آپ نے ترقی کیوں نہ کی؟

آپ نے ترقی کیوں نہ کی؟
آپ نے ترقی کیوں نہ کی؟

  



کتنا بے ضرر سا سوال ہے، لیکن جب انسان کو ہر ہفتے یہی بات دو تین مرتبہ سننی پڑے تو اندر ہی اندر ایک کھجلی سی ہونے لگتی ہے۔ طعنہ دینے والوں میں ذات برادری کی قید سے آزاد، پابندِ صوم و صلواۃ، کئی قبول صورت مرد و خواتین شامل ہیں۔ یہاں تک کہ اپنے خاندان کی وہ پنیری جسے ہر صبح ایک ہی پسندیدہ انگریزی روزنامے سے دن کا آغاز کرنے کا میرا عمل کبھی سمجھ میں نہیں آیا۔ ایک پینترہ ہم پیشہ صحافیوں کا بھی ہے جو اکثر پوچھتے ہیں ”آج کل کیا ہو رہا ہے؟“ مراد ہے بندے کا تازہ عہدہ۔ پھر گول مول جواب سن کر دلاسہ دینے کے انداز میں کہتے ہیں کہ چلو، آپ کے مکان کی مالیت تو اب کئی گنا ہو گئی ہو گی۔ ہونا تو یہ چاہئیے کہ آدمی تاؤ میں آکر گھر بیچ کے پیسے جیب میں ڈال لے اور رہنے کے لئے رِنگ روڈ کے پار تنبو قناتیں ٹھونک کر باہر بڑا سا بورڈ لگا دے کہ دیکھو لوگو، ہم نے بھی ترقی کی ہے۔

زمانے کے چلن کے حساب سے آجکل مالدار ہونا ہی ترقی کی علامت ہے۔ وگرنہ اکانومسٹ بھی مانتے ہیں کہ عام معنوں میں کسی کے معیارِ زندگی یا اسٹینڈرڈ آف لِونگ کا انحصار اُن اشیا و خدمات پہ ہے جو کسی کی دسترس میں ہوں، جبکہ معیار حیات یا اسٹینڈرڈ آف لائف ایک مختلف چیز ہے۔ اِس کا دارومدار اطمینان کی لہر پہ ہوا کرتا ہے جو آپ کے دل و جاں میں جاری و ساری ہو۔ ایک نصابی کتاب میں یہ بھی پڑھا تھا کہ ایک امیر و کبیر کار خانہ دار کے مقابلے میں اُس ’جوگی‘ کا معیارِ حیات کہیں اونچا ہوتا ہے جو کسی پہاڑ کی کھوہ میں بیٹھے بیٹھے مادی دنیا کی حقیقی یا خیالی نعمتوں کو ٹھکرا کر خوشی محمد ناظر کے اِن بولوں کی مالا جپ رہا ہو کہ ’ہم جو زنجیریں توڑ چکے تم لا کے وہی پہناتے ہو‘۔ کیا زندگی کی وکٹ پہ ہر کھلاڑی خود یہ طے نہیں کرتا کہ بیٹنگ کرِیز کس طرف ہے اور ’بولنگ‘ کِس اینڈ سے ہو رہی ہے؟

اگر آپ میرے ترقی نہ کرنے کے راز کو سمجھنا چاہیں تو اس کے لئے ایک شرط تو یہ ہے کہ آپ الگ الگ انسانی آنکھ کے لئے جدا جدا نمبر کی عینک کے قائل ہوں اور یہ بھی مانیں کہ نوعمری، ادھیڑ عمر اور بڑھاپے میں یہ انفرادی نمبر بھی وقفے وقفے سے تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ اب جس کسی کو یہ سوچ وار ا نہیں کھاتی تو میری بات سمجھنے کی خاطر اُسے کاغذ پہ چھپی ہوئی وہ تصویر کہیں سے پیدا کرنی پڑے گی جسے بچپن میں ہم ’بڈھا جوان‘ کہتے تھے۔ ایک انسانی چہرے کا خوب مہارت سے بنایا ہوا اسکیچ جسے جغرافیہ کے طالب علم کے طور پر شمال سے جنوب کی جانب دیکھیں تو لگے گا کہ پگڑی اور داڑھی والا بوڑھا آدمی ہے۔ اگر سمت الٹا دیں تو ایک نوجوان دکھائی دے گا جس کی داڑھی نہیں بلکہ سر پہ فیشن ایبل بال ہیں اور اُس کی پگڑی اور لڑ کالر اور ٹائی کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

