جمہوری انداز بھی اپنائیں!

جمہوری انداز بھی اپنائیں!

  



پارلیمانی جمہوریت، جس کا بہت چرچا ہے، سبھی اس کا نام لیتے ہیں،ہر دور میں یہ خطرے میں رہی اور اسے مضبوط بھی کیا جاتا رہا ہے،فرق ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ جو اقتدار میں ہوں ان کے لئے جمہوریت اپنی اور مضبوط ہوتی ہے اور جو حزبِ اختلاف کی بنچوں پر بیٹھیں وہ ”جمہوریت خطرے میں ہے“ کا نعرہ لگاتے رہتے ہیں،آج کل بھی یہی چل رہا ہے۔ حزبِ اختلاف والے(بلا لحاظ) جمہوریت کی بات کرتے تو حکومتی کارکردگی اور گورنس کو نشانہ بنا کر ”جمہوریت خطرے میں ہے“ کا نعرہ ہی لگا رہے ہیں،حالانکہ حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف اسی گاڑی کے دو پہیئے ہیں اگر یہ ساتھ ساتھ چلیں تو گاڑی چلتی ہے، ورنہ90،93اور پھر97ہو جاتا ہے، جمہوریت کے استحکام کے لئے ضروری ہے کہ جمہوری مزاج اپنایا جائے۔ایک دوسرے کو دشمن جاننے کی بجائے حریف جانا جائے اور وہ بھی اس حد تک کہ مفاد عامہ میں اعتراض کیا جائے،ورنہ ہر دو کے درمیان تعاون لازم ہے اور ان کو کرنا چاہئے۔ہمارے ملک میں بوجوہ یہ کلچر ابھی تک بھی قائم نہیں ہو سکا،حالانکہ یہ تیسرا انتخابی عمل سے آیا دور ہے، اس سے پہلے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) اپنی اپنی مدت پوری کر گئی تھیں،ان ادوار میں بھی شور، ہنگامہ اور اعتراض و الزامات ہوتے تھے،مگر ایسی صورت نہیں تھی،جو اب ہے۔قومی اسمبلی کا رواں اجلاس شروع ہوتے ہی یہ احساس ہوا کہ اس دور میں اب تک جو ہو رہا ہے،اس میں کوئی فرق نہیں پڑا کہ پہلے ہی روز حزبِ اقتدار نے ڈپٹی سپیکر کی صدارت میں صدر کی طرف سے حکومت کی سفارش پر جاری کئے گئے آٹھ آرڈیننسوں سمیت تین مسودہ قوانین بھی منظور کر لئے اور اس وقت موجود عددی اکثریت کا خوب فائدہ اٹھایا،آرڈیننسوں میں نیب قانون میں ترمیم کا بھی آرڈیننس ہے، جس کے مطابق اب نیب کے ملزم کو جس کے خلاف پانچ کروڑ روپے سے زیادہ کا الزام ہو گا،مراعات نہیں ملیں گی اور وہ محض سی کلاس کا ملزم یا سزا کی صورت میں مجرم ہو گا۔ حزبِ اختلاف نے ہنگامہ کیا اور اب ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دی ہے۔یہ سب عمل غصے اور جوش والے ہیں،جو جمہوریت کا تقاضہ نہیں،ہر دو فریقوں کو جمہوری اساس کا خیال رکھنا ہو گا اور باہمی ”تعلقات کار“ بنانا ہوں گے،ورنہ یہ کھیل بھی ”گند“ ہی میں تبدیل ہو گا، حزبِ اختلاف کو اپنے پتے سنبھال کر کھیلنا ہوں گے،موجودہ صورت میں عدم اعتماد صرف غصے کا اظہار ہے،یہ منظور نہیں ہو سکے گی کہ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف اور حلیف مل کر واضح اکثریت میں ہیں،لہٰذا جمہوری مزاج بنائیں،زیادہ ذمہ داری حزبِ اقتدار کی ہے…… ورنہ ؔ”لڑتے لڑتے ہو گئی گم،ایک کی چونچ اور ایک کی دم“والا مسئلہ ہو گا۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...