اقتصادی استحکام کی خاطر کمزور طبقہ پر بوجھ نہ بڑھایا جائے:حاجی محمد حنیف

اقتصادی استحکام کی خاطر کمزور طبقہ پر بوجھ نہ بڑھایا جائے:حاجی محمد حنیف

  



لاہور(کامرس ڈیسک)حکومت آمدنی بڑھانے اور اخراجات گھٹانے کے لئے مختلف اقدامات کا فیصلہ کرتے ہوئے کمزور طبقات کی مشکلات کو مد نظررکھے۔ قومی بچت کی ا سکیموں کے منافع میں کمی سے ان پر دارومدار رکھنے والی بیواؤں اور پینشنر ز کی مشکلات میں اضافہ ہو گا جو پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہیں اس لئے اقتصادی استحکام کی خاطر ان پر بوجھ نہ بڑھایا جائے۔ صد ر شاہ عالم مارکیٹس بورڈحاجی محمد حنیف نے شاہ عالم مارکیٹوں کے وفود سے گفتگو میں کہا کہ ملک میں ایسے لوگ قابل ذکر تعداد میں موجود ہیں جن کے پاس زندگی گزارنے کے لئے بچت سرٹیفیکیٹ کے علاوہ سرمایہ کاری کا کوئی محفوظ آپشن موجود نہیں ہے اس لئے انکی مجبوریوں کا ادراک ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ بچت ا سکیموں پر منافع میں کمی سے سرمائے کا کچھ حصہ ا سٹاک ایکسچینج کی طرف جائے گا جس میں سرمایہ کاری غیر محفوظ اور مسائل جنم لینگے۔انھوں نے کہا کہ حکومت پراخراجات کم کرنے اور آمدنی بڑھانے کے لئے بہت دباؤ ہے مگر ساتھ ہی یہ کسی بھی عالمی ادارے سے زیادہ اپنی عوام کو جوابدہ ہے۔انھوں نے کہا کہ جو لوگ اپنی ساری زندگی اس ملک اور اداروں کی ترقی کے لئے کوششیں کرنے میں گزار دیتے ہیں انکی پینشن کا نظام شفاف اور خون پسینے کی کمائی کو سرمایہ کاری کے بہانے لوٹنے کا سلسلہ بند ہونا چائیے۔ انھوں نے کہ پینشنروں کے لئے جمع ہونے والی رقم کوا سٹاک مارکیٹ میں انویسٹ کرنے پر پابندی عائد کرنا ضروری ہے تاکہ اربوں کھربوں کے اسکینڈلز کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے بند کیا جا سکے۔ پینشنروں کو پینشن کے حصول میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لئے اس سارے نظام کو خود کار بنانے کی ضرورت ہے تاکہ بزرگ شہریوں کے مسائل کم کئے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز اور صوبوں نے امسال ترقیاتی منصوبوں پر 1.6 کھرب روپے خرچ کرنے ہیں مگر ابھی تک صرف140 ارب روپے خرچ کئے جا سکے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ ترقیاتی بجٹ یا تو خرچ نہیں کیا جا سکے گا یا پھر فنڈز کو کسی دوسرے مقصد کے لئے استعمال کیا جائے گاجس سے حکومت کی مشکلات کم مگر عوام اورمعیشت کے مسائل بڑھ جائیں گے۔

مزید : کامرس


loading...