یہ دلیل سن کر کہ نہیں صاحب، زندگی میں ترقی کا تصور بڈھے جوان کی طرح صرف زاویہ ء نگاہ کا کھیل نہیں، میں امتحانی پرچہ کو اور سادہ بنا سکتا تھا۔ جیسے پرانا زمانہ ہوتا تو کہہ دیتا کہ آپ مجھ سے کرایہ لے کر بذریعہ ٹرین لاہور سے سیالکوٹ تک کا چکر لگا آئیں مگر یہ سفر نارووال کی بجائے براستہ وزیر آباد ہو۔ نارووال کے راستے جانے میں خرابی تو کوئی نہیں مگر آپ گھڑی کی سوئیوں کے الٹ ہلکا ہلکا چکر لگاتے ہوئے منزل پہ پہنچیں گے اور آپ کو کچھ اندازہ نہیں ہوگا کہ آپ کے ساتھ ہوا کیا ہے۔ وزیر آباد والی کہانی اور تھی۔ لاہور سے پہلی بار سیالکوٹ جانے والا جب ماضی کے وزیر آباد جنکشن پہ پہنچتا تو گاڑی رکنے کے بعد بظاہر دوبارہ اسی رخ پہ چل پڑتی ہے جدھر سے آپ تشریف لائے تھے، یعنی لاہور کی طرف۔ مشرق میں سیالکوٹ کو مڑنے سے پہلے نئے مسافروں کے لئے یہ عجیب گھبراہٹ کا مرحلہ ہوا کرتا۔

اصل میں ٹرین کی پٹڑی ہو یا شہروں کو ملانے والی سڑکیں، کوے کی اڑان کے مطابق یا ناک کی سیدھ میں تو کوئی راستہ کہیں جاتا نہیں۔ ہمارے ایک آزاد منش دوست کو لندن پسند ہی اس لئے ہے کہ وہاں شاید ہی کوئی سڑک نوے درجہ کے زاویے پہ مڑتی ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ ’اے ٹو زیڈ لنڈن‘ کے نام سے کتابی شکل میں برطانوی دارالحکومت کے کے جو نقشے شائع ہوئے وہ باقی دنیا کے لئے مثال سمجھے گئے۔ اسی لئے شہر کے ایک سرے سے دوسرے تک جانے کے لئے با رہا ایسا ہوا کہ پہلے کتاب کے صفحہ نمبر چھ پر پنسل سے سڑکوں پہ نشانات لگائے، پھر صفحہ چوبیس، اکہتر، بہتر اور آخر میں ایک سو دو اور تین، کیونکہ روٹ یہی تھا حالانکہ یہ باغ وبہار شہر اول اول نقشہ کے بغیر ہی وجود میں آیا۔ اسی طرح بعض انسانی ماڈل بھی پیشگی نقشوں کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ گوگل میپ کی طرح میونسپل حدود کو آگے پیچھے کر کے اِن کا بڈھا جوان یک لخت متعین کر لیا جاتا ہے۔

اِس تھیوری کی عملی مثال اسلام آباد کے ایک ڈپلومیٹک مشن میں میری اولین ملازمت ہے۔ ایک ایسی ائر کنڈیشنڈ عمارت جو ہماری کامن ویلتھ کی رکنیت کے حساب سے کبھی سفارت خانہ اور کبھی ہائی کمیشن کہلائی۔ وہاں افسری ماتحتی کا کلچر نہ ہونے کے برابر اور ہر ہفتہ دو ہفتہ بعد حسب موسم ایمبسڈر صاحب کی گھریلو پارٹیوں میں مصطفی زیدی والا ’ہجوم مرد و زناں محو سیرت حیرت تھا‘۔ کام ویسے بھی دلچسپ تھا کہ برطانیہ جانے والوں کی انٹری کلئرنس کا انٹرویو، ساتھ ساتھ انگریزی اردو رواں ترجمہ اور کچھ تحریری ریکارڈ کی تیاری جس کے دوران ساتھیوں سے یہ اکھ مٹکا بھی ہوجاتا کہ ویزہ لینے والی نیو بیاہتا دلہن زیادہ دلآویز لگی یا میر پور، ڈڈیال یا چک سواری سے ہمراہ آنے والے ریٹائرڈ فوجی سسر۔ مگر اِس ’گلیمرس‘ جاب کا بڈھا جوان یہ ہے کہ پانچ اضافی انکریمنٹس کو چھوڑ کر بطور انٹر پریٹر میرا اور سفارتحانہ کے ہیڈ مالی کا پے اسکیل ایک ہی تھا۔

