کہیں دیپ جلے کہیں دل

کہیں دیپ جلے کہیں دل
کہیں دیپ جلے کہیں دل

  



نارووال(نمائندہ خصوصی،نامہ نگار، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وزیر اعظم عمران  خان نے کہا  ہے کہ اگر بھارت اگر مسئلہ کشمیر حل کرکے کشمیریوں کے حقوق لوٹا دے تو برصغیر پرامن اور ترقی پذیر خطہ بن سکتا ہے میں نے جب وزارت عظمی  کا عہدہ سنبھالا تھا کہ مودی کو پیغام دیا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی خواہش کے مطابق حل کر دیں تو برصغیر  پر امن اور ترقی یافتہ خطہ بن سکتا ہے کشمیر میں 9لاکھ فوج سے80لاکھ کشمیریوں پر مظالم کروائے جارہے ہیں  جو کہ انسانیت کی تذلیل ہے اگر مودی میری بات سن رہے ہیں تو پھر کہتا ہوں کہ انصاف سے امن قائم ہوگا کشمیریوں کو اگر انصاف مل گیا تو برصغیر آزاد ہو جائے گا اور پھر دیکھیں یہ خطہ کس طرح ترقی کر تا ہے وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ منمون سنگھ جب وزیر اعظم تھے تو انہوں نے مجھے کہا کہ اگر مسئلہ کشمیر حل ہو جائے تو برصغیر کی قسمت بدل سکتی ہے لیکن مجھے افسوس ہے کہ ہمارے امن کے پیغام کا جواب کشمیر میں کرفیو لگا کر دیا گیا۔ہمارے نبی پاک ﷺ کا فرمان ہے کہ ایک قتل پوری انسانیت کا قتل ہے تو باباجی گرونانک دیوجی مہاراج کا پیغام بھی امن اور بھائی چارے کا ہی تھا جس پر دینا کے تمام مذاہب یقین رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ  پوری دنیا سے آئے ہوئے سکھ یاتری دیکھ لیں کہ آپکامدینہ تیار ہوچکا ہے اوربابا گرو نانک دیوجی کے550ویں جنم دن کے موقع پر پوری سکھ کمیونٹی کو مبارکباد دیتا ہوں عمران خان نے کہا کہ حضور نبی کریم ﷺ، تمام انبیاء اور صوفیا کرام پوری دنیا کے  لئے صرف دو پیغام لیکر آئے جو ایک امن اور دوسرا انصاف ہے،جس معاشرہ میں انصاف نہیں ہوگا وہ معاشرہ جانوروں سے بھی بدتر ہے وزیر اعظم نے کہا کہ کوئی سوچ سکتا تھا کہ ساوتھ افریقہ میں خون کی ہولی کو کوئی روک سکتا ہے لیکن نیلسن منڈیلا نے 27سال جیل کاٹنے  کے بعد باہر آکر سب ظالموں کو معاف کر دیا اور اس خطے میں انسانیت کو جوڑ دیا جو رہتی دنیا تک نیلسن منڈیلہ کو دعائیں دیں گے انہوں نے کہا کہ لیڈر وہ ہوتا جو انسانوں کو اکھٹا کرے وہ نہیں جو نفرتیں پھیلا کر ووٹ حاصل کرے، وزیر اعظم نینوجوت سنگھ سندھوکی شاعری اور جذبات سے بھری تقریر کا  حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سندھو نے دل سے تقریر کی اور دلوں میں خدا بستا ہے اور آج خدا نے ان کی دلی خواہش پوری کر دی سندھو نے جب مجھے کہا کہ باڈر کھول دیں تو مجھے اُس وقت یہاں آکر کرتار پور کی اہمیت کا انداز ہوا کہ مسلمانوں کو چار کلومیٹر دور کھڑا کرکے مکہ مدینہ نہ جانے دیا تو مسلمانوں کے دلوں پر کیا بیتے گی اس لئے راہداری منصوبہ کے ذریعے سکھوں کے مدنیہ کرتار پور کو کھول دیا گیا اورمیں آج سکھوں کے چہروں پر خوشی دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں،وزیر اعظم نے  کہاراہدداری منصوبے پر کام کرنے والے FWOسمیت سارے شعبے شامل ہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے انتہائی قلیل مدت میں اتنا بڑا کمپلکس کھڑاکیا اور مجھے نہیں پتہ تھا کہ میری حکومت میں اتنا تیز کام کرنے والے موجود ہیں جسطرح ان سب نے مل کر دس ماہ کے قلیل عرصہ میں یہ سب کام کیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اس سے بھی تیز اور اچھا کام کر سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ربّ تمام انسانوں کا خدا ہے، ہمارے نبی ؐ سارے انسانوں کے لیے رحمت بن کر ائے، اللہ کے پیغمبرانسانیت کے لیے پیغام لیکرآئے،نیلسن منڈیلا کو ہمیشہ لوگ یاد رکھیں گے، انہوں نے انسانیت کے لیے بہت بڑا کام کیا۔