جی کا جانا ٹھہر گیا.....!

جی کا جانا ٹھہر گیا.....!
جی کا جانا ٹھہر گیا.....!

  



صرف پندرہ مہینے؟ جی ہاں! صرف پندرہ مہینوں میں ہی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اتنی نرم ہو چکی ہے کہ اگر یہ ختم ہو جاتی ہے تو کسی کو حیرانی نہیں ہو گی۔ حکومت تمام شعبوں میں ناکام ہو چکی ہے اور اس کے ساتھ ایک کرکٹ کھلاڑی کو وزیر اعظم بنانے کا تجربہ بھی۔ عمران خان کرکٹ کے ایک مقبول کھلاڑی تھے اور ان کی کپتانی میں پاکستان کرکٹ کا ورلڈ کپ بھی جیتا تھا۔ اگرچہ کرکٹ میں کپتان کا رول اہم ہوتا ہے،لیکن بہر حال یہ ایک ٹیم گیم ہے اور ٹیم جیتتی تبھی ہے، جب پوری ٹیم اچھا پرفارم کرے۔ عمران خان کی کپتانی میں ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم میں بھی وسیم اکرم، مشتاق احمد، انضمام الحق، معین خان، عاقب جاوید وغیرہ نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی تھی، جاوید میاں داد نے اس ورلڈ کپ کے تقریباً ہر میچ میں نصف سنچری بنائی تھی، رمیز راجہ نے دو اور عامر سہیل نے بھی سنچریاں بنائی تھیں، پوری ٹیم نے عمران خان کی قیادت میں اچھا پرفارم کرکے ورلڈ کپ جیتا تھا۔ کچھ قسمت نے بھی ساتھ دیا۔ انگلینڈ کے خلاف میچ میں پاکستانی ٹیم صرف 74 رنز پر آؤٹ ہو گئی تھی اور یہ میچ ہار کر پاکستان ورلڈ کپ سے باہر ہو جاتا، لیکن اچانک بارش آ گئی اور میچ بے نتیجہ رہنے کی وجہ سے پاکستان کو ایک قیمتی پوائنٹ مل گیا۔ خیر، کپتانی عمران خان کی تھی، پرفارمنس پوری ٹیم کی تھی اور مہربانی قدرت کی تھی کہ پاکستان سرخرو رہا۔ ورلڈ کپ جیتنے کے بعد عمران خان نے اپنی والدہ شوکت خانم کی یاد میں کینسر ہسپتال بنانے کا ارادہ کیا تو پوری قوم ان کے ساتھ ہوگئی اور اتنا چندہ اکٹھا ہوا کہ ہسپتال بن گیا۔ اس کے بعد عمران خان سیاست میں آگئے۔ پندرہ سال ان کی سیاسی جماعت مختصر اور محدود ہی رہی۔ ایک بار عمران خان صرف اپنی سیٹ جیت سکے۔ پھر 2011ء میں ان کی پارٹی کی سرپرستی کا فیصلہ کیا گیا، تاکہ ان کے کرکٹ سٹارڈم اور کرشمہ سازی کو سیاسی لیڈر میں تبدیل کیا جائے۔ یہی وہ ”تبدیلی“ ہے، جس کی وجہ سے آج عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم ہیں۔ انہیں حکومت سنبھالے پندرہ مہینے ہو چکے ہیں اور اب تمام حلقے اس نتیجہ پر پہنچتے جا رہے ہیں کہ ”تبدیلی“ کا یہ تجربہ ناکام ہو چکا ہے،کیونکہ کرکٹ کا کھلاڑی کرکٹ کا کھلاڑی ہی رہتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کیسے وجود میں آئی؟ یہ ایک الگ موضوع ہے جس کے بارے میں وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈئر اعجاز شاہ اعتراف بھی کر چکے ہیں کہ مقتدر حلقوں کو مسلم لیگ (ن) میں صرف تین چار لوگوں کے جارحانہ انداز سے پرابلم تھی،اسی وجہ سے میاں نواز شریف کو اقتدار سے ہٹایا گیا،ورنہ وہ چوتھی بار بھی وزیر اعظم بنتے۔ اس اعتراف سے ایک بات تو ثابت ہوتی ہے کہ 2018ء کے الیکشن میں عمران خان کی حکومت بنوائی گئی، ورنہ اگر انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوتے تو اس وقت بھی میاں نواز شریف ہی وزیر اعظم ہوتے۔یہ ایک ایسا اعتراف ہے کہ کسی اور ملک میں ہوتا تو قیامت آ جاتی، لیکن پاکستان میں پچھلے ساٹھ ستر سال سے چونکہ یہی سب کچھ ہوتا آیا ہے، اس لئے لوگوں نے بات سنی، اس پر یقین کیا اور اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک مرکزی لیڈر خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس میں خوب ہنگامہ برپا کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خود بھی بے خبر ہے،لیکن وہ جانتے ہیں کہ اس حکومت پر آسمان گرنے والا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا امپائر سپریم کورٹ ہے اور ساتھ ہی یہ سوال بھی کیا کہ کہاں گئی امپائر کی انگلی، خواجہ آصف نے صدرِ مملکت کی طرف سے الیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری میں آئین کی خلاف ورزی کی طرف توجہ بھی دلائی اور کہا کہ صدر عارف علوی کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت مقدمے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نہ صرف ملک کی معیشت سنبھالنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے، بلکہ انتظام و انصرام یا گڈگورننس میں بھی بہت بُری طرح ایکسپوژ ہوئی ہے۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتیں اپنے اپنے انتہائی ناکام وزرائے اعلیٰ عثمان بزدار اور محمود خان کی وجہ سے الگ بدنام ہو رہی ہیں۔ دونوں صوبوں میں عوام کا کوئی پرسان حال نہیں، لیکن سب سے بڑی ناکامی بہر حال وزیر اعظم عمران خان کی ہے اور ان کی قابلیت اور حکومت چلانے کی اہلیت پر اٹھنے والی انگلیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