یہ تو ہوا پیشہ ورانہ زندگی کا پہلا تجربہ، لیکن چند ہی سال کے اندر ترقی کا شوق مجھے پنجاب کے کالجوں سے اٹھا کر تعلیم کی وزارت میں لے گیا، جہاں میں ایک پڑھے لکھے اور لطیف جمالیاتی ذوق کے حامل وفاقی وزیر کا ایکڈیمک ایڈوائزر رہا۔ خدا کے لئے یہ نہ سمجھئے کہ اگر اب تک قوم کے نصابی و تدریسی مسائل حل نہیں ہو ئے تو یہ میرے کسی مشورے کا نتیجہ ہے۔ منسٹری میں ہر روز سرزد ہونے والے نت نئے لطیفے میرے امکانی مشوروں سے زیادہ دلچسپ تھے۔ جیسے یہی کہ نام کی چمکدار تختی، سرخ سبز ہاٹ لائن فون، اسٹاف کاریں اور طرہ دار اردلی تو اپنی جگہ، مگر منسٹری میں میری سروسز ادھار تھیں اور بنیادی رینک تھا علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں اسسٹنت پروفیسر آف انگلش۔ چند ماہ گزرے تو ترقی کے شوق میں اسلام آباد سے لندن کی طرف پرواز کرتے ہوئے میرا منصب اور سکڑ گیا۔

لندن میں پر کشش تنخواہ، پسندیدہ تخلیقی سرگرمیوں اور خوشگوار حالات کار کے باوجود اردو پروگرام اسسٹنٹ کا عہدہ ذرا ’کمی‘ ٹائپ لگا۔ یہ اطمینان البتہ ضرور تھا کہ وقار احمد، رضا علی عابدی، آصف جیلانی، راشد اشرف اور سارہ نقوی اگر سننے والوں کے دلوں پہ حکمرانی کرتے ہیں تو کرتے رہیں، مگر ہیں تو وہ بھی ہماری طرح پروگرام اسسٹنٹ جن کی ترقی یا تنزلی دونوں کے راستے مسدود ہیں۔ بالکل یوں جس طرح ڈیرہ غازی خان میں متعین پنجاب پولیس کے ایک منہ پھٹ اہلکار نے اپنے افسروں کے نام یہ تاریخی جواب تحریر کیا تھا کہ میرا جو کرنا ہے کر لو ’سپاہی سے نیچے رینک نہ ہے، سخی سرور سے آگے پولیس چوکی نہ ہے‘۔ ہمارے ساتھ بڈھا جوان والی ترکیب خود ایڈمنسٹریشن نے آزمائی اور ایک چمکدار صبح کو ’سوء موٹو ایکشن‘ کے ذریعہ تمام پروگرام اسسٹنٹ گھر بیٹھے پروگرام پروڈیوسر کہلانے لگے۔