اس سے قبل پاکستان نے تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے امن کی نئی راہیں کھول دیں۔۔کرتار پور زیرو پوائنٹس کے گیٹ سے سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے ساتھ سکھ یاتریوں کا وفد پہنچا جسے پاکستانی حکام نے خوش آمدید کہا، ،افتتاحی تقریب میں پاکستان کی خصوصی دعوت پر سابق بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ،وزیر اعلی بھارتی پنجاب امرت سنگھ، سیاسی رہنماء اور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سندھو،اداکار سنی دیول،سکھوں کے مذہبی رہنماء ہرپریت سنگھ،وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی،وزیر داخلہ برگیڈئیر اعجاز شاہ،وزیر مذہبی امور نورالحق قادری،معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان،گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور،وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار،سینٹر فیصل جاوید،عثمان ڈار اور ابرار الحق کے علاوہ دنیا بھر سے آئے ہوئے سکھ مردوخواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔افتتاحی تقریب سے قبل وزیر اعظم عمران خان نے راہدری کمپلکس کا تفصیلی دورہ کیا جہاں پر میوزیم لائبیری،بارہ دری،مہمان خانہ اور لنگر خانے کا معائنہ کیا اور راہدداری منصوبے کے کام پر اطمینان کا اظہار کیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج ہم نے راہداری منصوبے کو کھول کر ایک دفعہ پھر امن اور بھائی چارے کا پیغام دیا ہے آج پھر ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے کہ خطے کے امن کو کس سے خطرہ ہے ہمیں غور کرنا چاہیے کہ برصغیر میں نفرت کے بیج کون بو رہا ہے وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر برلن کی دیوار گر سکتی ہے تو لائن آف کنٹرول کی دیوار کیوں نہیں گر سکتی؟ جس طرح سکھوں کیلئے راہداری کھولنے پرمودی نے عمران خان کا شکریہ ادا کیا ہے اسطرح مودی کو بھی کشمیریوں کو ان کی خواہشات کے مطابق حقوق دیکر عمران خان کو بھی شکریہ ادا کرنے کا موقع دینا چاہے کرتار پورسکھوں کیلئے کھل سکتا ہے اس طرح لائن آف کنٹرول اور دوسرے باڈر بھی کھل سکتے ہیں تاکہ خطے میں امن قائم ہوسکے،انہوں نے کہا کہ باباجی گرونانک کا پیغام محبت کا پیغام تھا انہوں نے عملی زندگی میں خدمت کو فوقیت دی آج کا دن تاریخی دن ہے اور محبت کی راہداری کا افتتاح ہو رہا ہے باباجی گرونانک کا پیغام دراصل صوفیا اولیا اللہ،داتاہجویری،بہاوالدین زکریا،لال شہباز قلندر کی طرح ایک ہی پیغام جو محبت کا تھا جسے لیکر آج ہم نے راہدداری پر کام کیا ہے،انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم منمون سنگھ آج سات کلومیٹر کامختصر فاصلہ طے کرکے یہاں آئے اور اگر یہی فاصلہ پہلے کم کر دیا ہوتا تو سکھوں کی یہ پریشانی بہت پہلے دور ہوچکی ہوتی،میں عمران خان کو مبارکبادپیش کرتا ہوں کہ ایک سال پہلے یہاں پر کچھ بھی نہیں تھا اور آج جنگل میں منگل بن چکا ہے جس کا مطلب ہے کہ تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ تبدیلی آچکی ہے۔وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے کہاکہ وہ بھارت سمیت دنیا بھر سے آئے سکھ یاتریوں کو خوش آمدید کہتے ہیں اوربالخصوص سردار نوجوت سنگھ سندھو کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک سال پہلے عمران خان کے کان میں جو بات کہی تھی وہ دس ماہ کے قلیل عرصہ میں پوری ہوگئی اور وزارت مذہبی امورپاکستان میں کرتار پور سمیت ملک بھر میں مذہبی عبادت گاہوں میں بہترین سہولیا ت فراہم کرنے کیلئے بھرپور کردار ادا کرے گی انہوں نے کہا کہ بابا جی گرونانک نے کرتار پور میں اپنی زندگی کے آخری ایام گذرے اس سے پہلے بابا جی چھ سال بغداد میں رہے جہاں آپ حضرت امام موسی کاظم اور شیخ عبد القادر کے مزارات پر حاضری دیا کرتے تھے آپ کی تعلیمات مساوات،امن اور انسانیت کیلئے تھیں ؎؎بھا رتی سیاست دان اور سابق کرکٹر سردار نوجوت سنگھ سندھو کرتار پور کی افتتاحی تقریب سے اپنی شاعرانہ اور مخصوص پنجابی انداز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے راہدداری کھول کر دنیا میں بسنے والے14کروڑ سکھوں کے دل جیت لئے ہیں عمران خان پروا ہ نہ کریں جس دلیری سے انہوں نے راہداری”لانگا“ کھولا ہے انہیں اندازہ نہیں ایک سکھ سوا لاکھ بندے پر بھاری ہے یہ سکھ قیامت تک عمران خان کے شکر گذرا رہیں گے عمران خان کو اندازہ نہیں کہ سکھ ا نکو کہاں سے کہاں تک لے جا سکتے ہیں کیونکہ سکھ ایک بہادر اور نڈر قوم ہے میری ایک”جھپی“ لانگا کھول سکتی تومودی سے امن اور بھائی چارے کو بحال کرنے کیلئے سو جپھیاں ں ڈال سکتا ہوں،سکندر اعظم نے اپنے خوف سے دینا کو فتح کیا لیکن عمران خان نے راہدادری کھول کو 14کروڑ سکھوں کے دل اپنی محبت سے جیت لئے ہیں ہماری چارنسلیں اس مقدس مقام دور سے دیکھ کر روتی رہی ہیں پاکستان نے اپنا نفع نقصان دیکھے بغیر راہدداری منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے اورعمران خان نے راہداری صرف خوف خدا کو مدنظر رکھتے ہوئے کھولی ہے جیسے دیکھ کر دنیا بھی حیران ہے مسلمانوں اور سکھوں نے تقسیم پاک و ہند پر جو زخم کھائے تھے آج راہدداری منصوبہ ان زخموں پر مرہم ہے جو پچھلے72سالوں میں کسی نے بھی محسوس نہیں کیا تھاآج کروڑوں ماؤں کے کلیجوں کی ٹھنڈک ہے۔سکھوں کے مذہبی رہنماء گیانی ہرپریت سنگھ نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں دنوں ممالک کی حکومتوں کو مبارک دیتا ہوں کہ اگر بھارت دروازہ نہ کھولتا تو ہم آگے نہ آ سکتے تھے اور اگر پاکستا دروازہ نہ کھولتا ہے تو کرتار نہیں داخل ہوسکتے تھے انہوں نے کہا کہ سکھ قوم شروع سے امن پسند اور ظلم کے خلاف ہے وہ ظلم چاہے کشمیر میں بسنے والے مسلمانوں پر ہو یا دینا میں کہیں بھی کسی فرد پر ہو۔آج ضرورت ہے کہ بابا جی گرو نانک کے فلسفہ کو دنیا میں عام کیا جائے پاکستان میں دس ہزار سکھ آباد ہیں جس طرح بھارت کے سکھوں کیلئے راہداری کھولی گئی اسی طرح ہمارا مطالبہ ہے کہ پاکستان میں بسنے والے سکھوں کیلئے ڈیرہ بابا نانک انڈیا تک راہ کھولا جائے۔

عمران خان