ملک میں زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے،جن میں ڈاکٹر، وکلاء، اساتذہ، تاجر اور کاروباری افراد، کسان، مزدور غرض کہ ہر کوئی حکومت کے خلاف مظاہرے کر رہا ہے۔ اُدھر قانون سازی صرف ایک آرڈی ننس فیکٹری کے ذریعے ہو رہی ہے، جس میں درجنوں قوانین صرف صدارتی آرڈی ننسوں سے لاگو کئے جا رہے ہیں۔ قانون، آئین اور پارلیمانی روایات کو بری طرح مسخ کرکے بوٹوں تلے روندا جا رہا ہے۔ کوئی آرڈی ننس قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں میں نہیں بھیجا جاتا، بلکہ قومی اسمبلی میں انتہائی سادہ اکثریت سے اسے بلڈوز کرکے منظور کر لیا جاتا ہے۔ پاکستان کی پوری پارلیمانی تاریخ میں پارلیمان کا اس طرح مذاق نہیں اڑایا گیا۔ قومی اسمبلی اور ایوان صدر کو آرڈی ننس فیکٹری بنانے کے مکروہ فعل کے ذمہ دار صدر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان ہیں۔ ایسے کئی آرڈی ننس بھی صدر مملکت نے جاری کئے ہیں جو ایوان بالا، یعنی سینٹ نے مسترد کر دئیے تھے، جیسے پاکستان میڈیکل کمیشن اور اس طرح کے کئی اور…… اس انداز کی قانون سازی حکومت کے لمحہ فکریہ اور پوری قوم کے لئے شرم کا مقام ہے۔ صدرِ مملکت کے مواخذے کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے ممبران کی خلاف آئین تقرری انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے، جس میں سپریم کورٹ صدر عارف علوی کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کر سکتی ہے۔ دیکھیں یہ مسئلہ سپریم کورٹ میں کب جاتا ہے اور اگر وہاں فیصلہ صدرِ مملکت کے خلاف آ گیا تو ان کا مواخذہ یقینی ہے۔

قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کا معاملہ بھی پاکستان تحریک انصاف حکومت کے لئے بہت شرمناک ہے۔ دھاندلی سے الیکشن جیتنے کے بعد وہ ایک سٹے آرڈر پر قومی اسمبلی میں موجود ہیں اور ڈپٹی سپیکر کی کرسی کو داغدار کر رہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ پارلیمان کو جتنا بے وقار پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے کیا ہے، اس کی مثال پاکستان کی پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہ سب کچھ اس لئے ہو رہا ہے کہ کرکٹ کے ایک کھلاڑی سے زبردستی ملک چلوانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بہر حال خواجہ آصف کا یہ دعویٰ انتہائی معنی خیز ہے کہ نئے الیکشن جلد ہونے والے ہیں اور یہ اپوزیشن کی ڈیمانڈ پر ہوں گے۔ اس وقت عوام میں بھی ایک تاثر عام ہوتا جا رہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی ناکام حکومت کو جلد چلتا کر دیا جائے گا کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ ان کے پاس بھی نہیں ہے جو انہیں لے کر آئے ہیں۔

سردیاں شروع ہو رہی ہیں، لیکن اسلام آباد کا ٹمپریچر بڑھ رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ اسی جوش و جذبے سے اسلام آباد کے ایک مرکزی چوک میں دھرنا دئیے بیٹھا ہے اور دس دن گذر جانے کے بعد بھی اس کے ہزاروں شرکاء وہیں موجود ہیں، جو وزیر اعظم عمران خان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ابھی یہ کہنا کچھ قبل از وقت ہو گا کہ عمران خان حکومت اس دھرنے کے نتیجے میں گرے گی یا بعد میں، لیکن اب نوشتہ دیوار یہی نظر آرہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے نتیجے میں حکومت فوری طور پر گرے یا نہ گرے، لیکن اتنی نرم ضرور ہو چکی ہے کہ تیز ہوا کے زیادہ جھو کر پائے گی۔ فارن فنڈنگ کیس بھی (جس میں وزیر اعظم عمران خان، صدر عارف علوی اور سندھ و خیبر پختون خوا کے گورنر بھی شامل ہیں)، کب تک مزید لٹکایا جا سکے گا، پہلے ہی پانچ سال سے یہ کیس زیر التوا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے اعلیٰ عدالتوں میں اس کی سماعت کے خلاف پانچ درجن درخواستیں دیں، جو سب کی سب مسترد ہو چکی ہیں۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ مولانافضل الرحمان حکومت کو مسلسل نرم کئے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے اس کے پاؤں تلے زمین سرکتی جا رہی ہے۔ میاں نواز شریف کی صحت بدستور تشویش ناک ہے۔ ان کے لئے قوم دعاگو ہے کہ وہ کامیاب علاج کے بعد صحت مند ہو کر واپس لوٹیں۔ کیا عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میاں صاحب کی واپسی تک قائم رہتی ہے؟ یہ کہنا مشکل ہو گا۔ یہ الگ بات ہے کہ وزیر اعظم سمیت کابینہ کے اکثر وزیر اور پاکستان تحریک انصاف کے کئی لیڈر اپنی لمبی زبانوں سے اسے آخری آرام گاہ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ شائد اکثر وزیر جان بوجھ کر بھی حکومت کی ناکامیاں میڈیا میں اس لئے اجاگر کر رہے ہیں کہ اگر ان ہاؤس تبدیلی کا تجربہ کیا گیا تو ان کا چانس بن جائے…… ”کہ جی کا جانا ٹھہر گیا صبح گیا یا شام گیا“۔

مزید : رائے /کالم


loading...