قیامِ لندن میں ایک مرحلہ وہ بھی آیا جب میں لوکل ریڈیو کے ایشین نیٹ ورک کا سینئر پروڈیوسر بنا دیا گیا، جہاں سے انگریزی اور پانچ ایشیائی زبانوں میں دلچسپ پروگرام نشر ہوتے۔ پر یہ پوسٹ چھ ماہ کے لئے تھی اور چونکہ اس پر فائز خاتون زچگی کی تعطیلات پہ تھیں، لہذا اس ترقی کا الزام بھی آپ میری منصوبہ سازی کو نہیں دے سکتے۔ پھر بھی عہدوں کے گھپلے کا ٹھوس فائدہ وطن واپسی پہ بطور بی بی سی رپورٹر ہوا، جب یاروں نے اڑا دی کہ یہ حضرت لاہور میں بی بی سی کے پہلے بیوریو چیف مقرر ہوئے ہیں۔ نامہ نگار اسلام آباد ظفر عباس نے، جو ملکی صحافیوں کے چال چلن سے خوب واقف تھے، برادرانہ مشورہ دیا کہ ’شاہ جی، تردید نہ کرنا۔ یہاں ایسے ہی چلتا ہے‘۔ لہذا شروع شروع میں بندہ ایک ایسے بیوریو کا چیف بنا رہا جس کا بیوریو بس اسی کی ذات پہ مشتمل تھا۔ تو کیا یہ ترقی نہیں؟

دس سال پہلے پاکستان اور بھارت میں ورلڈ سروس کی ڈیڑھ درجن اسامیاں ختم کی گئیں تو میں بھی متاثرین میں تھا، لیکن قربان جاؤں اپنی تجہیز و تکفین کے۔ زندگی میں پہلی بار میرے بینک اکاؤنٹ میں یکدم کئی ہزار پاؤنڈ منتقل ہوئے۔ مگر چونکہ اپنے ہاتھوں میں سوراخ ہیں، اس لئے دیکھتے ہی دیکھتے یہ پیسے بالآخر وہیں چلے گئے جہاں معمول کی تنخواہ چلی جاتی تھی۔ اچھے وقتوں کی یاد گار یہ بندو بست البتہ باقی رہ گیا کہ بابری مسجد پہ مخالفانہ عدالتی فیصلے کی صورت میں بی بی سی اردو، برطانوی ریڈیو کے انگریزی چینل اور پنجابی یا پوٹھواری پروگراموں والے مجھے براڈ کاسٹ جرنلزم کا رانا سانگا سمجھ کر کبھی کبھار اسٹوڈیو بلا لیتے ہیں۔ تب سوال ہوتا ہے کہ مہمان کا تعارف کیا کرائیں، مگر سینئر تجزیہ کار کی اصطلاح نے یہ مسئلہ بھی حل کردیا ہے۔ ہاں، گوروں سے تعلق کی بنا پر دو ایک دوستوں سے سننا پڑا کہ ٹھیک ہے جناب، جاسوس کبھی ریٹائر نہیں ہوتا۔

اِس جگت کے قانونی جواز کو چیلنج تو کر سکتا ہوں، لیکن خود اپنی ہی تھیوری کی رو سے میرے اندر کے بڈھے اور جوان کا حال اِن دنوں کیسا ہے؟ جواب دینا اس لئے مشکل ہوگا کہ اخلاقی وجود کو بچانے کی بوڑھی جبلت اور اس کی جگہ کوئی نیا سافٹ وئر ڈال لینے کی ضرورت کے درمیان ایک زور دار ٹونٹی ٹونٹی میر ے ہی ذہن کی گراؤنڈ میں کھیلا جا رہا ہے۔ خوش قسمتی سے میچ ریفری ہیں ناول نگار جیمز ہلٹن کے مسٹر چپس نامی اسکول ٹیچر جنہوں نے دو دفعہ بڑا عہدہ عارضی طور پہ سنبھالا تو سہی۔ مگر مستقل ہیڈ ماسٹر بننے کی پیشکش یہ کہہ کر رد کردی کہ ”میں تو ویسا ہی ہوں جیسے نئے زمانے کے میجر اور کرنل کہ عالمی جنگ چھڑی اور ان کا داؤ لگ گیا، ورنہ اندر سے تو میں ’رینکر ہی ہوں‘‘۔ یہ سنتے ہی ایک نوجوان ہیڈ ماسٹر کا مستقل تقرر ہو گیا اور سکول کے لیٹر ہیڈ پہ مسٹر چپس کے نام کے ساتھ ’قائمقام ہیڈ ماسٹر‘ کے دو لفظ ہمیشہ کے لئے کاٹ دئے گئے۔

مزید : رائے /کالم


loading...