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) بھارتی سپریم کورٹ نے تعصب پر مبنی فیصلہ سناتے ہوئے تاریخی بابری مسجد کی زمین ہندوں کے حوالے کر دی جبکہ مسلمانوں کو مسجد تعمیر کرنے کے لیے متبادل کے طور پر علیحدہ زمین فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔ہفتہ کے روز بھارت عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس رانجن گنگوئی کی سربراہی میں 5رکنی بنچ نے بابری مسجد کی زمین سے متعلق محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا یااور مسجد کی زمین ہندوؤں کے حوالے کر دی،5رکنی بنچ میں مسلمان جج ایس عبدالنذیر بھی شامل تھے۔فیصلے کے ابتدائی حصے میں عدالت عظمیٰ نے بابری مسجد کے مقام پر نرموہی اکھاڑے اور شیعہ وقف بورڈ کا دعویٰ مسترد کردیا۔چیف جسٹس رانجن گنگوئی نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ بابری مسجد کیس کا فیصلہ متفقہ ہے،ہندو ایودھیا کو رام کی جنم بھومی جبکہ مسلمان اس جگہ کو بابری مسجد کہتے ہیں،تاریخی شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بابری مسجد کی تعمیر خالی زمین پر نہیں کی گئی تھی،مسلمان مسجد کے اندرونی مقام پر عبادت کرتے تھے جبکہ ہندو مسجد کے باہر کے مقام پر اپنی عبادت کرتے تھے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہندوؤں کی جانب سے یہ دعویٰ کہ دیوتا رام کا جنم بابری مسجد کے مقام پر ہوا تھا غیر متنازعہ ہے جبکہ مذکورہ زمین کی تقسیم قانونی بنیادوں پر ہونی چاہیے۔بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ عدالت کے لیے مناسب نہیں کہ وہ مذہب پر بات کرے، عبادت گاہوں کے مقام سے متعلق ایکٹ تمام مذہبی کمیونٹیز کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔فیصلے کے مطابق شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ مسجد کی جگہ پر رام کی جنم بھومی تھی اور بابری مسجد کے نیچے اسلامی تعمیرات نہیں تھیں، بابری مسجد کو خالی پلاٹ پر تعمیر نہیں کیاگیا۔دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق اتر پردیش میں تمام اسکول، کالج اور تعلیمی ادارے 11 نومبر تک بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور ایودھیا سمیت پورے بھارت میں سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔بابری مسجد فیصلے کے حوالے سے پورے بھارت میں سیکیورٹی کے انتظامات سخت کردیے گئے تا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جاسکے۔سڑکوں پر سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ اور حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے اضافی انتظامات کیے گئے ہیں۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں ایودھیا سمیت پورے اترپردیش کو سیکیورٹی کے حصار میں قید کردیا گیا ہے جس کے تحت تمام دھرم شالے بند کردیے گئے جبکہ غیر مقامی افراد کو شہر سے نکلنے کا حکم دیا گیا۔علاوہ ازیں کسی بھی ممنوعہ اجتماع سے بچنے کے لیے جموں کشمیر، اتر پردیش اور گووا میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی جبکہ متعدد ریاستوں میں تمام تر تعلیمی ادارے بند ہیں۔