یوم ولادتؐ……پورا سچ بولنے کا عہد کریں!

یوم ولادتؐ……پورا سچ بولنے کا عہد کریں!
یوم ولادتؐ……پورا سچ بولنے کا عہد کریں!

  



آج (اتوار+ 12 ربیع الاول) آنحضرت ختم الرسل محمد مصطفےٰ احمد مجتبیٰﷺ کا یوم ولادت ہے۔ آپؐ کی تشریف آوری پر پوری دنیا میں مسلمان خوشی منا رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی شہروں کے گلی، کوچے اور بازار روشنیوں سے جگمگا رہے ہیں، حضورؐ کی خدمت میں نذرانہ پیش کرنے کے لئے طعام و مشروبات کی تقسیم کا عمل بھی جاری ہے، ہر کس و ناکس نے اپنی اپنی بساط کے مطابق حصہ ڈالا ہے۔ پاکستان کے دل اور زندہ دلوں کے اس شہر لاہور میں بھی اسلامیان لاہور نے تشکر کا اظہار کیا ہے۔ پورے شہر میں سرکاری،غیر سرکاری عمارتوں، مساجد اور مزاروں پر چراغاں کیا گیا ہے تو گلیوں اور بازاروں کو سجانے کا اہتمام ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر کیا گیا ہے، ہم کسی بھی علاقے کو کم نہیں سمجھتے تاہم اندرون لاہور اور شمالی لاہور کے علاوہ اسلام پورہ (کرشن نگر) اور ٹاؤن شپ کے بازاروں کی رونق تو دیکھنے والی ہے۔ پرانے شہر کے بازاروں میں، اک موریا پل سے شادباغ تک کے تمام علاقوں میں انواع و اقسام کے کھانے تقسیم ہو رہے ہیں، اکثر حضرات نے باقاعدہ نشست کا اہتمام کر رکھا ہے جہاں لوگ سارا دن آکر سیر ہوتے رہیں گے۔ اندرون شہر اور شادباغ کے علاقے میں خصوصی طور پر لاہور کی سوغات پٹھورے اور چنے تازہ تازہ بنائے جا رہے ہیں۔

یہ تو ایک اجمالی سی بات ہے ورنہ میڈیا کو اپنا فرض ادا کرنا چاہیے (جو کماحقہ نہیں کیا گیا) اس سے شہری صورت حال کا اندازہ لگا سکیں گے۔مجھے تو عرض کرنا ہے کہ ہم بلاشبہ بھرپور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں اور سارا زور خیرات اور عبادت پر بھی لگاتے ہیں۔ تاہم تعلیمات رسالت مآبؐ سے بلاوجہ اغماض برتتے ہیں۔ میں کوئی واعظ یا عالم نہیں، ایک ناچیز گناہ گار بندہ ہوں اور اللہ سے عفو و درگزر کا طلبگار ہوں کہ اللہ اپنے حبیبؐ کے طفیل معاف فرما دے۔ عرض یہ کرنا ہے کہ حضرت محمدؐ دنیا میں تشریف لائے تو دعویٰ نبوت و رسالتؐ سے قبل ہی حضورؐ کی شہرت دیانت و امانت اور سچائی کے حوالے سے پورے مکہ و عرب میں پھیل چکی تھی حدیث مبارکہ ہے کہ ایک روز آپؐ نے مکہ کی پہاڑی پر کھڑے ہو کر اہل مکہ کو پکارا اور پوچھا اے اہل مکہ اگر میں کہوں کہ اس پہاڑے کے پیچھے سے دشمن حملہ کرنے کے لئے آ رہا ہے تو آپ مان لیں گے؟ سب نے مجموعی طور پر جواب دیا جی ہاں! آپ سچے ہیں، چنانچہ اس جواب کے بعد ہی رسول اکرمؐ نے اللہ کی وحدانیت کی تلقین کی، اس سے میری مراد یہ ہے کہ نبی اکرمؐ نے سب سے زیادہ زور سچ اور سچائی پر دیا، کیونکہ سچ ایک ایسی حقیقت ہے جو دنیا کے عیوب اور برائی سے بچا لیتا ہے۔ صد افسوس کہ آج کے مسلم معاشروں میں یہی حقیقت ناپید ہو چکی ہے اور میری دانست میں یہی بدیہی حقیقت ہے جس کے باعث ہم بحیثیت مسلمان بھی روبہ زوال ہیں، اگر ابھی سے اور آج ہی کے دن سے یہ عہد کر لیں کہ سچ والے راستے کو اپنانا ہمیشہ سچ بولنا اور سننا ہے تو تمام برائیاں از خود ختم ہوتی چلی جائیں گی اور معاشرے سے فساد بھی ختم ہو جائیں گے کہ جھوٹ نے برباد کرکے رکھ دیا ہوا ہے۔

بات تو یہیں تک رہنا چاہیے تاہم حالات حاضرہ میں ایک بات تو کرنا ہی ہے کہ سچ کا مسئلہ ہے۔ ہماری سیاست اور قومی زندگی کو بھی روگ لگا ہوا ہے اور سچ کو چھپایا جاتا ہے، ایسا ہی دھرنے، احتساب، حکمرانی، انتظامی امور اور پارلیمنٹ کی کارروائی میں بھی ہو رہا ہے، حالانکہ آئین اور قواعد واضح ہیں ان پر عمل سے اچھائی ہی ممکن ہے۔

آج کل سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کی علالت اور ان کے علاج کے حوالے سے بہت زیادہ کنفیوژن پیدا کیا گیا ہے، حالانکہ سچ کی بدولت ایسا نہ ہوتا، بہرحال اب یہ تو طے ہو گیا کہ محترم علاج کے لئے ملک سے باہر جانے پر رضامند ہو گئے اور سرکار نے بھی ہاں کر دی ہےّ اس سلسلے میں بھی بہت کچھ کہا جا رہا ہے۔ میں نے گزشتہ دنوں اپنے ایک کالم میں عرض کیا تھا کہ نوازشریف خود سے باہر جانے پر رضامند نہیں۔ چھوٹے بھائی محمد شہباز کی کوشش ہے اور اگر انتظامات ہو گئے تو نوازشریف بھی رضامند ہوجائیں گے کہ محمد شہباز شریف اور سابق وزیراعظم کے سر پر والد نہیں تو والدہ کا سایہ ہے شہبازشریف یہی راستہ اختیار کریں گے اور ایسا ہی ہوا ہے، اب روانگی کی تیاری ہے، نوازشریف کا علاج لندن کی، پارلے سٹریٹ والے کلینک میں ہو گا یہیں ان کا پیچیدہ بائی پاس آپریشن ہوا تھا اور اسی کلینک میں بیگم کلثوم نواز زیر علاج رہی تھیں، میں تو ان کی صحت کے لئے دعاگو ہوں باقی سب پس منظر میں چلا گیا۔ بہتر بھی یہی ہے کہ دعا کی جائے۔ سیاست نہ کی جائے۔ آخر میں پھر میں عرض کروں گا ”یوم ولادتؐ پر پورا سچ بولنے کا عہد کریں“۔

مزید : رائے /کالم


loading...