کیا نمرتا کماری کی جنسی زیادتی کے بعد قتل کی پوسٹ مارٹم رپورٹ غلط تھی؟ رپورٹ بنانے والی خاتون ڈاکٹر کا مشکوک کردار سامنے آگیا

کیا نمرتا کماری کی جنسی زیادتی کے بعد قتل کی پوسٹ مارٹم رپورٹ غلط تھی؟ رپورٹ ...
کیا نمرتا کماری کی جنسی زیادتی کے بعد قتل کی پوسٹ مارٹم رپورٹ غلط تھی؟ رپورٹ بنانے والی خاتون ڈاکٹر کا مشکوک کردار سامنے آگیا

  



لاڑکانہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) آصفہ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کی طالبہ نمرتا کماری قتل کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، ہفتے کو کیس کی سماعت کے دوران پوسٹ مارٹم رپورٹ کے حوالے سے سوالات اٹھ گئے ہیں۔

نمرتا ہلاکت کیس کی سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اقبال حسین میتلو نے کی۔ دوران سماعت نمرتا کا پوسٹ مارٹم کرنے والی ڈاکٹر امرتا، وائس چانسلر پروفیسر انیلا عطاءالرحمان اور رجسٹرار ڈاکٹر شاہدہ مگسی عدالت میں پیش ہوئیں۔

نجی ٹی وی کے مطابق دوران سماعت عدالت نے پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کرنے پر ڈاکٹر امرتا کی سرزنش کی۔ انہیں مبہم اور آئینی دائرہ کار سے باہر رپورٹ جاری کرنے پر باقاعدہ طور پر شامل تفتیش کیے جانے کا بھی امکان ہے۔

دوران سماعت سیشن جج نے ڈاکٹر امرتا سے استفسار کیا کہ پروویژنل پوسٹ مارٹم اور حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں واضح فرق کیوں ہے؟ آپ سے پولیس نے موت کی وجہ پوچھی تھی، آپ نے رپورٹ میں گلہ دبانے اور جنسی عمل کی تصدیق کن اختیارات کی بنیاد پر کی؟ عدالت کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا ڈاکٹر امرتا تسلی بخش جواب نہ دے سکیں اور کہا کہ وہ پورسٹ مارٹم نہیں کرنا چاہتی تھیں۔

مزید : علاقائی /سندھ /لاڑکانہ


loading...