12ربیع الاول کا پیغام

12ربیع الاول کا پیغام

  



پاکستان بھر میں آج یوم عید میلاد النبیؐ منایا جا رہا ہے،جلسے ہوں گے،جلوس نکالے جائیں گے۔ نعت خوان اور قوال اپنے اپنے انداز میں نعتوں کے نذرانے پیش کریں گے، ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو ہر سال یہ دن اسی جوش وخروش سے منایا جاتا ہے،اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور عقیدت کے مظاہرے دیکھنے میں آتے ہیں۔جگہ جگہ دستر خوان سجائے جاتے، کھانے کھلائے جاتے،قمقمے لگائے جاتے اور درود و سلام کی صداؤں سے فضائیں گونج اٹھتی ہیں۔علمائے کرام کے وعظ کانوں میں رَس گھولتے ہیں، تو ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر بھی عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منظر چھائے نظر آتے ہیں۔تاریخی، شرعی اور مسلکی بحثوں سے قطع نظر اس دن کی عظمت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ نبی ئ رحمتؐ اس دن اِس دُنیا میں تشریف لائے، اور اندھیروں میں ڈھلے ہوئے انسانوں کو روشنی عطا ہوئی۔انسانوں کی توقیر بحال ہوئی، اور برابری اور بھائی چارے کا بھولا ہوا سبق ایک بار پھر اس طرح یاد کرایا گیا کہ اس کے نقوش آج تک مدھم نہیں پڑ سکے۔

پاکستان دُنیا کا واحد ملک ہے، جو اسلام کے نام پر تخلیق کیا گیا۔برصغیر کے مسلمان اکثریت کے علاقوں نے اپنے حصے کو الگ ملک کی شکل دینے کا مطالبہ اسی لیے کیا تھا کہ غیر مسلم اکثریت کے ملک بھارت میں وہ اپنی مرضی کا معاشرہ تخلیق نہیں کر سکتے تھے۔ اپنے نظریاتی تشخص کے اعتبار سے کئی اہل ِ دانش اسرائیل کو پاکستان سے مشابہ قرار دیتے ہیں کہ گزشتہ ایک سو سال میں نظریے کے نام پر دو ہی ممالک وجود میں آئے ہیں لیکن اگر حقائق کا جائزہ لیں تو یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ دونوں میں بڑا بنیادی اور جوہری فرق ہے۔پاکستان ایک سیاسی جماعت کے زیر قیادت کھلے مطالبے کے ذریعے وجود میں آیا۔اس کے پیچھے ووٹ کی طاقت تھی، اس کی تخلیق میں کوئی دھونس، دھاندلی یا سازش کارفرما نہیں تھی۔صدیوں سے آباد مسلمانوں نے اپنے اکثریتی علاقوں میں اپنا آزاد پرچم لہرایا،جبکہ اسرائیل عرب علاقے پر ایک دوسری قوم کو مسلط کر کے تخلیق کیا گیا۔اس کے پیچھے سامراجی طاقتوں کی سازشیں اور مخصوص ہتھکنڈے کارفرما تھے۔یہ رات کے اندھیروں کی پیداوار تھا، جبکہ پاکستان کا ظہور مثالِ آفتاب ہوا۔عالمی افق نے اس کی ضیا پاشی کی شہادت دی۔ پاکستان واحد نظریاتی ریاست تھی،جو جمہوری ذریعے سے وجود میں آئی، اور اس کے بانی قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اسے اسلام کی تجربہ گاہ قرار دیا کہ اسلام کے بنیادی اصولوں کی روشنی میں ایک ایسی ریاست قائم کر کے دکھائی جائے، جہاں وہ انسانی حقوق بھی ہوں،جن پر مغرب ناز کرتا ہے، اور وہ معاشی مشاورت بھی ہو جن پر کیمونسٹ ممالک فخر محسوس کرتے تھے۔ آج بھی ہمارے وزیراعظم عمران خان ”مدینہ کی ریاست“ قائم کرنے کو اپنا مطمعئ نظر قرار دیتے ہیں،کہ اس میں وہ سب کچھ تھا، جس کی آج کے انسان کو……مادی، اخلاقی، سیاسی اور سماجی طور پر…… ضرورت ہے۔وزیراعظم عمران خان سے استعفا طلب کرنے کے لیے مولانا فضل الرحمن اپنے ہزاروں افراد کو لے کر اسلام آباد پہنچے ہوئے ہیں، اپنے احتجاجی دھرنے کو آج انہوں نے ایک بڑی سیرت کانفرنس میں تبدیل کرکے گھنٹوں ذکرِ حبیب ﷺ کی نذر کئے۔گویا وزیراعظم سے استعفے کے طالب بھی آج مدینے ہی کی ریاست کے تذکرے سے ماحول کو معطرکر رہے ہیں۔

سیاسی اور انتظامی معاملات اور ترجیحات کو اگر ایک طرف رکھ دیں تو بھی سماجی، اخلاقی اور معاشی امور میں اتفاق رائے پیدا کرنا مشکل نہیں ہو سکتا۔ذرائع ابلاغ سنسر کی دہائی دیتے ہیں تو صرف سیاسی پسند، ناپسند کے حوالے سے اخلاقی اقدار کا مذاق اڑانے کی انہیں کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے، نہ برسر زمین، نہ زیر زمین کام کرنے والے عناصر کی دلچسپی ہے،اس بے راہ روی کا کوئی نوٹس لینے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کا دھرنا سیاسی طور پر ان کے قد کاٹھ میں اضافے کا باعث بنا ہوا ہے،لیکن اس کے شرکا کا کوئی مطالبہ بھی سماجی برابری بروئے کار لانے اور اخلاقی اقدار کی حفاظت کے حوالے سے نہیں ہے۔

12ربیع الاول کی تقریبات مبارک ہیں۔لیکن بات زبانی جمع خرچ سے آگے بھی تو بڑھنی چاہیے۔جو علم عمل کے سانچے میں نہ ڈھل سکے،اس سے خدا کی پناہ مانگنا لازم ہے۔12ربیع الاول کی آواز ہر دن کے لیے ہے،ہر زمانے کے لیے ہے۔اسے سنئے اور اپنے آپ کو بدل ڈالیے،دوسروں کی اصلاح کرنے سے پہلے اپنی اصلاح کر گذریے۔مدینے کی ریاست کی تعمیر کے یہ خشت اول ہے۔یہی 12ربیع الاول کا پیغام ہے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...