بابری مسجد کیس کا فیصلہ،آر ایس ایس کا بدصورت چہرہ بے نقاب ہو گیا:سیاسی عسکری قیادت

بابری مسجد کیس کا فیصلہ،آر ایس ایس کا بدصورت چہرہ بے نقاب ہو گیا:سیاسی عسکری ...

  



اسلام آباد،راولپنڈی،لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں)پاکستان نے بابری مسجد کے حوالے سے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ فیصلے سے ایک بار پھر انصاف کا تقاضا پورا نہیں ہوا۔دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے سے بھارت کے نام نہاد سیکولرازم کا چہرہ بے نقاب ہوگیا اور فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں اقلیتیں محفوظ نہیں جب کہ اقلیتوں کو اپنے عقائد اور عبادت گاہوں پر تشویش لاحق ہو گئی ہے۔ ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بابری مسجد کے فیصلے اور15اگست 2019 کوجموں کشمیر کی کاغذی حیثیت کو غیر قانونی کارروائی کے بعددنیا نے ایک بار پھر انتہا پسند ہندوستان کا بدصورت چہرہ دیکھا ہے۔ دوسری طرف پاکستان نے آج دوسرے مذہب کا احترام کرتے ہوئے گرونانک کی 550ویں سالگرہ کے موقع پرکرتار پور کوریڈور کھول دیا ہے۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس دن کرتارپورراہداری کا افتتاح ہے عین اسی  دن یہ فیصلہ سنانے کی کیا وجہ ہے؟ اس سے پتا لگتا ہے کہ یہ بھارتی انتہا پسند سیاسی جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی)کی سازش ہے۔ہندوؤں کے حق میں فیصلہ آنے پر وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ پربے پناہ دباؤ ہے اور مودی کی سیاست نفرت کی سیاست ہے۔شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ بی جے پی نفرت کے بیج بورہی ہے، بھارت کے مسلمان پہلے ہی دباؤ میں تھے اور اب اس فیصلے کے بعد مزید دباؤ بڑھے گا۔وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا  ہے کہ مودی کے ہوتے ہوئے امن کی بات نہیں کی جاسکتی، بابری مسجد کیس کی جگہ مندر کی تعمیر کا حکم عقل کے اندھے ہی دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی مسلمان اب پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں، اس فیصلے کے بعد بھارت میں مسلمان خود کو غیر محفوظ سمجھیں گے، الہٰ آباد کی عدالت کے فیصلے کو بھارتی سپریم کورٹ نے روند دیا ہے۔معاون خصوصی اطلاعا ت و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ بھارتی عدالت بھی انتہا پسند آئیڈیالوجی کیساتھ کھڑے ہوگئی،بھارتی سپریم کورٹ آزاد نہیں،انتہا پسند انہ  سوچ نے بھارت میں اقلیتیوں سے سہارا چھین لیا۔وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا  ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کے تعصب پر مبنی فیصلے سے بھارت میں ہندوتوا کی جیت ہو گئی۔وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو شرمناک، غیر قانونی اور غیر اخلاقی قرار دیا۔ جمعیت علماسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری اور دیگر راہنماوں حاجی اکرم خان درانی.مولانا محمد امجد خان.حافظ حسین احمد.محمداسلم غوری.سید فضل آغا.حاجی شمس الرحمن شمسی اور عبدالرزاق عابد لاکھو نے  بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کو ہندوؤں کودینے کے فیصلے کو دنیابھر  کے مسلمانوں کے جذبات کیساتھ کھیلنے کے مترادف قرار دیا انہوں نے کہاکہ مودی کی معتصب پالیسی کے باعث ہندوستان میں مسلمانوں پر زمین تنگ ہو رہی ہے۔مولانا محمد امجد خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے  ھوئے کھا کہ بھارتی عدالت نے انصاف کا قتل کیا ھے انھوں نے سیکولر ازم کے دعوے داروں نے ثابت کردیا ھے کہ وہ مسلمانوں کو ان کا حق کبھی بھی نھی دے گا۔پیپلز پارٹی کے رہنماسینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ بابری مسجد کیخلاف انڈیا سپریم کورٹ کا فیصلہ قابل مذمت و مسلم امہ کیلئے تکلیف دہ ہے، بابری مسجد کیخلاف انڈیا سپریم کورٹ کا فیصلہ آر ایس ایس و بی جے پی کے منشور کا تسلسل ہے، بابری مسجد کیخلاف بابا گورونانک کے جنم دن کے موقع پر امن دشمن فیصلہ سکھوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنا تھا۔سنیٹرفیصل جاوید نے کہا ہے کہ دنیا آج دو ممالک میں تحریر کی جانے والی دو مختلف کہانیاں دیکھ رہی ہے، پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے فروغ کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے، دوسری طرف بھارت کا انتہاپسند چہرہ دنیا پر آشکار ہو رہا ہے۔سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر راجہ محمد ظفر الحق نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے بارے میں جو فیصلہ دیا ہے اس سے بڑا افسوس ہوا ہے اس سے بہتر تو ہائی کورٹ کا فیصلہ تھا۔قائد ایوان سینیٹ سید شبلی فراز نے کہاہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ ہندوستان نے باضابطہ طور پر خود کو ہندو ریاست قرار دے دیا ہے،شبلی فراز نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ہندوہستان میں اقلیتوں کی کوئی جگہ نہیں،"ریسٹ ان پیس" سیکولر ہندوہستان۔پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمن نے کہاہے کہ بھارت میں اقلیتوں کو ایک طرف لگایا جا رہا ہے،بھارتی مسلمانوں کے جذبات بری طرح مجروح ہوئے ہیں، بھارتی عدالت نے واضح طور پر ہندوؤں کو فیور دی ہے۔پیپلزپارٹی کے سینئر مرکزی رہنماء اورقانون دان اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ بابری مسجدکی زمین پانچ سوسال سے مسلمانوں کی تسلیم شدہ پراپرٹی ہے،پچھلے 100سال میں بھی بھارتی سپریم کورٹ نے ہفتے کوکوئی فیصلہ نہیں سنایا ہوگا، لیکن بھارتی سپریم کورٹ پر دھبہ ہے، کہ چھٹی کے روز ہفتے کو بابری مسجد پراپرٹی کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔سابق سیکریٹری خارجہ تسنیم اسلم نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کی شہریت کو ختم کیا جارہاہے، بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ غیر متوقع نہیں تھا۔پاکستان ہندو کونسل کے چیئرمین رمیش کمار نے کہا ہے کہ بابری مسجد کے حوالے سے بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ متنازعہ ہے، کسی کی مذہبی عبادت گاہ کی جگہ دوسرے کی بنانا درست عمل نہیں ہے، بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہندوؤں کو دہشت گردی میں ملا دیا جائے گا۔

سیاسی وعسکری قیادت 

مزید : صفحہ اول


loading...