دوسری جانب فیصلے کے پیشِ نظر علی گڑھ میں رات کو ہی موبائل فون سروس معطل کردی گئی تھی جبکہ حکام کا کہنا تھا کہ حالات کے پیشِ نظر ایودھیا میں بھی انٹرنیٹ سروس معطل کی جاسکتی ہے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے ستمبر 2010 کے فیصلے کے خلاف دائر 14 اپیلوں پر سماعت کی،جس میں سنّی وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑہ اور رام لالہ کے درمیان ایودھیا میں 2.77 ایکڑ متنازع زمین کو برابر تقسیم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔دوسری طرف بابری مسجد کیس کے مسلمان فریق سنی وقف بورڈ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔وکیل ظفریاب جیلانی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے تسلیم کیا کہ نماز ہوئی پھر کیسے نظر انداز کر دیا، ہم عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں لیکن تحفظات برقرا ر ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ فیصلے سے کسی کی جیت ہوئی نہ ہی ہار لہذا احتجاج اور مظاہرے نہیں ہونے چاہیں۔مسلم فریق کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہمارے حق میں نہیں، 5ایکڑ زمین ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ ہماری شریعت کے مطابق ہم اپنی مسجد کسی کو نہیں دے سکتے۔ مسجد اللہ کی ہے اور اسے فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ا ن کا کہنا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے میں تضاد ہے۔ جن ثبوتوں کو ہندووں کے حق میں لیا گیا وہی مسلمانوں کے ثبوت مسترد کر دئیے گئے۔وکیل ظفریاب جیلانی نے کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے تسلیم کیا کہ نماز ہوئی پھر کیسے نظر انداز کر دیا، ہمارا موقف سمجھا نہیں گیا ہمیں متبادل زمین نہیں چاہیے۔خیال رہے کہ بھارت کی عدالت عظمیٰ نے بابری مسجد کی زمین پر مندر تعمیر کرنے اور مسلمانوں کو متبادل جگہ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔سپریم کورٹ نے حکم دیا مسلمانوں کو پانچ ایکٹر متبادل زمین دی جائے اور بابری مسجد کے صحن میں مندر تعمیر ہوگا۔دریں اثناصدر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اسدالدین اویسی نے بابری مسجد مقدمے سے متعلق فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں مسجد کیلئے 5ایکڑ زمین کی خیرات کی ضرورت نہیں ہے۔ایک بیان میں اسدالدین اویسی نے کہا کہ بھارت کا مسلمان اتنا گیا گزرا نہیں کہ وہ مسجد کی تعمیر کیلئے 5 ایکڑ زمین نہ خرید سکے، ہمیں کسی سے بھیک کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کو چاہیے کہ مسجد کیلئے پانچ ایکڑ کی زمین نہ لے کیونکہ وہ بھی بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہے۔صدر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے کہاکہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے سے حقائق پر عقیدے کی جیت ہوئی ہے جس سے ہمیں تکلیف پہنچی ہے اور ہم مطمئن نہیں ہیں۔ انصاف انصاف ہوتا ہے عدالتوں کے فیصلے بھائی چارگی کے لیے نہیں ہوتے۔اسدالدین اویسی نے کہا کہ بھارت کو ہندو ریاست بنانے کے عمل کا آغاز ایودھیا سے ہونے جارہا ہے۔صدر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے کہا کہ ہماری ساری لڑائی قانونی اور اپنے حق کے لیے تھی، پانچ ایکڑ زمین کیلئے نہیں۔انہوں نے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ لڑائی رکے گی نہیں، ڈر اس بات کا ہے کہ سنگھ پریوار مزید مساجد پر دعویٰ کرے گا، 6 دسمبر 1992 کو انہوں نے ہی پانچ سو سال پرانی مسجد کو شہید کیا تھا۔

بابری مسجد

مزید : صفحہ اول


loading...