھنے پر دو وزیراعظم اپنی وزارت عظمیٰ سےگئے یہاں تو ساٹھ ارب کے معاملات نکل پڑے ہیں اب تو جائدادکے ساتھ منی ٹریل اورحکومتوں سے تعلق اور وراثت سب پانی پانی کرنا ہوگا ڈان ناول کے دلدادہ مشہور زمانہ جیورسٹ کو اب انصاف تو  ایسے کرنا ہوگاکہ ہوتا نظر بھی آئے  ۔ لیکن سیاسی لڑائی پارلیمان میں ہی ہونی چاہیے  اور یہی اسکا زہر ہے اور یہی تریاق۔ ‏رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص  کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرے، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک بڑی مصیبت کو دور فرمائے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کے عیب چھپائے گا اب دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ اللہ پاک ہدایت دیں۔  آخر میں اتنا ہی کہ ؀عدل کریں تے تھر تھرکنبن اچیاں شاناں والے تے فضل کریں تے بخشے جاون میرے جئے منہ کالے ۔ اور لب کباب یہی نکلتا ہے کہ “جہاں عدل نہیں وہاں کچھ بھی نہیں “۔

بیرسٹر امجد ملک چئیرمین ایسوسی ایشن آف پاکستانی لائیرز برطانیہ ہیں اور سپریم کورٹ بار اور ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان کے تاحیات ممبر ہیں

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ


loading...